’نظام عدل کی تباہی، جج، وکلا اور حکومت ذمہ دار‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چیف جسٹس جواد ایس حواجہ کا کہنا تھا کہ آج سے سو سال قبل مقدموں کا اوسط دورانیہ صرف ایک سال تھا

حال ہی میں سبکدوش ہونے والے پاکستان کے چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا ہے کہ نظامِ عدل کی تباہی میں جہاں ججوں اور وکیلوں کا ہاتھ ہے وہیں ساتھ ساتھ اِس کی ذمہ دار حکومت بھی ہے۔

بدھ کے روز اپنے اعزاز میں دیے گئے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ دیوانی عدالتوں میں مقدمات کا لا متناہی سلسلہ صرف اس لیے آ رہا ہے کیونکہ سرکاری اور نیم سرکاری ادارے شہریوں کو ان کا حق دینے سے قاصر ہیں۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ اگر فوجداری مقدمات میں معصوموں کو سزا اور مجرموں کو ڈھیل مل رہی ہے تو اِس کی ذمہ داری زیادہ تر پولیس اور استغاثہ کے محکموں پر عائد ہوتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ چار دہائیوں میں رائج نظام میں بہتری نہیں بلکہ بتدریج انحطاط واقع ہوا ہے۔ ان اداروں کو اور خود معاشرے اور سماج کو شعوری طور پر اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔

سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس جواد ایس حواجہ کا کہنا تھا کہ آج سے سو سال قبل مقدموں کا اوسط دورانیہ صرف ایک سال تھا۔

اس عرصے میں مقدمہ پہلی عدالت سے لے کر آخری عدالت تک پہنچ جاتا تھا۔ آج اسی کارروائی میں 25 سال لگتے ہیں اور شائد دوسری نسل ان مقدمات کا فیصلہ سنتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاست کے تمام اداروں کو یہ برملا اعتراف کرنا چاہیے کہ جس ’سستے اور فوری انصاف‘ کا وعدہ ہمارا آئین عوام سے کرتا ہے، ہم اُس وعدہ کو نبھانے میں فی الحال کامیاب نہیں ہوئے، اس لیے دیکھنے کی بات یہ ہے کہ موجودہ نظام کی ناکامی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور اِس نظام کی خامیوں کو کس طرح دور کیا جا سکتا۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ ججز کے ضابطہ اخلاق کی ایک اہم شق میں یہ لکھا ہے کہ جج اپنے زیرِ سماعت مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے جو بھی اقدامات لازم ہیں، اُنھیں اُٹھانے سے گریز نہیں کرےگا۔

اُنھوں نے کہا کہ جو جج اس سے تغافل برتے گا تو وہ اپنے کار ہائے منصبی کی ادائیگی سے وفا دار نہیں اور یہ تغافل جج میں بہت بڑی خامی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے 2007 میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس بھیجا تھا

ان کے مطابق ضابطہ اخلاق کے اس فرض کی بجا آوری جج اکیلا نہیں کر سکتا اس کام کے لیے بہر حال ہمارے نظامِ عدل میں وکلا کی نیک نیتی، تن دہی اور فرض شناسی لازمی ہے۔

سپریم کورٹ کی طرف سے از خود نوٹس لینے کے اختیارات کا دفاع کرتے ہوئے جسٹس ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ اس سے پاکستانی معاشرے میں مثبت نتائج نکلے ہیں۔

واضح رہے کہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے سنہ 2007 میں اس وقت اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا جب مارچ سنہ 2007 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس بھیجا تھا۔ جواد ایس خواجہ اُس وقت لاہور ہائی کورٹ کے جج تھے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ سپریم کورٹ کے اس بینچ کا بھی حصہ رہے ہیں جنھوں نے صدر پرویز مشرف کی طرف سے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ، قومی مصالحتی آرڈینس اور سابق فوجی صدر کے خلاف آئین کے ارٹیکل چھ کے تحت مقدمہ درج کرنے کے فیصلے سنائے تھے۔

اُدھر پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے الزام عائد کیا ہے کہ جسٹس جواد ایس خواجہ کا رویہ وکلاء کے ساتھ تعصبانہ ہے اس لیے اُن کے اعزاز میں کوئی تقریب منعقد نہیں کی گئی۔

نامزد چیف جسٹس انور ظہیر جمالی جمعرات کو اپنے عہدے کا حلف اُٹھائیں گے اور وہ ایک سال سے زائد عرصے تک اس عہدے پر فائض رہیں گے۔

اسی بارے میں