عقیلہ کی ہمت کے اعتراف میں ایوارڈ

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption افغان مہاجرین کی بہت بڑی تعداد اب بھی پاکستان میں پناہ گزیں ہے

بچیوں کی تعلیم کے لیے افغان استانی عقیلہ آصفی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی جانب سے 2015 کا ’نانسین پناہ گزینوں‘ کا ایوارڈ دیا گیا ہے۔

عقیلہ آصفی دو دہائی قبل کابل میں خانہ جنگی سے بھاگ کر صوبہ پنجاب کے ضلع میانوالی منتقل ہوئیں، جہاں انھوں نے ایک خیمے میں بچیوں کے لیے سکول شروع کیا۔ اب تک وہ ایک ہزار سے زیادہ بچیوں کو تعلیم فراہم کر چکی ہیں اور انھوں نے اپنے سکول کی پکی عمارت بھی بنا لی ہے۔

’پہلے وہ بچے ربر کو چیونگ گم سمجھتے تھے۔‘ عقیلہ آصفی نے یہ بات بی بی سی اردو کو انٹرویو میں پشتو لہجے میں اردو زبان میں ہسنتے ہوئے بتائی۔

جب میں نے ان سے پوچھا کہ وہ اپنی کامیابیاں بیان کریں۔ عقیلہ سادہ طبیعت کی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کی جانب سے انھیں 2015 کے ایوارڈ سے ان کا کام بس مضبوط ہو گا ۔

’ایوارڈ کے بعد مجھے نہیں معلوم کہ لوگ میرے بارے میں کیا سوچیں گے۔ میرا کام نہ اسلام اور نہ انسانیت کے خلاف ہے، اگر اس کے باوجود میرا کام کسی کو برا لگا، تو مجھے نہیں فرق پڑتا۔‘

عقیلہ 26 سال کی عمر میں اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ کابل میں خانہ جنگی سے بھاگ کر صوبہ پنجاب کے ضلع میانوالی میں افغان پناہ گزینوں کے لیے ایک خیمہ بستی میں پہنچیں۔ اس وقت خیمہ بستی کی آبادی دو لاکھ سے زیادہ تھی۔

تاہم، انھیں لگا کہ اس خیمہ بستی میں کوئی بھی بچی سکول میں نہیں پڑھتی۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق، پاکستان میں مقیم صرف 20 فیصد افغان بچے سکول جاتے ہیں۔ عقیلہ کا کہنا ہے کہ یہ سب لڑکے ہیں۔ ’والدین سمجھتے ہیں کہ بیٹی کو گھر سے باہر نکل کر سکول بھیجنا ان کے روایات کے خلاف ہے۔‘

عقیلہ نے اپنے والدین اور برادری کے بڑوں سے مشورہ کر کے کئی ماہ تک والدین کو پہلے منایا اور پھر کسی سے ایک خیمہ لیا جس میں انھوں نے20 بچوں کو پڑھانا شروع کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے والد کو شوق تھا کہ وہ ڈاکٹر بنیں لیکن انھیں استاد کا کام خدا کی طرف سے حکم ہے جسے وہ پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

عقیلہ اب تک وہ ہزار سے زیادہ بچیوں کو بڑھا چکی ہیں جن میں ایک طالبہ ایسی تھیں جنھوں نے عقیلہ کے سکول سے ساتویں جماعت مکمل کر کے افغانستان کے صوبہ قندوز میں اپنا سکول کھول لیا۔

’دس سے 12 سال ہو گئے ہیں اور وہ ابھی تک وہاں اپنا سکول چلاتی ہے۔’عقیلہ نے ایک اور بچی کے بارے میں بتایا جو میانوالی ہسپتال میں کام کرتی ہے اور اب اس علاقے کے پناہ گزیوں کو اپنے ہسپتال میں خاص توجہ دیتی ہے۔

عقیلہ ان لڑکیوں پر بہت فخر تو محسوس کرتی ہیں اور پاکستان اپنا کام جاری رکھنا چاہتی ہیں، لیکن انھیں اپنا گھر یعنی کابل بھی بہت یاد آتا ہے اور چاہتی ہیں کہ وہ افغانستان میں بھی بچیوں کی تعلیم کو فروغ دیں۔’اگر افغانستان اور پاکستان کی حکومتیں مشترکہ طور پر پاکستان میں رہنے والے افغانیوں کو اقتصادی اور سلامتی کی یقین دہانی کرائے تو کون اپنی ماں کی گود میں واپس نہیں جانا چاہے گا۔ یہاں کے پناہ گزین افغانستان میں اپنی زمینیں کھو بیٹھے ہیں، وہاں ان کا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے، اور امن بھی نہیں ہے، تو واپس کیسے جائیں؟‘

اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کا کہنا ہے کہ افغان پناہ گزینوں کا مسئلہ سب سے طویل مدت کا ہے اور 26 لاکھ ابھی تک جلا وطن ہیں۔ اندازوں کے مطابق ان کے بچوں کو تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانا بہت مشکل ہے۔ دنیا بھر میں پناہ گزیوں کے صرف 25 فیصد بچے سکینڈری سکول تک پہنچتے ہیں اور پاکستان میں مقیم صرف 20 فیصد افغان بچوں سکول میں پڑھتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ایک سفیر، مشہور مصنف خالد حسینی نے کہا ہے کہ ’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ان تمام بچوں کو سکول تک رسائی دیں۔ عقیلہ کی ہمت نے ہم سب کو دکھایا ہےکہ تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ ہمیں ان کی جنگ جاری رکھنی ہو گی۔

اسی بارے میں