’کراچی میں پانچ ہزار کارخانوں کے لیے صرف 12 معائنہ کار‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے شہر کراچی کے علاقے بلدیہ میں ملبوسات تیار کرنے والے ایک کارخانے تین سال پہلے ہونے والی آتشزدگی کو ملکی تاریخ کا بدترین صنعتی حادثہ قرار دیا جاتا ہے جس میں 250 سے زیادہ مزدور ہلاک ہوگئے تھے۔

مزدور تنظیمیں کہتی ہیں کہ اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی وجہ کارخانے میں مزدوروں کے تحفظ کے ناقص انتظامات تھے۔

اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں ہر روز 6300 جبکہ ہر سال 23 لاکھ سے زیادہ افراد کام کی جگہوں پر نامناسب حفاظتی اقدامات کے سبب ہلاک ہوجاتے ہیں۔

مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے پائیلر کے مطابق کراچی میں بلدیہ کی فیکٹری جیسے حادثات اور ناقص انتظامات کے الزامات کے باوجود آج تین سال بعد بھی شہر کے کارخانوں کی صورتحال میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔

ادارے سے منسلک تحقیق کار زینیا شوکت بتاتی ہیں کہ ’ہمیں شکر ادا کرنا چاہیے کہ بلدیہ جیسا کوئی اور بڑا واقعہ نہیں ہوا لیکن اس طرح کے واقعات کم نہیں ہوئے ہیں۔ نہ ہی بلدیہ کے واقعے کے بعد لیبر انسپیکشن سسٹم کو بہتر بنانے اور فیکٹریوں کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔‘

انہوں نے کہا ’عموماً فیکٹریوں میں ہنگامی صورتحال میں باہر نکلنے کے کوئی راستے نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ حادثوں سے بچنے اور نمٹنے کے لیے مزدوروں کی کوئی تربیت نہیں کی جاتی۔‘

بلدیہ کی فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد اور خصوصاً پاکستان کو یورپی یونین کی جانب سے جی پی ایس پلس سٹیٹس نوازنے سے قبل حکومت اور فیکٹریوں کے مالکان پر بین الاقوامی دباؤ رہا کہ وہ اپنے کارخانوں میں مزدوروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ unknown
Image caption بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں آتشزدگی کو ملکی تاریخ کا بدترین صنعتی حادثہ قرار دیا جاتا ہے

انھی اقدامات کے تحت حکومت نے معائنہ کاروں کی تعداد اور جُرمانے کی رقم بڑھا دی۔

گذشتہ تین سالوں میں صوبائی محکمہ محنت نے فیکٹریوں میں لیبر قوانین کی خلاف ورزی کے 290 مقدمات لیبر کورٹس میں بھیجے ہیں۔

تاہم حکومتی اعدادو شمار کے مطابق کراچی میں پانچ ہزار سے زیادہ کارخانے رجسٹرڈ ہیں اور ان کے معائنے کے لیے محکمے کے پاس صرف 12 انسپیکٹرز دستیاب ہیں۔

محکمہ محنت کے ڈائریکٹر گلفام علی نبی میمن کے مطابق ’ایک انسپکٹر ایک دن میں بارہ سے پندرہ فیکٹریوں کا دورہ کر لیتا ہے۔‘

فیکٹریوں میں مزدوروں کے تحفظ کے لیے اگر مالکان نے ضروری اقدامات نہ کیے ہوں تو صرف دو سو سے پانچ سو روپے جُرمانہ کیا جاتا تھا جسے حال ہی میں بڑھا کر ڈیڑھ سے دو ہزار روپے کیا گیا ہے۔

گلفام نبی میمن نے بتایا ’ہم فیکٹریز ایکٹ 1934 کے تحت کام کرتے ہیں۔ جس میں جُرمانے کی حد دو سو سے پانچ سو تک ہے۔ بہت کم جُرمانہ ہے لیکن اٹھارہویں ترمیم کے بعد تمام صوبوں کو ایک موقع ملا ہے اور ہم نے جتنے بھی پرانے قوانین ہیں بشمول فیکٹریزایکٹ، 17 قوانین کو اپ ڈیٹ کردیا ہے اور جُرمانے کی رقم بڑھا دی ہے۔‘

اسی بارے میں