دیر اپر میں ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی کی جیت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حلقہ پی کے 93 ضلع دیر اپر میں کل رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد ایک لاکھ 48 ہزار 76 ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے حلقہ پی کے 93 ضلع دیر اپر میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار صاحبزادہ ثنا اللہ 18 ہزار 823 ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے ہیں جبکہ جماعت اسلامی کے اعظم خان 15 ہزار 816 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر رہے۔

بتایا گیا ہے کہ حالیہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کو عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور جمیعت علمائے اسلام جبکہ جماعت اسلامی کو قومی وطن پارٹی اور پی ٹی ائی کی حمایت حاصل تھی۔

اس نشست پر 2013 کے عام انتخابات میں جماعت اسلامی کے بہرام خان کامیاب ہوئے تھے تا ہم یہ نشست الیکشن کمیشن کی جانب سے جعلی ڈگری کیس میں بہرام خان کو نا اہل قرار دینے کے بعد خالی ہوئی تھی۔

اس حلقے میں کل رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد ایک لاکھ 48 ہزار 76 ہے جن میں مردو ں کے تعداد 90 ہزار 368 جبکہ خواتین کے 57 ہزار 708 ہیں۔

اس حلقے میں کل 120 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے تھے جن میں چھ خواتین کے تھے ان تمام پولنگ سٹیشنز کو حساس قرار دیاگیا تھا انتظامیہ کے مطابق پولنگ سٹیشنز پر 7000 سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے جبکہ پولنگ سٹیشنوں کے اندر موبائل فون لے جانے اور خواتین کے پولنگ سٹیشنز میں مردوں کے داخلے پر پا بندی عائد تھی۔

اس علاقے کے مقامی صحافی ادریس نے بی بی سی کو بتایا کہ دیر اپر کی تاریخ میں پہلی بار خواتین نے ووٹنگ میں حصہ لیا ہے ان کے مطابق 1970 میں ہونے والے انتخابات میں صرف ایک پولنگ سٹیشن پر خواتین نے ووٹ ڈالے تھے جس کے بعد خواتین کسی بھی انتخابی عمل میں شریک نہیں رہیں تاہم اس بار خواتین کے لیے چھ پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے تھے جن تمام پولنگ سٹیشن پر خواتین نے اپنے رائے حق دہی کا استعمال کیا ہے تاہم بلدیاتی انتخابات میں چند خواتین نے ووٹ ڈالے تھے لیکن اتنی تعداد میں خواتین پہلی بار انتخابات میں شریک رہیں۔

خیال رہے کہ اس علاقے میں عام طور پر مقامی سطح پر منعقد ہونے والے جرگوں میں خواتین کے ووٹنگ پر پابندی کے معاہدے کئے جاتے ہیں جسمیں بعض اوقات سیاسی امیدوار بھی شریک ہوتے ہیں تا ہم اس بار ایسا کوئی معاہدہ سامنے نہیں ایا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس دفعہ خواتین کی بڑی تعداد نے انتخابات میں حصہ لیا اور ووٹ ڈالے ہیں

خواتین کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی ضلع دیر لوئر کے خاتون سمیرا شمس نے بی بی سی کو بتایا کہ خواتین کے ووٹنگ میں شمولیت خواتین کی بڑی کامیابی ہے اور اب خواتین کی ووٹ ڈالنے پر پابندی کی یہ روایت ختم ہوجائیگی اور دیگر علاقوں میں بھی خواتین کو ووٹ ڈالنے اجازت ملے گی

اسی بارے میں