القاعدہ کی معاونت کرنے والے تاجر کے ریمانڈ میں توسیع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت نے انسدادِ دہشت گردی کی درخواست قبول کرتے ہوئے ملزم کو 30 روز کے لیے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا

کراچی میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے القاعدہ کے مبینہ فنانسر شیبا احمد کو 90 روز کے لیے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ہے۔

شیبا احمد پر اسماعیلی برداری کی بس میں ملوث ملزمان کی ذہنی تربیت کے علاوہ زخمی دہشت گروں کے علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کا الزام ہے۔

محکمۂ انسدادِ دہشت گردی نے شیبا احمد کو جمعرات کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا اور مزید تفتیش کے لیے ملزم کو جسمانی ریمانڈ پر حوالے کرنے کی درخواست کی۔

عدالت نے محکمۂ انسدادِ دہشت گردی کی درخواست قبول کرتے ہوئے ملزم کو 30 روز کے لیے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

ملزم شیبا نے عدالت میں خود پر عائد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈیفنس میں اپنی رہائش گاہ پر قرآن کا درس دیتے تھے اور انھیں علم نہیں اس میں کون شریک ہوتا رہا ہے۔

یاد رہے کہ محکمۂ انسدادِ دہشت گردی کے ایس ایس پی نوید خواجہ نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ صفورا واقعے میں گرفتار ملزمان سعد عزیز اور اظہر عشرت کے انکشافات کی روشنی میں شیبا احمد کو شہر کے پوش علاقے ڈیفنس سے گرفتار کیا گیا۔

رواں سال مئی میں اسماعیلی برادری کی بس پر حملے کے نتیجے میں 45 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

پولیس نے واقعے میں ملوث ہونے کے الزام میں طاہر حسین منہاس عرف سائیں عرف نذیر عرف زاہد، سعد عزیز عرف ٹن ٹن عرف جون، محمد اظہر عشرت عرف ماجد اور حافظ ناصر حسین عرف یاسر کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور ان کا تعلق دولتِ اسلامیہ سے ظاہر کیا تھا۔

ایس ایس پی انسدادِ دہشت گردی خواجہ نوید نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ گرفتار ملزم شیبا احمد بینکار اور تاجر ہیں اور اپنا تعلق تنظیم اسلامی سے ظاہر کرتے ہیں۔

’ملزم پاکستان اور پڑوسی اسلامی ممالک میں کیمیکلز کا کاروبار کرتا ہے اور بیرون ملک سے آنے والی رقوم پاکستان میں دہشت گردوں کی مالی معاونت میں استعمال کی جاتی تھی۔‘

ایس ایس پی نوید خواجہ کا کہنا تھا کہ ملزم کا ڈیفنس میں ایک لیکچر سینٹر قائم تھا جہاں وہ درس دیتے تھے، صفورا واقعے میں گرفتار سعد عزیز اور دیگر ملزمان اس میں شریک ہوتے رہے ہیں اور ملزم نے ان کی ذہنی تربیت کے علاوہ مکمل مالی معاونت کی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کراچی سے باہر بھی دہشت گردوں کی معاونت کرتا رہا ہے، سی ٹی ڈی نے ایک ہپستال میں چھاپہ مارا تھا جہاں سے گرفتار ملزم حسن ظہیر نے انکشاف کیا تھا کہ شیبا احمد نے لاہور میں زخمی دہشت گردوں کے علاج کے لیے ایک ہسپتال کی مالی معاونت کی تھی۔

ادھر کراچی میں پولیس کے کامرہ ایئر بیس پر خودکش حملے کے مبینہ منصوبہ ساز کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم عمر حیات کا تعلق امارات افغانستان سے ہے۔

ایس ایس پی کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈپارٹمنٹ جنید شیخ نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملزم عمر حیات کو اورنگی ایم پی آر کالونی سے گرفتار کیا گیا ہے، جس کے قبضے سے خودکش بم حملے میں استعمال ہونے والی دو جیکٹس اور بارودی مواد برآمد کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم خودکش بم حملہ آوروں کی تربیت کے علاوہ ان کو رسائی اور مالی معاونت بھی کرتا تھا، حال ہی میں انھوں نے کامرہ ایئر بیس پر حملہ کا منصوبہ بنایا تھا جس کے لیے دو لڑکوں کو بھی تیار کیا گیا لیکن سیکیورٹی کی وجہ سے یہ منصوبہ ناکام ہوگیا۔

اسی بارے میں