سوات امن کمیٹی کے رکن کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا

Image caption سوات میں امن کمیٹیوں اور قومی لشکروں کے متعدد ارکان اور رضاکار دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں

خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں پولیس حکام کے مطابق نامعلوم افراد نے امن کمیٹی کے رکن اور ویلج کونسلر غلام سعید کو گولیاں مارکر ہلاک کر دیا۔

پولیس کے مطابق واقعہ تحصیل کبل کے علاقے ننگولئی میں اس وقت پیش آیا جب امن کمیٹی کے رکن غلام سعید گھر جا رہے تھے کہ انھیں حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

حملے میں غلام سعید شدید زخمی ہو گئے جنھیں فوری طور پر سیدو شریف ہسپتال منتقل کیا گیا تا ہم وہ ہسپتال میں دم توڑ گئے۔

حملے میں غلام سعید کا ایک ساتھی بھی زخمی ہو گیا جسے ہسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔

واقعے کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، تاہم آخری اطلاعات تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔

خیال رہے کہ سوات میں بننے والی امن کمیٹیوں اور قومی لشکروں کے متعدد ارکان اور رضاکار دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں، اور حملوں کا یہ سلسلہ تا حال جاری ہے۔ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ سوات میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے اراکین اور مقامی رہنماؤں کو بھی ہلاک کیا گیا ہے۔

سوات قومی امن جرگے کے ترجمان رحمت شاہ ساحل نے بی بی سی کو بتایا کہ ان حملوں میں شدت کے باعث علاقے سے امن کمیٹیوں کے زیادہ تر ارکان بیرون ملک یا دیگر محفوظ علاقوں میں منتقل ہوگئے ہیں۔

گذشتہ کچھ عرصے سے امن کمیٹیوں اور قومی لشکر کے رضاکاروں پر حملوں میں شدت آئی ہے۔ گذشہ روز بھی مہمند ایجنسی میں امن کمیٹی کے دو رضاکاروں کو بم حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

مبصرین کے مطابق ان امن لشکروں کی اہمیت اتنی ہی ہے جتنی پہلی کبھی تھی تاہم حکومتی سطح پر نظر انداز ہونے کے باعث ان کمیٹیوں میں شمولیت کے حوالے سے لوگوں کی دلچسپی کم ہوئی ہے۔