کنونشن سینٹر میں گنّے کی گونج

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

وزیرِاعظم میاں نواز شریف کی حکومت نے پاکستان کے کسانوں کے لیے341 ارب رپوں کے پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں بذاتِ خود اِس پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم نے اِسے ’فقیدالمثال‘ قرار دیا۔

اِس تقریب کے زیادہ تر حاضرین نے سفید سوتی لباس پہن رکھا تھا جو خاص موقعوں کی دیہی روایت ہے۔ لباس کی شفافیت کے سامنے کنونشن سینٹر کی اندرونی چمک اور نشستوں کی رنگینی ماند دکھائی دی۔

موٹر وے، ایٹم بم، سیاسی سکینڈل، ضربِ عضب، کراچی آپریشن اور پاک چین اقتصادی راہداری جیسی حکومتی کامیابیوں پر کسانوں نے بڑھ چڑھ کر تالیاں بجائیں اور نعرے لگائے۔

البتہ جب وزیرِاعظم پیکیج کا اعلان کر چکے۔ جدید طرزِ زراعت اور موسمیاتی تبدیلیوں جیسے تکنیکی افق پر بھی زور دے چُکے۔ اجازت مانگنے لگے تو کنونشن سینٹر تالیوں اور نعروں کی بجائے شور سا گُونجنے لگا۔

ملتان کے کاشت کار اور زرعی تجزیہ کار خواجہ شعیب بھی وہاں موجود تھے۔ بتاتے ہیں کہ ’جب وزیرِاعظم نے تقریر ختم کی تو کوئی کھڑا ہو کر چیخا، گنا!‘

سرکاری ٹی وی پر براہِ راست نشر ہونے والی اِس تقریب کو شور و پکار میں چھوڑتے ہوئے وزیرِاعظم کا آخری اعلان تھا کہ ’گنے پر بھی سوچ بچار کر رہے ہیں۔‘

گنا سال کی آخری فصل ہوتی ہے تو کیوں نہ اُس کی حالتِ زار پر آخر میں ہی بات کی جائے۔

پیکیج کا افتتاح چاول اور کپاس سے کیا گیا، لیکن فصلوں اور اُن کی براہِ راست آمدن کی بجائے اُن شعبوں کے بارے میں زیادہ اعلانات ہوئے جو کسان سے براہِ راست لین دین کرتے ہیں۔

چاول کے جن تاجروں اور رائس مِل مالکان کے پچھلے سال کے مہنگے نرخوں کے ذخائر بِک نہیں پائے، اُنھیں مراعات ملیں۔ کسانوں کی فصل کی انشورنس کا پریمیئم حکومت کی طرف سے ادا کیے جانے کا اعلان ہوا۔

Image caption وزیراعظم نے کپاس اور چاول کے کاشت کاروں کے لیے مراعات کا اعلان کیا ہے لیکن گنے کے کاشت کاروں کو کوئی مراعات نہیں دی گئی

خواجہ شعیب کے مطابق: ’انشورنس میں بینک فصل کی آدھی قیمت لگاتے ہیں۔ چنانچہ پریمیئم کی سرکاری ادائیگی کی ضمانت سے بینک کا نقصان کم ہو گا نہ کہ کسان کا۔‘

زرعی پیداواری صلاحیت بڑھانے والی درآمد شدہ مشینری پر تین قسم کے ٹیکسوں میں 34 فیصد کمی کی گئی۔ مقامی مشینری پر بھی سیلز ٹیکس کم کر دیا گیا۔

بیشتر چھوٹے کاشت کار اپنی زندگی میں ٹریکٹر اور دیگر مشینری تبھی خرید پاتے ہیں جب زمین گروی رکھ کر سرکاری قرض ملتا ہے۔ مشین سالہا سال چلتی ہے اور قرض کی قسطیں ادا ہوتی رہتی ہیں۔ چنانچہ مشینری پر ٹیکس کی کمی متواتر سہولت نہیں۔

گذشتہ چند سالوں سے مداخل کی قیمتوں میں اضافوں اور عالمی منڈیوں میں اجناس کی قیمتوں میں کمی کے باعث بیشتر چھوٹے کاشت کار قرض کے بھنور میں ہیں۔

زرعی پیکیج میں اِسی قسم کے قرض زیادہ دینے کے لیے 100 ارب روپے کا اضافہ کر دیا گیا۔ شرح سود میں بھی دو فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا۔

خواجہ شعیب کے مطابق ’کمی کی جائے تو کسان کے لیے شرح سود 12 فیصد بنے گی جبکہ صنعتی شعبے میں شرح سود 6.5 فیصد ہے۔‘

وزیرِاعظم میاں نواز شریف نے زرعی زمین کے پیداواری یونٹ کی مالیت دُگنی کرنے کا اعلان کیا۔ یعنی جس کسان کو اپنی زمین کے عوض دس لاکھ روپے قرض ملتا تھا، اب اُسی زمین کے عوض 20 لاکھ روپے ملیں گے۔

نتیجتاً ملک کے دیہی علاقوں میں قرضوں کے حصول میں تیزی آئے گی۔ کسان پر قرض کے بھنور اور بینکوں کے کاروبار دونوں کو وسعت ملے گی۔

Image caption نواز شریف کی حکومت نے پاکستان کے کسانوں کے لیے341 ارب رپوں کے پیکیج کا اعلان کیا ہے

زرعی اجناس، پھلوں اور سبزیوں کی کولڈ چین والوں، حلال گوشت کے پیداواری یونٹ لگانے والوں، تازہ دودھ، پولٹری اور مچھلی فراہم کرنے والوں کو ٹیکسوں سے نجات مل گئی لیکن کیا یہ سب کِسان کو اُس کی پیداوار کا زیادہ معاوضہ دینے لگیں گے؟

خواجہ شعیب کہتے ہیں کہ ’کسان کو ایسے مراعاتی پیکیج دینے کی بجائے اُس کے لیے عالمی نرخوں کے مطابق ادائیگیوں کو یقینی بنانا ضروری ہے۔‘

کسان جن کاروباری اور صنعتی شعبوں کے لیے خام مال پیدا کرتا ہے، اُن کی زیادہ تر ملکیت سیاسی اشرافیہ کے پاس ہے۔ انڈے چوزے سے لے کر چاول چینی تک۔

شہروں میں ’انہار‘ جیسا معیاری دودھ سپلائی کرنے والے بڑے یا چھوٹے فارموں پر اگر بچھڑی یعنی مستقبل میں دودھ دینے والی گائے کی بجائے بچھڑا پیدا ہو جائے تو اُسے پالنے کے خرچ سے بچنے کا واحد راستہ منڈی میں اونے پونے داموں بیچ دینے کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ لیکن زرعی پیکیج میں بظاہر اُس کا منافع بخش حل بھی دکھائی دے رہا ہے۔

آئندہ سال کے آخر تک حلال گوشت کا یونٹ لگانے والوں کو چار سال کے لیے اِنکم ٹیکس کی معافی ملے گی۔

گذشتہ چند سالوں میں ڈیری فارم وسیع ہو چکے ہیں۔ ہر سال ہر فارم سے ہزاروں بچھڑے ذبح ہو کر برآمد ہوں گے ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر بڑھیں گے۔

جب کبھی اِنھی یونٹوں کا بڑا حلال گوشت مُرغی کے گوشت کی طرح نفیس پیکنگ میں پاکستانی دُکانوں پر آئے گا تو عوام کو قصابوں کا متبادل ملے گا جن کے متعلق غیر معیاری اور گدھوں کے گوشت کی خبریں عروج پر ہیں۔

اِس سارے عمل میں چھوٹا کِسان کہاں کھڑا ہے؟ خصوصاً گنے کا کسان؟

Image caption کسان پیکیج کے تحت کسانوں کو رعایتی نرخوں پر قرضے دینے کا اعلان کیا گیا

خواجہ شعیب کے مطابق: ’گنے کے ہزارہا کسانوں کو شُوگر ملوں نے تاحال پچھلی فصل کی ادائیگیاں نہیں کیں۔‘

شاید اِسی لیے گنے کے ایک کسان سے رہا نہیں گیا اور اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں کھڑے ہو کر اُس وقت چیخ پکار کا ماحول پیدا کر دیا، جب وزیرِاعظم چاول اور کپاس پر پانچ ہزار روپے کی نقد مالی معاونت کے وعدے کر کے جانے کو تھے۔

کپاس کی چنائی اکتوبر تک ختم ہو جاتی ہے اور ستمبر تک چاول کی موجودہ فصل بھی منڈیوں میں آ جائے گی۔ دسمبر تک اِن فصلوں کے کسان اپنی محنت کا اجر پانے کے بعد نئی فصل گندم کا بیج بو چکے ہوں گے۔

وہی دن ہوں جب دونوں صوبوں میں گنے کا کسان کھیتوں میں کٹائی میں مصروف ہو گا لیکن تب تک سب سے زیادہ چاول اور کپاس پیدا کرنے والے صوبوں پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا عمل بھی پورا ہو چُکا ہو گا۔

کنونشن سینٹر میں ’گنے‘ کا شور چھوڑتے ہوئے وزیرِاعظم میاں نواز شریف نے کہا: ’اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو، پاکستان پائندہ باد۔‘

اسی بارے میں