پولیو کے لیے قانون سازی صرف دارالحکومت تک محدود

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ برس تین سو سے زائد پولیو کے کیسز کے مقابلے میں اس سال پولیو کے فل الحال 32 کیس سامنے آئے ہیں

پاکستان میں پولیو کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت کی جانب سے ایک مـجوزہ بل پر آج کل مشاورت جاری ہے۔ اسلام آباد تک محدود اس بل میں پولیو کے قطرے نہ پلانے والے والدین کے لیے سزائیں اور اسے پیدائش کے سرٹیفیکیٹ اور سکول میں داخلے کے لیے لازمی قرار دینے جیسی تجاویز شامل ہیں۔

بل متارف کروانے والے بھی اس بات سے متفق ہیں کہ اس میں کافی بہتری کی گنجائش ہے۔

پاکستان میں گذشتہ برس تین سو سے زائد پولیو کے کیسز کے مقابلے میں اس سال پولیو کے فل الحال 32 کیس سامنے آئے ہیں۔ اس سے حکومت اور پولیو کے خاتمے کے لیے متحرک کارکن تو بہت خوش اور مطمئن ہیں لیکن انھیں معلوم ہے کہ اس اپاہج کر دینے والی بیماری کے خلاف جنگ ابھی مکمل طور پر جیتی نہیں گئی ہے۔

اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد تو جیسے وفاقی حکومت کا دائراہ اختیار اسلام آباد تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ صحت اور تعلیم جیسی وزارتیں صوبوں کو دیے جانے کے بعد ناصرف وزارت داخلہ سمیت دیگر وفاقی وزارتیں کچھ کرنے میں بعض اوقات بے بس دکھائی دیتی ہیں۔اسی طرح پولیو ہے ملک کے ہر صوبے کا درد سر ہے لیکن اس پر قابو پانے کے لیے وفاق نے قانون سازی کے لیے پہل کی ہے۔

یہ کوشش یقینا قابل ستائش ہے لیکن کیا اس شہر کے20 سے 25 لاکھ شہریوں پر اس کے اطلاق سے مسئلے کا حل نکل آئے گا۔

صحت اب صوبائی معاملہ ہے لہذا پولیو پر قانو پانے کے لیے وزیر اعظم کی فوکل پرسن سینیٹر عائشہ رضا فاروق کہتی ہیں کہ انھوں نے پولیو کے بارے میں قانون سازی کا مسودہ صوبوں سے منگوایا ہے تاکہ بہتر قانون بنایا جا سکے۔

تاہم ان کے پاس بھی اس بات کا جواب نہیں تھا کہ اس میں قبائلی علاقوں کو کیوں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ آخری اطلاعات تک قبائلی علاقے اب تک وفاقی کے زیر انتظام ہی ہیں۔ وہاں کے لیے وفاقی حکومت ترجیہیٰ بنیادوں پر اس طرز کا قانون بنا سکتی ہے۔ خیبر پختونخوا کے علاوہ قبائلی علاقوں سے سب سے زیادہ پولیو کیس سامنے آ رہے ہیں لیکن لگتا ہے کہ وہاں کے حالات کی بہتری تک قبائلی علاقے وفاق کے لیے وجود ہی ابھی نہیں رکھتے۔

صدر مملکت ممنون حسین نے بھی گذشتہ دنوں قبائلی علاقوں میں پولیو کے خاتمے کو اپنی ترجیح قرار دیا تھا۔ وہ کیوں اس پر خاموش ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption یہ کوشش یقینا قابل ستائش ہے لیکن کیا اس شہر کے20 سے 25 لاکھ شہریوں پر اس کے اطلاق سے مسئلے کا حل نکل آئے گا

مجوزہ بل کے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ والدین کو امیونائزیشن کارڈ کو شناختی کارڈ کی طرز پر لازم قرار دینے کی تجویز ہے تو دوسرے حصے میں بچوں کو پولیو کے قطرے نہ پلوانے والے والدین کے لیے قید اور جرمانے کی سزائیں بھی رکھی گئی ہیں

بل کی خالق سینیٹر عائشہ کا کہنا تھا اس بل کا مقصد رویے تبدیل کرنا ہے۔

بل میں سزائیں مزید سخت کرنے کی بھی تجویز سامنے آئی لیکن ایک مشورہ یہ بھی دیا گیا ہے کہ اس میں کمیونٹی سروس کو بھی شامل کیا جائے۔

پاکستان میں کڑی سے کڑی سزائیں دینے کا رجحان کافی پرانا ہے لیکن اس سے کتنا فائدہ ہوتا ہے یہ ایک الگ قابل بحث بات ہے۔ کسی کو سزا کے طور پر اگر کسی پولیو سے اپاہج ہونے والے شخص کے ساتھ کچھ وقت گزارنے اور اس کی دیکھ بھال کرنے کی ذمہ داری دی جائے تو اس سے یقیناً اس شخص کی تنگ نظری ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

صحت کے موضوع پر سرگرم ایک نجی تنظیم کے سربراہ وجہی اختر کہتے ہیں کہ ہمیں بطور ایک اسلامی معاشرے کے اپنے گریبان میں دیکھنا ہوگا کہ ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں۔ ’ہم دعویٰ تو اسلامی ہونے کا کرتے ہیں لیکن اپنی اور اپنی بچوں کی زندگیوں کا خیال تک نہیں رکھ سکتے ہیں۔‘

بل ابھی مشاورت کے لیے موجود ہے اور حکومت کو یقین ہے کہ اس کی حتمی شکل زیادہ جامع اور موثر ہوگی۔ ماہرین صحت کے لیے رائے دینے کا یہی وقت ہے۔

اسی بارے میں