ملتان دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی

Image caption سپرٹینڈنٹ پولیس خالد رؤف کا کہنا ہے کہ جائے حادثہ سے اکٹھے کیے گئے شواہد کو فرانزک لیبارٹری میں بھیجا جا چکا ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ملتان میں اتوار کی شب ہونے والے بم دھماکے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔

نشتر ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر عاشق ملک کا کہنا ہے کہ کل 71 زخمیوں کو ہسپتال میں لایا گیا تھا جن میں سے 38 زخمی ابھی تک زیر علاج ہیں۔

ڈاکٹر عاشق نے بتایا کہ زخمیوں میں تین مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔اُنھوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں دو خواتین اور ایک بچہ بھی شامل ہے۔

دوسری جانب پولیس حکام کے مطابق دھماکے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔

سپرٹینڈنٹ پولیس خالد رؤف کا کہنا ہے کہ دھماکہ خودکش نہیں تھا۔ جبکہ ان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون کے علاوہ تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زخمیوں میں تین مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے

خالد رؤف کے مطابق دھماکے میں بال بیرنگ کے استعمال ہونے کی علامات تو موجود ہیں لیکن جائے وقوعہ سے بال بیرنگ نہیں ملے ہیں۔

خالد رؤف نے کہا کہ بظاہر تخریبی مواد میں آتش گیر مادہ بھی شامل تھا اور یہ ایک ریموٹ کنٹرول دھماکہ ہو سکتا ہے۔

سپرٹینڈنٹ پولیس خالد رؤف کا کہنا ہے کہ جائے حادثہ سے اکٹھے کیے گئے شواہد کو فرانزک لیبارٹری میں بھیجا جا چکا ہے جس کے نتائج آنے کے بعد ہی دھماکے سے متعلق حتمی طور پر کچھ کہا جا سکےگا۔

یاد رہے کہ گذشتہ شب ملتان کے مصروف بازار وہاڑی چوک پر ایک دھماکہ ہوا تھا جس کے بعد پولیس حکام کا کہنا تھا کہ دھماکہ ایک موٹر سائیکل اور رکشہ کے درمیان ٹکراؤ کے نتیجے میں ہوا کیونکہ موٹر سائیکل میں بظاہر بارودی مواد نصب تھا۔

اسی بارے میں