وزیرستان کی تاجر برادری کا نقصانات کے ازالے کا مطالبہ

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں کروڑوں روپے کے نقصانات کا شکار ہونے والی وزیرستان کی تاجر برادری نے کہا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے ان کے نقصانات کا فوری ازالہ نہیں کیا گیا تو وہ نہ صرف اپنا احتجاج جاری رکھیں گے بلکہ اس کا دائرہ دیگر شہروں تک بھی پھیلا سکتے ہیں۔

شمالی وزیرستان کی تاجر برادری پر مشتمل ایک نمائندہ جرگہ نے بدھ کو گورنر ہاؤس پشاور میں گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان سے ملاقات کی۔

جرگے کی سربراہی جمعیت علما اسلام (س) کے مرکزی رہنما مولانا یوسف شاہ کر رہے تھے جبکہ اس موقع پر فاٹا سیکریٹریٹ کے دیگر اعلٰی حکام بھی موجود تھے۔

جرگے میں شامل شمالی وزیرستان کے تاجروں کے ایک نمائندے شیر ولی خان نے بی بی سی کو بتایا کہ جرگے نےگورنر کو شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں سے ہونے والے نقصانات سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ گورنر نے انھیں یقین دلایا کہ بہت جلد ایک سروے ٹیم وزیرستان بھیجی جائے گی تاکہ نقصانات کے ضمن میں مفصل رپورٹ تیار کی جاسکے۔

شیر ولی خان کے مطابق سردار مہتاب احمد خان نے بھی کہا کہ انکوائری کے بعد تاجروں کے تمام جائز مسائل حل کیے جائیں گے اور اگر ضرورت پڑی تو صدر اور وزیراعظم سے تاجروں کے نمائندوں کی ملاقات بھی کرائی جائے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ شمالی وزیرستان کے علاقوں میرانشاہ، میرعلی اور درپہ خیل میں تقریباً 30 ہزار کے قریب دکانیں قائم تھیں اور جب آپریشن ضرب عضب شروع ہو ا تو یہ تمام دکانیں سامان سے بھری ہوئی تھیں۔

شیر ولی خان نے دعوی کیا کہ آپریشن کی وجہ سے وزیرستان کے تاجروں کا ایک کھرب اور سات ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بیشتر تاجروں نے قرضے لیے ہوئے ہیں اور اگر حکومت کی جانب سے ان کا نقصان پورا نہیں کیا گیا تو وہ کہاں سے یہ لاکھوں کروڑوں روپے کے قرضے ادا کریں گے؟

انھوں نے کہا کہ وہ گورنر کی یقین دہانیوں سے مطمین ہیں لیکن وہ اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے اور یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ان کے نقصانات پورے نہیں کر دیے جاتے۔

جرگے میں شمالی وزیرستان کے عمائدین ، مشران اور بنوں چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹڑی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

خیال رہے کہ شمالی وزیرستان سے بے گھر ہونے والے تاجر برادری گذشتہ کئی ہفتوں سے سراپا احتجاج ہے اور اس سلسلے میں ان کی جانب سے بنوں میں متعدد مظاہرے اور جرگوں کا بھی انقعاد کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں