فاٹا خیبر پختونخوا کا حصہ یا الگ صوبہ؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پاکستان کے قبائلی علاقوں سے منتخب اراکینِ قومی اسمبلی و سینیٹ نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ایک بل قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے جس کی حمایت اور مخالفت جاری ہے۔

قومی اسمبلی میں گذشتہ ہفتے جمع کروائے گئے اس بل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا جائے، اسے الگ صوبے کا درجہ دیا جائے یا قبائلی علاقوں کے منتخب اراکین پر مشتمل ایک ایگزیکٹیو کونسل تشکیل دی جائے تاکہ اس کے تحت منتخب نمائندے اپنے فیصلے خود کر سکیں۔

فاٹا کے ارکانِ قومی اسمبلی و سینیٹ شاید دنیا کے پہلے ایسے منتخب نمائندے ہیں جو پارلیمان کا حصہ تو ہیں لیکن وہ اپنے علاقوں کے ضمن میں کوئی قانون سازی نہیں کر سکتے۔

قبائلی علاقوں میں تمام فیصلے یا قوانین کا اطلاق صدارتی احکامات کے تحت کیے جاتے ہیں جبکہ منتخب نمائندوں کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ میں فاٹا ارکان کے پارلیمانی رہنما اور خیبر ایجنسی سے رکنِ قومی اسمبلی شاہ جی گل آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہو رہا ہے کہ قبائلی ارکان کی جانب سے قومی اسمبلی میں کوئی بل جمع کیا گیا ہے جس کا مقصد قبائلی عوام کو ان کی شناخت دینا ہے۔

انھوں نے کہا: ’کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے قبائلی علاقوں کو علاقہ غیر کے نام سے جانا جاتا ہے جس کا مطلب غیر لوگوں کی سر زمین ہے یعنی دوسرے الفاظ میں ہمیں اس ملک کا شہری ہی نہیں سمجھا جا رہا۔‘

شاہ جی گل آفریدی نے کہا کہ یہ ساری کوششیں اس مقصد کے لیے کی جا رہی ہیں کہ قبائلی عوام کو ان کی شناخت دی جائے اور ان کے دیرینہ مطالبے کو پورا کیا جائے جو وہ کئی سالوں سے دہرا رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے ان کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ پارلیمان میں اس بل کی بھرپور حمایت کی جائے گی۔

کرم ایجنسی سے منتخب رکن قومی اسمبلی ساجد حسین توری کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں فاٹا ارکان کی جانب سے کور کمانڈر پشاور سے ملاقات کی گئی تھی جنھوں نے انھیں مکمل تعاون و حمایت کا یقین دلایا تھا۔

دوسری طرف قبائلی علاقوں کی بعض سیاسی شخصیات، قبائلی عمائدین اور سابق ارکان پارلیمان کی جانب سے فاٹا کو خیبر پختونخوا کا حصہ بنائے جانے کی مخالفت کی جا رہی ہے۔

اس ضمن میں پشاور میں گذشتہ دنوں قبائلی مشران اور نوجوانوں کا ایک جرگہ منعقد ہوا جس میں فاٹا کو الگ صوبے کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

اس جرگے میں شامل متحدہ قبائل پارٹی کے نائب چیئرمین حبیب نور اورکزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ خیبر پختونخوا کے پہلے ہی اتنے مسائل ہیں اور اگر ایسے میں فاٹا بھی اس میں ضم ہوگیا تو یہ سارا خطہ مسائلستان بن جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ 21 ستمبر سے متحدہ قبائل پارٹی کے پلیٹ فارم سے فاٹا بھر میں ’قبائل بچاؤ‘ تحریک کا آغاز کیا جا رہا ہے جس میں قبائلی عوام سے صوبے میں ضم ہونے یا الگ صوبہ بنانے کے سلسلے میں رائے لی جائےگی۔

انھوں نے کہا کہ جو اکثریت کا فیصلہ ہو گا وہ انھیں بھی قبول ہوگا لیکن قبائلی عوام کی رائے کے بغیر کوئی فیصلہ کیا گیا تو اس کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ قبائلی علاقوں کے اصل مالک وہاں سرگرم عمل مقتدر ادارے ہیں اور جب تک ان کی مرضی شامل نہیں ہوگی وہاں ایک پتا بھی اپنی جگہ سے نہیں ہل سکتا۔

خیال رہے کہ افغان سرحد سے ملحق واقع قبائلی علاقے پاکستان بننے کے بعد سے انتہائی پسماندہ رہے ہیں۔

قبائلی عوام کا موقف ہے کہ ان علاقوں کو ایک سازش کے تحت پسماندہ رکھا گیا تاکہ انھیں وقتاً فوقتاً اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکے۔

اسی بارے میں