کراچی:’حالیہ حملوں‘میں ایک جیسا اسلحہ استعمال ہوا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کو رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں دو سال مکمل ہو چکے ہیں

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں حکام کے مطابق جیو نیوز کی براہ راست کوریج کرنے والی ڈی ایس این جی گاڑی پر فائرنگ میں استعمال ہونے والا اسلحہ اس سے قبل پولیس اہلکاروں پر حملے میں بھی استعمال کیا گیا تھا۔

ڈی آئی جی منیر شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ گلشن اقبال میں دو ٹریفک اہلکاروں اور جہانگیر پارک میں دو پولیس اہلکاروں کے قتل میں جو اسلحہ استعمال کیا گیا وہ ہی منگل کی شب جیو نیوز کی وین پر فائرنگ میں استعمال ہوا۔

انھوں نے کہا کہ جائے وقوعہ سے ملنے والے گولیوں کے خولوں کی فورنسک تجزیے میں یہ بات سامنے آئی ہے۔

واضح رہے کہ کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کو رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں دو سال مکمل ہو چکے ہیں۔

سنیچر کو ایڈیشنل آئی جی مشتاق مہر نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ اس عرصے میں ساڑھے 14 ہزار سے زائد ملزم گرفتار اور 1172 ہلاک کیے گئے اور شہر میں 70 فیصد امن بحال ہو چکا ہے۔

رواں ہفتے شہر میں ٹارگٹ کلنگز کے ہائی پروفائل واقعات کے بعد ایک دم دوبارہ امن کی بحالی پر بحث شروع ہو چکی ہے۔

پیر کی شب کورنگی میں نامور سماجی ورکر سبین محمود کے ڈرائیور غلام عباس کے قتل کا واقعہ پیش آیا، اگلے روز یعنی منگل کو بہادر آباد میں جیو نیوز کی وین پر حملہ کیا گیا، جس میں انجینیئر ارشد علی جعفری ہلاک ہوگئے۔

بدھ کی دوپہر کو نیو کراچی میں فائرنگ کرکے سینیئر صحافی آفتاب عالم کو ہلاک کیا گیا تھوڑی دیر بعد اجمیر نگری تھانے کی حدود میں دو افراد عمران اور وقار کو بھی گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا جو اہل سنت و الجماعت کے ہمدرد تھے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دونوں واقعات میں ایک ہی اسلحہ استعمال کیا گیا۔

ایک سینیئر پولیس افسر کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات کے محرکات سیاسی بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ بعض عناصر ٹارگٹڈ آپریشن کی کارکردگی کو سوالیہ بنانے کے علاوہ اپنی موجودگی کا بھی احساس دلانا چاہتے ہیں۔

ایک پولیس افسر کے مطابق پولیس، صحافی اور مذہبی جماعت الگ الگ شعبے ہیں لیکن ان کے کارکنوں کا قتل ایک ہی مقصد کو عیاں کرتا ہے کہ شہر میں عدم استحکام پیدا ہو۔

Image caption ایک سینیئر پولیس افسر کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات کے محرکات سیاسی بھی ہو سکتے ہیں

وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ صحافیوں پر حملہ آزادی و اظہار اور کراچی کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے جسے کسی بھی صورت میں کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں قیام امن میں حکومت کے ساتھ میڈیا کا بھی کلیدی کردار رہا ہے اور یہی سبب ہے کے صحافیوں اور میڈیا میں کام کرنےٍ والے ورکروں کو دہشت گرد نشانہ بنا رہے ہیں۔

دریں اثنا ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن سید امین الحق نے جیو نیوز کی سیٹلائٹ وین پر فائرنگ کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ آزادی اظہار سب کا حق ہے اور اس پر قدغن لگانے والے سخت محاسبے اور سزا کے مستحق ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کہاکہ شہر میں دہشت گردی ، سٹریٹ کرائمز اور قتل وغارت گری کے واقعات روزانہ کی بنیاد پر ہو رہے ہیں اس کے باوجود شہر میں قیام کے جھوٹے دعوے کیے جارہے ہیں، جیو کی سیٹلائٹ وین پر حملے سے ثابت ہوگیا ہے کراچی میں امن و امان ناپید ہے اور انسانی زندگیاں دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہیں۔

اسی بارے میں