کھیوڑہ کا نمک زاد

کُلاچ سے کیلاش ایک قسط وار سفرنامہ ہے جو کراچی سے وادی کیلاش تک ہمارے ساتھی شرجیل بلوچ نے چند منچلے خواتین و حضرات کے ساتھ طے کیا ہے۔ راستہ تو خوبصورت ہے ہی، مگر راہی بھی کم نہیں۔یہ سفر نامہ ہر اتوار کو قسط وار شائع کیا جائے گا۔ پیش ہے چھٹی قسط

تصویر کے کاپی رائٹ Adil Jadoon

موٹر وے پر بنے ایک آرام دہ ریسٹورنٹ میں دھوپ سینکنےاور ناشتہ کرنے کے بعد سب کے چہروں کی مسکراہٹیں لوٹ آئیں تھیں۔چونکہ پیٹ بھرے ہوئے تھے تو اب ہر ایک کی بات اچھی لگ رہی تھی۔ بس میں سوار ہونے تک یاروں نے جلدی جلدی نکوٹین کا کوٹہ پورا کیا اور قلندری کشتی پھر سے موٹر وے پر رواں دواں۔

موسم اب گرد آلود ہو کر گرمی کھا رہا تھا اور خمار گندم کے باعث مسافر اب ذرا ذرا اونگھنے لگے تھے۔ تقریباً دو گھنٹے کے بعد آنکھ کُھلی تو کوسٹر ایک چھوٹے سے پرانے اور سرسبز پہاڑی گاؤں میں داخل ہو رہی تھی۔گاؤں کی ٹوٹی پھوٹی سڑک سے ہوتے ہوئے کوسٹر پہاڑ کے کنارے ایک قدرے بلند مقام پر پہنچ کر رک گئی۔

کلاچ سے کیلاش تک: پہلی قسط

گنڈا پور والے دنگل: دوسری قسط

قصہ قصور کا: تیسری قسط

میں ہوں عادل لاہوڑی: چوتھی قسط

جھیل میں بیٹھی بوڑھی دلہن: پانچویں قسط

دائیں ہاتھ پہ نیچے ایک راستہ برساتی نالے پر بنے ہوئے پل سے گزر کر ایک سرنگ کے منہ پر جا رکا۔ سرنگ کے ماتھے پر کھیوڑہ سالٹ مائئنز کا ایک سرکاری بورڈ آویزاں تھا۔

سرنگ کے دہانے پر ایک چھوٹی سی ریل کی پٹڑی اور رنگ برنگی ریل کار کو دیکھ کر بچپن والا کلفٹن اور اس کا پلے لینڈ یاد آ گیا جہاں ہم بچے دو دو روپے کا ٹکٹ لے کر چھوٹی سے ریل میں بہت دیر تک گھومتے اور پھر اترتے ہی اگلے جھولے کی جانب لپکتے تھے۔

شاید آج سب کو وہی یاد آ رہا تھا۔ بزرگوں کی مسکراہٹوں میں بھی بچپن لوٹ آیا تھا۔ ہمیں تین بجے تک ریل کے انجن کا انتظار کرنا تھا۔ اس بیچ میں گاؤں کے گزرتے ہوئے لوگ مسکرا کر ہمیں دیکھتے اور ہم ان کو۔

وادی میں تیز ہوا پہاڑی دروں میں آج بھی سکندرِ اعظم کے لشکر کی طرح شور مچاتی سیٹیاں بجاتی ہوئی دیوانہ وار بھاگ رہی تھی۔ اچانک سرنگ کے اندر سے ایک چھوٹا سا ڈبہ نما انجن الٹے قدموں باہر آیا۔ ہماری ریل گاڑی سے جُڑا اور گرڑ گرڑ کرتا ہوا اندر ایک ٹھنڈی، اندھیری اور ہوا دار سرنگ میں داخل ہوتا چلا گیا۔

ایک مقام پر پہنچ کر ہم سب اتار لیے گئے جہاں ایک سبک رفتار اور سبک گفتار شخص ہمارا منتظر تھا۔

جناب یہ نمک کی کان جس میں آپ کھڑے ہیں یہ سات منزلہ ہے۔ تین منزلیں اس کے نیچے اور تین اس کے اوپر ہیں۔ سکندرِ اعظم جب یہاں سے گزرا تو اس کے گھوڑوں نے ان نمکین چٹانوں کو چاٹ کر اس خزانے کا پتہ بتایا تھا۔ اس مقامی گائیڈ نے ابھی بتانا شروع ہی کیا تھا۔ ’ان گھوڑوں کا احسان ہے بھیا، ورنہ آج ہم نمک بھی چائنا سے منگوا رہے ہوتے۔‘ میرے پیچھے سے عرفان کی آواز آئی اور سرنگ میں قہقہےگونجتے چلے گئے۔

وہ شخص ہماری رہنمائی کرتے کرتے کان میں موجود پانی کے گہرے تالابوں کے کنارے رکتا اور اس کے سبز نیلے اور سرخ پانیوں میں کچرے، پلاسٹک کی بوتلوں، بسکٹوں اور سگریٹوں کے تیرتے ہوئے ڈبے دکھا کر کہتا۔ آپ دیکھ رہے ہیں یہ کمال صرف ہم پاکستانی ہی کر سکتے ہیں اور یہ کہتے ہوئے اس نمک زاد کا لہجہ کڑوا ہو جاتا تھا۔

اس اژدہے جیسی سرنگ کے پیٹ میں چلتے چلتے کبھی وہ نمکین چٹانوں کا تراشا ہوا مینارِ پاکستان دکھاتا کبھی کوئی مسجد تو کبھی کوئی برف جیسا گلیشئیر اور ہم جگہ جگہ رک کر اندھیرے میں چمکتے ہوئے ان فن پاروں کی تصویریں لینے کی کوشش کرتے اور آگے بڑھ جاتے۔

جناب اس جھیل تک پہنچنے کے لیے آپ کو اِس تنگ پُل سے گزرنا ہوگا اور روایت یہ ہے کہ جو بھی اس پُل سے گزر جائے گا وہ جنّتی ہوگا۔ یہ کہ کر ہمارا گائیڈ پُل کے دوسری جانب جا کھڑا ہوا۔ ہم بھی اس کے پیچھے پیچھے پُل پار کر کے جنت کا ٹوکن لینے کے لیے لائن میں لگ گئے۔

دوسری خاص بات یہ ہے کہ پُل کے دائیں طرف کی دیوار نمکین جبکہ بائیں طرف کی دیوار میٹھی ہے۔ آپ چاہیں تو اسے چاٹ کر دیکھ سکتے ہیں۔یہ کہ کر وہ خاموش ہمیں دیکھنے لگا۔

مجھ سمیت ایک دو نے آگے بڑھ کر آزمائشاً وہ دیواریں چاٹیں اور اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ابھی منہ میں میٹھا ذائقہ ڈھونڈ ہی رہے تھے کہ موصوف پھرگویا ہوئے۔ ’جناب جنت دوزخ کا معاملہ تو خدا بہتر جانتا ہے مگر نمک ہمیشہ نمکین ہوتا ہے کبھی میٹھا نہیں ہوتا اور یہ چمکتی ہوئی دیوار آپ ہی کی طرح کے آئے ہوئے لوگوں نے چاٹ چاٹ کر صاف اور چکنی کیں ہے۔‘

ہمارے کھسیانے چہروں پر فاتحانہ مسکراہٹ پھینکتا ہوا وہ اس نمکین غار کے اندر بنی جھیل کے کنارے پہنچ کر رکا اور سامنے دیوار پر ٹارچ کی روشنی پھینکتے ہوئے ایک شبیہ دکھا کر بولا۔ خواتین و حضرات وہ دیکھیں سامنے چٹان پہ آپ کو شاعرِ مشرق حضرت علامہ اقبال کی تصویر نظر آ رہی ہے جس میں وہ سر ہاتھ پر ٹکائے کچھ سوچ رہے ہیں اور کیا اس کے اوپر آپ کو اللہ تبارک وتعالی کا نام لکھا ہوا نظر آ رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Rizwan Bhirya

سبحان اللہ سبحان اللہ، یا اللہ تیری قدرت، ماشا اللہ کہتے ہوئے ہمارے بزرگوں نے ان ایبسٹریکٹ شبیہات کو دور سے دیکھتے ہوئے ہوا میں چومنا شروع کر دیا جبکہ دھوکہ کھائے ہوئے یار لوگ اب اس شخص کو مشکوک نظروں سے دیکھ رہے تھے گویا کہہ رہے ہوں ’اب تم ہمیں مزید ماموں نہیں بنا سکتے۔‘

اس کان میں ہماری طرح کے اور بھی لوگ آ جا رہے تھے۔ کان میں چلتی ہوئی ہوا میں بھی نمک تھا جو اب ہمارے ناک اور حلق میں خشکی اور کھجلی پیدا کر رہا تھا۔

رخصت کرتے ہوئے اس گائیڈ نے بتایا کہ ویسے تو وہ اس کان میں اسسٹنٹ سپروائزر بھی ہے مگر گزر بسر کے لیے وہ اور اس جیسے دیگر ملازمین پارٹ ٹائم گائیڈ کا کام بھی کرتے ہیں۔

100 روپے کے ایک نوٹ نے اس کے ہونٹوں پر تشکر کی مسکراہٹ پھیلا دی تھی۔

اسی بارے میں