فضائیہ کے کیمپ پر حملہ،’26 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 43 ہلاک‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے نواح میں واقع پاکستانی فضائیہ کے کیمپ پر حملے میں 43 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ترجمان کے مطابق مرنے والوں میں 26 سکیورٹی اہلکاروں اور چار عام شہریوں کے علاوہ 13 حملہ آور بھی شامل ہیں۔

’منصوبہ افغانستان میں بنا اور وہیں سے کنٹرول کیا گیا‘

پاکستان فضائیہ کے کیمپ پر حملہ (تصاویر)

پاکستانی فضائیہ کب اور کہاں نشانہ بنی؟

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق جمعے کی صبح بڈھ بیر میں واقع کیمپ پر دہشت گردوں نے حملہ کیا۔

فرنٹیئر کانسٹیبلری کی وردی میں ملبوس حملہ آور دو مقامات سے کیمپ میں داخل ہوئے اور چھوٹے چھوٹے گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ایک گروہ نے کیمپ میں قائم مسجد میں داخل ہو کر 16 نمازیوں اور قریب ہی واقع بیرک میں موجود سات افراد کو ہلاک کیا اور ان سب ہلاک شدگان کا تعلق پاکستانی فضائیہ سے ہے۔

فوج کے مطابق دوسرا گروہ کیمپ کی دوسری جانب گیا اور وہاں کارروائی کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے دوران کوئیک رسپانس فورس کے میجر حسیب سمیت دس اہلکار زخمی ہوئے

اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں چار سویلین بھی ہیں جو کہ پاکستان کی فضائیہ کے ملازمین تھے۔

حملہ آوروں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں کوئیک رسپانس فورس سے تعلق رکھنے والے برّی فوج کے کیپٹن اسفند یار سمیت تین فوجی بھی ہلاک ہوئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 13 حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے اور فائرنگ کے تبادلے کے دوران زخمی ہونے والے فوجی اہلکاروں کی تعداد 29 ہے جن میں ایک میجر سمیت دو افسران بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سپرٹنڈنٹ پولیس شاکر بنگش نے بتایا ہے کہ پولیس نے فضائیہ کے کیمپ کے ارد گرد کے علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا

جائے وقوعہ سے ہمارے نامہ نگار عزیزاللہ خان نے بتایا ہے کہ کیمپ کو کئی گھنٹے جاری رہنے والے آپریشن کے بعد محفوظ قرار دے دیا گیا جس کے بعد فوج اور فضائیہ کے سربراہان نے وہاں کا دورہ کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی فضائیہ کے کیمپ میں واقع گارڈ روم پر سات سے دس حملہ آوروں حملہ کیا جبکہ اتنی ہی تعداد میں حملہ آوروں نےسکیورٹی حصار توڑ کر کیمپ میں گھسنے کی کوشش کی تھی۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کوئیک ری ایکشن فورس نے وہاں پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جبکہ اس دوران علاقے کی فضائی نگرانی بھی کی جا تی رہی۔

اس آپریشن کے دوران پاکستانی فوج کے ایک ہیلی کاپٹر کی کریش لینڈنگ کی بھی اطلاعات سامنے آئیں۔

عینی شاہدین کے مطابق علاقے میں صبح سویرے فائرنگ کی آوازیں سنی گئی تھیں لیکن اس علاقے میں فائرنگ معمول کی بات ہے اس لیے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔ تاہم جب دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوا تو وہاں کے رہائشیوں کو تشویش ہوئی۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کیمپ کو کئی گھنٹے جاری رہنے والے آپریشن کے بعد محفوظ قرار دے دیا گیا

وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف نے کیمپ پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور دہشت گرد کو جڑ سے اکھاڑنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف بھی پشاور پہنچے جہاں انھوں نے کور ہیڈکوارٹر کا دورہ کرنے کے علاوہ کیمپ میں جاری کلیئرنس آپریشن میں ہونے والے زخمیوں سے ملاقاتیں بھی کی۔

دوسری جانب صوبہ خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق غنی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس واقعہ کی مذمت کی۔

مشتاق غنی نے اس حملے کو دہشت گردوں کی جانب سے فوجی آپریشن ضرب عضب کا رد عمل قرار دیا۔

واضح رہے کہ پشاور سے تقریباً چھ کلو میٹر دور انقلاب نامی سڑک پر پاکستان فضائیہ کا یہ کیمپ واقع ہے اور 80 کی دہائی میں اسے باقاعدہ طور پر کیمپ کا نام دیا گیا تھا۔

قبائلی علاقوں سے متصل اس علاقے میں ماضی میں بھی پولیس سٹیشن، پولیس چوکیوں اور گرڈ سٹیشن پر متعدد حملے ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں