افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کی توسیع کی تجویز زیرِ غور

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مختلف اندازوں کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریباً 25 لاکھ افغان مہاجرین آباد ہیں جن میں دس لاکھ شہری غیر قانونی طورپر رہائش پزیر ہیں

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کو دو سال کی توسیع دیے جانے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تجویز پر ابھی غور کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ 22 اگست 2015 کو کابل میں پاکستان، افغانستان اور اقوامِ متحدہ کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے کے حوالے سے ملک بھر کے میڈیا میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں تقریباً گذشتہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے مقیم افغان مہاجرین کی قیام میں مزید دو سال کی توسیع کردی گئی ہے۔

یہ خبر بی بی سی اردو پر بھی شائع ہوئی مگر یو این ایچ سی آر سی کی ترجمان دنیا السم خان نے اس حوالے سے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’کابل میں ہونے والی سہ فریقی کانفرنس میں افغان مہاجرین کو پاکستان میں دو سال کی توسیع دینے کی تجویز پر اتفاق ہوا تھا مگر اس کا حتمی فیصلہ پاکستانی کابینہ نے کرنا ہے جس کے سامنے یہ معاملہ وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ پیش کریں گے جس کے فیصلے کے بعد حتمی بات کہی جا سکتی ہے۔‘

دنیا اسلم خان نے مزید کہا کہ ’پاکستان میں اس وقت 15 لاکھ رجسٹرڈ مہاجرین ہیں جن کے پاس اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری کی گئ دستاویزات ہیں اور ان کو پاکستانی حکومت عالمی قوانین کے برخلاف زبردستی افغانستان واپس نہیں بھجوا سکتی جب تک یہ خود رضاکارنہ طور پر واپس جانے کا فیصلہ نہیں کرتے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ مہاجرین کے معاملے کو غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان تارکین وطن سے نہ جوڑا جائے کیونکہ اُن کا ہمارے پاس اندارج نہیں اور اُن کی قانونی حیثیت کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔

یاد رہے مختلف اندازوں کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریباً 25 لاکھ افغان مہاجرین آباد ہیں جن میں دس لاکھ شہری غیر قانونی طورپر رہائش پزیر ہیں۔

اسی بارے میں