لاڑکانہ میں زرداری مخالف صف بندیاں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں آئندہ بلدیاتی انتخابات میں سابق صدر آصف علی زرداری کے سیاسی طرز عمل اور طور طریقوں نے ان کے مخالفین کو سر جوڑ کر بیٹھنے پر مجبور کر دیا ہے۔

پیپلز پارٹی کےگڑھ لاڑکانہ میں دس جماعتوں اور شخصیات نے مل کر ’لاڑکانہ عوامی اتحاد‘ کے نام سے ایک سیاسی اتحاد تشکیل دیا ہے جس کا واحد مقصد سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال ٹالپور کی زیر سرپرستی حکمران پیپلز پارٹی کو ہرانا ہے۔

’لاڑکانہ عوامی اتحاد‘ کی قیادت عباسی خاندان کر رہا ہے جس نے پاکستان پیپلز پارٹی سے راہیں جدا کر کے صفدر عباسی اور ناہید خان کی قیادت میں ’پیپلز پارٹی ورکز‘ کے نام سے اپنی جماعت کی بنیاد رکھی ہے جبکہ دیگر جماعتوں میں مسلم لیگ فنکشنل، مسلم لیگ ن، تحریک انصاف، جماعت اسلامی، مجلسِ وحدت المسلمین اور ممتاز بھٹو سمیت دس سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔

اس اتحاد کے روح رواں منور عباسی کا کہنا ہے ’پیپلز پارٹی نے عوام کی فلاح و بہبود کےلیےکچھ نہیں کیا اس لیے یہ اتحاد لاڑکانہ کےعوام کودرپیش مسائل کےحل کے لیے بنایا گیا ہے اور آئندہ بلدیاتی انتخابات میں ہر یونین کونسل میں پیپلز پارٹی سے مقابلہ کیا جائےگا۔‘

ضلع لاڑکانہ میں 47 یونین کونسلوں ، ایک ضلعی کونسل اور چھ میونسپل کارپوریشنز اور کمیٹیوں پر مشتمل ہے اور یہاں چھ لاکھ، 22 ہزار رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔

تجزیہ کار معشوق اوڈھانو کا کہنا ہے عوامی اتحاد میں شامل لوگ ماضی میں بھی پیپلز پارٹی کے سیاسی مخالف رہے ہیں تاہم ممتاز بھٹو، عباسی خاندان اور شفقت اُنڑ کا اثر صرف اپنی یونین کونسلز تک ہی محدود ہے۔

’گذشتہ سات برسوں سے پیپلز پارٹی اقتدار میں ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ ہی ان کے کام آئیں گے کیونکہ ان کی رائے میں مخالفین اقتدار میں آ کر کوئی بڑا تیر نہیں ماریں گے ۔‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو کے وزیر اعظم بننے کے بعد لاڑکانہ کو ایک نئی شناخت ملی۔

بھٹو کے سیاسی قتل اور بعد میں ان کے بیٹے شاہنواز بھٹو، میرمرتضٰی بھٹو اور پھر بیٹی بےنظیر بھٹو کے ترتیب وار قتل نے اس ضلع میں پیپلز پارٹی کی جڑوں کومزید گہرا اور مضبوط کردیا۔

پیپلزپارٹی کے ہر دورِحکومت میں لاڑکانہ کے لیے ترقیاتی پیکیجز منظور ہوئے اور ملازمتوں میں بھی دیگر اضلاع کے مقابلے میں زیادہ حصہ دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

تجزیہ کار الطاف پیرزادہ کا کہنا ہے ’لاڑکانہ میں ترقی صرف پیپلز پارٹی کے ادوار ہی میں ہوئی جبکہ دوسرے دور حکومتوں میں لاڑکانہ نظر انداز ہوا۔ مخالفین اس بنیاد پر ووٹ لینے جا رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کیا اور وہ کریں گے تاہم یہ کوئی مضبوط بنیاد نہیں جس سے انھیں عوام میں پذیرائی مل سکے۔

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں لاڑکانہ سمیت 15 اضلاع میں چناؤ ہوگا مگر پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سیاسی بنیادوں پر ہونے والے پہلے بلدیاتی انتخابات کے لیے زیادہ سیاسی سرگرمیاں نظر نہیں آ رہی ہیں۔

پیپلز پارٹی کی مخالف جماعتیں عام انتخابات کی طرح بلدیاتی انتخابات میں بھی کوئی راہ ہموار نہیں کرسکی ہیں جبکہ قوم پرست جماعتیں بھی خاموش ہیں۔

لاڑکانہ عوامی اتحاد کے رہنما منور عباسی کا کہنا ہے ’انھوں نے پیپلز پارٹی کے خلاف اتحاد نہیں بنایا بلکہ وہ لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں۔اس اتحاد میں جو لوگ اکٹھے ہوئے ہیں ان میں سوائے ممتاز بھٹو کے ، کسی کا کوئی ذاتی اختلاف نہیں ہے۔‘

لاڑکانہ اتحاد میں شامل اکثر جماعتوں نے سنہ 2013 کے عام انتخابات میں بھی اتحاد کیا تھا لیکن یہ منظم اور مؤثر ثابت نہیں ہو سکا تھا۔

تجزیہ کار الطاف پیرزادہ کے مطابق مسلم لیگ فنکشنل کے راشدی خاندان، عباسی خاندان، ممتاز بھٹو اور جمعیت علما اسلام کے صوبائی جنرل سیکریٹری خالد محمود سومرو سمیت ہر ایک کی خواہش تھی کہ ان کے خاندان کو زیادہ نشستیں ملیں، جس کی وجہ سے مشترکہ امیدواروں پر اتفاق نہ ہوا جس کا فائدہ پیپلز پارٹی کو ہوا۔

’بلدیاتی انتخابات میں اگر یہ اتحاد انتشار کا شکار نہیں ہوتا اور مشترکہ امیدوار لانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پھر پیپلز پارٹی کے لیے مشکلات ضرور پیدا ہوسکتی ہیں کیونکہ اتحاد میں شامل تمام شخصیات کا ذاتی اور سیاسی اثر ضرور موجود ہے۔‘

لاڑکانہ شہر میں شیخ اور عباسی برداری کی بڑی تعداد موجود ہے ماضی میں دونوں ہی پاکستانی پیپلز پارٹی کی ووٹر رہی ہیں لیکن اب صفدر عباسی کے خاندان کی طرح شیخ برادری کی بھی کثیر تعداد منحرف ہوچکی ہے جن میں سابق ناظمین بھی شامل ہیں۔

لاڑکانہ میں مسلم لیگ فنکشنل سے وابستہ راشدی خاندان (جس کی سربراہی مہتاب اکبر راشدی کر رہی ہیں) کے گذشتہ چند سالوں سے عباسی خاندان سے اتحاد کی وجہ سے پیپلز پارٹی کے لیے کچھ مشکلات بڑھی ہیں۔

عباسی خاندان کا زور توڑنے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے جمعیت علما اسلام ف سے اتحاد کی کوششیں کیں لیکن جے یو آئی کے مقتول رہنما خالد محمود سومرو کے خاندان کی وجہ سے یہ اتحاد ممکن نہیں ہوسکا۔

خالد محمود کے فرزند اور جمعیت علما اسلام لاڑکانہ کے ضلعی صدر ناصر محمود کا کہنا ہے کہ انھوں نے پیپلز پارٹی کو 11 شرائط پیش کی تھیں جن میں سرفہرست خالد محمود سومرو کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کی شرط بھی شامل تھی لیکن اس پر عمل نہیں ہوا جس کی وجہ سے یہ اتحاد نہیں ہوسکا۔

لاڑکانہ کی سیاست میں جمعیت علمائے اسلام کو بھی اہمیت حاصل ہے اور اس کے صوبائی جنرل سیکریٹری خالد محمود سومرو بینظیر بھٹو کے مدمقابل انتخاب لڑتے رہے تھے ، انھیں گذشتہ سال سکھر میں قتل کردیا گیا۔

جمعیت علما اسلام لاڑکانہ کے ضلعی صدر ناصر محمود کا کہنا ہے کہ وہ کسی الحاق کی بجائے اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کرنےجا رہے ہیں۔

’لاڑکانہ عوامی اتحاد کے ساتھ ہماری نیک خواہشات شامل ہیں ایک دوسرے کے اکثریتی علاقوں میں مدد کی جائے گی۔ لاڑکانہ اور رتو ڈیرو تحصیل میں ہماری اکثریت ہے تاہم باقرانی اور ڈوکری میں کچھ کمزور ہیں۔‘

صوبہ سندھ میں اس وقت حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کو سیاسی مخالفت کی بجائے کرپشن کے الزامات کا سامنا ہے جس نے اس کی ساکھ کو متاثر کیا ہے لیکن پیپلز پارٹی کی قیادت پُرامید ہے کہ وہ اس بار بھی میدان مار لےگی۔

اسی بارے میں