خیبر پختونخوا میں نو سرکاری افسران گرفتار: نیب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نیب اور احتساب کمیشن کے پی کے میں سینکڑوں افراد کو بدعنوانی کے الزامات میں گرفتار کر چکے ہیں

خیبر پختونخوا میں قومی احتساب بیورو نے دو روز میں نو سرکاری افسران کو اختیارات کے ناجائز استعمال اور مالی بد عنوانی کے الزام میں گرفتار کیا ہے ان میں یونیورٹسٹیز کے وائس چانسلرز بھی شامل ہیں۔

نب کی جانب سے بدھ کو گرفتار کیے جانے والے افسران میں ورکرز ویلفیئر بورڈ کے سابق چیئر مین اعزازالرحمان ، ڈائریکٹر فنانس ابرار حسین اور سابق ڈائریکٹر فنانس عمران وزیر کے علاوہ اکبر اعوان اورعرفان قریشی شامل ہیں۔

قوی احتساب بیورو کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان افراد نے متفرق اشیا کی خریداری کے لیے غیر قانونی اور ضابطوں کے خلاف ٹھیکے دیے اور زیادہ قیمتوں پر خریدای کرکے قومی خزانے کو کوئی ساڑھے تین ارب روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔

نیب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سابق سیکرٹری لیبر اور ورکرز ویلفیئر بورڈ کے چیئر مین اعزاز الرحمان نے بند نیتی کے بنیاد پر تمام انتظامی اور مالی اختیارات پہلے سے گرفتار سابق سیکریٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ طارق اعوان کے حوالے کر دیے تھے اور اس مقصد کے لیے ایک خفیہ اکاؤنٹ بھی کھولا گیا تھا۔

نیب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان تمام گرفتار افراد کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ان کا 12 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔

خیبر پخونخوا میں ورکرز ویلفیئر بورڈ کے زیر انتظام متعدد سکول اور دیگر ادرے ہیں۔

اس کے علاوہ منگل کے روز قومی احتساب بیورو نے مردان میں قائم عبدالولی خان یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر احسان علی، ہزارہ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر سخاوت شاہ ، ڈاکٹر محمد عزیز خان چیئرمین نمز کالج آف میڈیسنز ایبٹ آباد اور پروفیسر ہمایوں ضیا سابق چیئر مین ہائیر ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی کو گرفتار کیا تھا ۔

بدھ کو انھیں احتساب عدالت میں پیش کرکے ان کا 15 روز کا ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ۔

ان گرفتار افراد پر الزام عائد ہے کہ انھوں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اکثر طلبا و طالبات کو ایک غیر رجسٹرڈ ادارے میں داخلے کے لیے راغب کیا جس سےکروڑوں روپے ہتھیائے گئے۔

پروفیسر احسان علی اور ڈاکٹر سخاوت شاہ پر الزام عائد ہے کہ انھوں نے ایک غیر قانونی اور غیر رجسٹرڈ ادارے کو میڈیکل کاج کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے ان کے امتحانات لیے جس سے اس ادارے میں داخل طلبا اور طالبات کا مالی نقصان ہوا بلکہ ان کا قیمتی وقت بھی ضائع ہوا ہے۔

پروفیسر احسانی علی کی گرفتاری کے خلاف مردان میں یونیورٹسی کے ملازمین نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔

خیبر پختونخوا میں کچھ عرصے سے ایک جانب وفاقی حکومت کے احستاب کے ادارے نیب اور دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت کے حال ہی میں قائم ہونے والے احتساب کمیشن کی کارروائیاں جاری ہیں جنھوں نے اب تک سینکڑوں افراد کو بد عنوانی کے الزام میں گرفتار کیا ہے ان میں تحریک انصاف کے سابق وزیر معدنیات ضیاء اللہ آفریدی شامل ہیں۔