نجی سکولوں کا نگراں ادارہ: چیئرمین کی تقرری کا انتظار

Image caption پاکستان میں نجی سکولوں کے طلبا اور اُن کے والدین ان دنوں فیسوں میں اضافے پر احتجاج کر رہے ہیں

پاکستان میں مسابقتی کمیشن نے نجی سکولوں کی جانب سے فیسوں میں مبینہ بے جا اضافے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب حکومت کی جانب سے قائم کردہ نگران ادارے پرائیویٹ ایجوکیشن انسٹی ٹیوشن ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین کے تقرر کے حوالے سے وفاقی حکومت کے مختلف اداروں میں خطوط کا تبادلہ تک ہی کام ہو رہا ہے اور اس اہم منصب پر تعیناتی کے آثار مستقبل قریب میں نظر نہیں آتے۔

مسابقتی کمیشن نے کومٹیشن ایکٹ 2010 کے سیکشن 3 اور 4 کے تحت اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔

سیکشن 3 اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ کہیں مارکیٹ میں نمایاں ادارے اپنی سبقت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے قیمتیں متعین تو نہیں کر رہے یا اُن پر اثر انداز تو نہیں ہو رہے؟

سیکشن 4 اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ کہیں مارکیٹ کے نمایاں ادارے یا اجارہ داری رکھنے والے ادارے قیمتوں کے تعین میں گٹھ جوڑ تو نہیں کر رہے؟

پرائیویٹ ایجوکیشن انسٹی ٹیوشن ریگولیٹری اتھارٹی جو وفاقی حکومت کے کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن کے تحت آتی ہے کہ ترجمان ایڈیشنل سیکریٹری قیصر مجید ملک نے کہا کہ ‘پرائیویٹ ایجوکیشن انسٹی ٹیوشن ریگولیٹری اتھارٹی کے دونوں ممبران تو موجود ہیں مگر چیئرمین کی تقرری کے قوانین میں بعض سقم ہونے کی وجہ سے ابھی تک نہیں ہو سکا۔ ہماری ڈویژن نے تین بار اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو اس بارے میں لکھا ہے کہ آپ کوئی باقاعدہ چیئرمین مقرر کریں کیونکہ جب تک اس اتھارٹی کی تکمیل نہیں ہوتی تب تک بہت ساری چیزیں پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتیں۔‘

قیصر مجید ملک نے مزید کہا کہ ’اس وجہ سے ہمارا دفتر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا کیونکہ اسے عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہم ایک مہینے کے اندر تمام متعلقہ لوگوں کے ساتھ مل کر چیئرمین کے تقرر کے قوانین میں سقم کو دور کر سکیں گے۔‘

Image caption کراچی میں نجی سکولوں کے والدین نے ریلی نکالی اور احتجاج کیا

فیسوں میں اضافے کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ ’فیس کے حوالے سے تفصیلی قوانین ابھی اس لیے بنائے نہیں جا سکے کیونکہ پرائیویٹ ایجوکیشن انسٹی ٹیوشن ریگولیٹری اتھارٹی ہی مکمل نہیں ہے۔ تاہم ہم نے اس حوالے سے دو اجلاس منعقد کیے ہیں جن میں سکولوں کی انتظامیہ کے نمائندے بھی موجود تھے۔‘

فیسوں میں اضافے کے حوالے سے قانون سازی پر انہوں نے کہا کہ ’ہم ریگولیٹ کرنے کے حوالے سے تجاویز اکٹھی کر رہے ہیں جن میں گرمیوں کی چھٹیوں میں فیسوں کی وصولی پر پابندی اور باقاعدہ فیسوں میں بھی ایک حد کا تعین کیا جانے کی تجویز ہے۔‘

قیصر مجید ملک نے کہا ان سارے معاملے میں انھیں امید ہے کہ اسٹیبلیشمنٹ ڈویژن ہفتے دس دن میں کوئی عبوری چیئرمین تعینات کریں گے۔

مسابقتی کمیشن آف پاکستان نےکہا ہے کہ ان تحقیقات کی تکمیل کے بعد اگر کوئی ادارہ کا اس بات کا مجرم پایا گیا تو ان پر جرمانے عائد کیے جائیں گے۔

مسابقتی کمیشن نے والدین اور عام پبلک سے درخواست کی ہے کہ وہ اگر اس حوالے سے کوئی معلومات رکھتے ہیں تو کمیشن کو مطلع کریں۔

اسی بارے میں