انگریزی کی جگہ اردو کو اپنانا کتنا آسان؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یہ بھی سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا زبان کی اس تبدیلی کا عمل تسلی بخش ہو بھی سکے گا؟

جہاں کئی اقوام عالم انگریزی زبان کو فروغ دے رہی ہیں، سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد کہ انگریزی کی جگہ اردو کو سرکاری زبان کی جگہ دی جائے، پاکستان مخالف سمت چل پڑا ہے۔

اردو ایک خوبصورت زبان ہے، اس میں ما فی الضمیر بیان کرنے کی بے انتہا صلاحیت ہے، اور گزشتہ دو تین صدیوں میں بر صغیر ہند کا بہترین ادب اس زبان میں تخلیق کیا گیا۔ پاکستان میں کئی لوگ یہ زبان بولتے ہیں، خاص کر بڑے شہروں میں۔ مگر پاکستان کا کوئی بھی خطہ خاص طور پر ایسا نہیں کہا جا سکتا ہے جسے اردو زبان بولنے والوں کا خطہ کہا جائے۔

اس کے علاوہ اردو زبان پاکستان کے پہلے پہلے حکمرانوں کی اس متنازع خواہش کا شکار رہی جس کے تحت انھوں نے انتظامی، سیاسی اور لسانی یکسانیت ملک کی مقامی ثقافتوں پر مسلط کرنےکی کوشش کی جس کے نتیجے میں سیاسی دوریاں پیدا ہوئیں۔

کئی لوگوں کا یقین ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی داغ بیل اس وقت ڈال دی گئی تھی جب بانی پاکستان محمد علی جناح نے یہ اعلان کیا تھا کہ اردو مملکت کی سرکاری زبان ہوگی، اگرچہ مشرقی پاکستان میں بنگالی کو صوبائی زبان کے طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔

مشرقی پاکستان، جہاں پاکستانیوں کی اکثریت آباد تھی اور جو اس بات کی امید لگائے بیٹھے تھے کہ اس ملک کی دوسری سرکاری زبان بنگالی ہوگی، 1971 میں پاکستان سے علیحدہ ہوگئے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ زبان کے بارے میں ریاست کی اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔

’ڈیورنڈ لائن‘ کے نام سے ٹوئٹر پر موجود ایک پشتون نسل کے فرد نے یہ تبصرہ کیا کہ ’اردو اکثریت کی زبان نہیں ہے، اس کے باوجود یہ پاکستان کی قومی زبان ہے۔ لسانی معاملات میں بھی اقلیت کو اکثریت پر مسلط کردیا جاتا ہے۔‘ (افغانستان میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کو ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے)

نینا بلوچ نے ٹویٹ کی کہ ’اردو تو مہاجروں کی زبان ہے، اور یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ مہاجروں کی زبان کو قومی زبان کے طور پر اپنا لیا جائے۔‘

کئی لوگوں کو خدشہ ہے کہ اردو کے بارے میں اس فیصلے سے گزشتہ چند دہائیوں میں انگریزی زبان کو فروغ دینے کے لیے کی گئی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

پشاور میں انگریزی زبان کے اخبار ڈان کے قانونی امور کے نامہ نگار، وسیم احمد شاہ کہتے ہیں کہ ’یہ سنہ ساٹھ کی یا ستر کی دہائیاں نہیں ہیں جب انگریزی زبان صرف اعلیٰ کاروباری حلقوں یا سیاسی اشرفیہ کی میراث ہوتی تھی۔ آج کل تو تقریباً ہر ایک گاؤں میں کم از کم ایک نہ ایک انگلش میڈیم سکول ضرور کھلا ہوا ہے۔‘

پشاور یونیورسٹی کے بین الاقوامی تعلقات کے شعبے کے سربراہ، پروفیسر اعجاز خان کہتے ہیں کہ اردو زبان پر اس طرح کا اصرار شاید ملکی ترقی کو آہستہ آہستہ برباد کرڈالے اور ملک کو دنیا کی ترقی کی سمت سے 180 درجے کے زاویے سے مخالف سمت کی طرف دھکیل دے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ انگریزی سیکھنے کی خواہش کو کمزور کردے گا اور پھر غالباً آہستہ آہستہ ہمیں دنیا بھر سے جدا کر کے رکھ دے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ majinnah.blogspot.co.uk.
Image caption بانی پاکستان محمد علی جناح نے یہ اعلان کیا تھا کہ اردو مملکت کی سرکاری زبان ہوگی

یہ بھی سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا زبان کی اس تبدیلی کا عمل تسلی بخش ہو بھی سکے گا۔

صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع نوشہرہ کی بار کونسل میں وکالت کرنے والے محمد ہارون کہتے ہیں کہ ’اس وقت قوانین، عدالتی فیصلوں، ان کی تشریحات اور مطبوعات کے لاکھوں صفحات ہیں جنہیں وکلا مقدمات کی تیاری کے لیے ترتیب دیتے ہیں۔ مجھے ایسی کوئی انتظامی صلاحیت نظر نہیں آتی ہے جو ہماری ایک نسل کی زندگی میں اردو زبان کے الفاظ کا ذخیرہ تیار کرسکے، تمام مواد کا ترجمہ کر سکے، اور اصطلاحات کو مستعمل بنا سکے۔‘

سنہ 1990 سے بننے والی مختلف حکومتوں نے پانچ شعبوں یعنی حکومت، انتظامیہ، عدلیہ، افواج اور تعلیم، میں تکنیکی اصطلاحات کو اردو زبان میں بنانے یا ان کا ترجمہ کرنے کے لیے کئی ادارے قائم کیے۔

لاہور کے ایک مقامی ماہر لسانیات، ڈاکٹر طارق رحمان نے حال ہی میں ایک اخباری کالم میں لکھا ہے کہ سنہ 2005 میں ادارہ فروغ قومی زبان پاکستان کے سربراہ، پروفیسر فتح محمد ملک نے ایک رپورٹ میں کہا کہ اگر خواہش ہو تو اردو میں الفاظ کا اتنا ذخیرہ ہے کہ تمام سرکاری معاملات کو انگریزی سے اردو میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔

تاہم اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت کی مادری زبان اردو نہیں ہے، اور بہت ساری اردو اصطلاحات کے وہ معنی جو اردو کی جائے پیدائش والے علاقوں میں لیے جاتے ہیں وہ پاکستان کے موجودہ علاقوں میں سمجھے جانے والے معنی سے مختلف ہیں۔

جب دینی جماعتوں کے اتحاد پر مشتمل متحدہ مجلس عمل صوبہ خیبر پختونخوا میں سنہ 2002 میں اقتدار میں آئی تھی تو انھوں نے ادارہ فروغ قومی زبان پاکستان کی تجویز پر عملدرآمد کرتے ہوئے صوبائی انتظامیہ کو ’اسلامائز‘ کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس پر انگریزی زبان کے روزنامے ڈان کے پشاور میں ریزیڈینٹ ایڈیٹر، اسماعیل خان، کہتے ہیں متحدہ مجل عمل پانچ برس تک اقتدار میں رہی، مگر اردو کا نفاذ کیا ہوا، دفاتری معاملات میں مزید الجھاؤ پیدا ہوا اور جو اصطلاحات متعارف کرائی گئیں وہ ہنسی مذاق کے لیے لطیفوں کے حصہ بنیں۔

مثال کے طور پر ’آفس سرکلر‘ کی اصطلاح کا مطلب سب کو معلوم تھا، مگر اس کا اردو ترجمہ ’گشتی مراسلہ‘ نہ صرف عجیب سے سمجھا گیا بلکہ مذاق کا باعث بنا۔

اسماعیل خان کے بقول لفظ ’گشتی‘ کے لفظی معنی تو ہیں کوئی شے جو گشت کرتی ہو، حرکت میں ہو مگر ملک کے کئی حصوں میں اس لفظ سے مراد ایک طوائف یعنی ایک بدکردار عورت بھی لی جاتی ہے۔

اس طرح کابل کے دفتر سے جہاں دفتری کاموں کے لیے پشتو اور فارسی زبان استعمال کی جاتی ہے، ایک اہلکار نے پاکستان کے ایک عہدے چیف سیکریٹری کے لیے ’سٹار منشی‘ لکھا۔

اسماعیل خان کا کہنا ہے کہ جس چیف سیکریٹری کے لیے یہ ترجمہ لکھا گیا تھا وہ سخت سیخ پا ہوئے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ’منشی‘ ہندوستان یا افغانستان میں ایک باعزت عہدیدار سمجھا جاتا ہو مگر پاکستان میں اس سے مراد اس چھوٹے درجے کے اہلکار کی لی جاتی ہے جو کسی راشن ڈپو یا اینٹوں کے بھٹے پر کلرک یا تنخواہ ادا کرنے والی سطح کے کام سرانجام دیتا ہے۔

متحدہ مجلس عمل نے اپنی حکومت کے اختتام کے قریب سرکاری دفاتر میں اردو کے نفاذ کے عمل کو ختم کر دیا تھا۔

پروفیسر اعجاز خان کا کہنا ہے کہ قومی زبان کا معاملہ سن 1960 اور 1970 کی دہائیوں کی دنیا میں اہم ہوتا تھا کیونکہ اس وقت قومی ریاستیں اپنی حیثیت کو ایک منفرد انداز میں منوانے کی کوشش کرتی تھیں، تاہم آج حالات مختلف ہیں۔

اب انگریزی زبان کسی نو آبادیاتی کے حاکموں کی زبان نہیں بلکہ اب یہ ابلاغ عامہ کے لیے دنیا بھر میں رابطے کی زبان ہے۔

مگر آج بھی جس طرح ثقافتی یکسانیت کے حامی موجود ہیں اسی طرح اس خیال سے اختلاف رکھنے والے بھی موجود ہیں۔

وجاہت نامی ایک ٹویٹر کے صارف نے اپنے مخالفین کا یہ کہہ کر منہ بند کرنے کی کوشش کی کہ ’اردو کی جگہ انگریزی کو سرکاری زبان برقرار رکھنے کی بات کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں غدار ہوں یا میں کوئی مغرب زدہ ہوں۔‘

اسی بارے میں