5000 افراد پر ملک چھوڑنے کی پابندی ختم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے ساڑھے آٹھ ہزار میں سے پانچ ہزار افراد کے نام خارج کر دیے گئے ہیں جن میں سے ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کا نام گذشتہ 30 برسوں سے ای سی ایل میں شامل تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ ای سی ایل سے متعلق نئی پالیسی کے تحت ایک شخص کا نام زیادہ سے زیادہ تین سال تک اس فہرست میں رکھا جائے گا جس کے بعد اس پر نظرثانی کی جائے گی۔

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے نام ای سی ایل سے نکالے گئے ہیں۔

حکومت کا ای سی ایل کی پالیسی کو تبدیل کرنے کا فیصلہ

بدھ کے روز میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ جن افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں گے اُنھیں اس کے خلاف اپیل کرنے کا بھی حق ہو گا۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیموں سے وابستہ لوگوں کے نام اس فہرست سے نہیں نکالے جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ منشیات کے سمگلروں اور جاسوسی کرنے والوں کو بھی باہر جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ جو افراد سکیورٹی اداروں میں کام کرتے ہیں اُنھیں متعقلہ اداروں سے اجازت لیے بغیر باہر جانے اور وہاں ملازمت کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

اُنھوں نے کہا کہ سابق دور حکومت میں اگر میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا اور ان میں سے کسی ایک کی پہنچ وزیر داخلہ تک ہوئی تو دوسرے کا نام بھی ای سی ایل میں ڈال دیا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ چار ہزار سے زائد ایسے پاکستانیوں کی بھی الگ سے فہرست تیار کی جا رہی ہے جنہوں نے دو یا دو سے زائد پاسپورٹ حاصل کر رکھے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا کے 130 سے زائد اہلکاروں کو افغانی اور ایرانی باشندوں سمیت غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ جاری کرنے پر نہ صرف نوکریوں سے برطرف کیا گیا بلکہ اُن کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ کراچی میں نادرا کے ایک اہلکار کے خلاف تحقیقات کے لیے ٹیم بھیجی گئی تو اُنھوں نے تحقیقاتی ٹیم کو ایک کروڑ روپے کی رشوت کی پیشکش کی کہ اُن کا نام اس لسٹ سے نکال دیا جائے۔

اسی بارے میں