’حملے کا منصوبہ افغانستان میں بنا اور وہیں سے کنٹرول ہوا‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption عاصم باجوہ نے کہا کہ ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے اور جاری رہے گا

پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ پشاور کے قریب بڈھ بیر میں قائم فضائیہ کے کیمپ پر ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی اور دہشت گرد بھی وہیں سے آئے تھے۔

جمعے کی صبح پیش آنے والے اس واقعے میں 13 حملہ آوروں سمیت کل 43 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

کارروائی کے خاتمے کے چند گھنٹے بعد جمعے کی شام ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی اس کارروائی کو بھی افغانستان سے ہی کنٹرول کیا جا رہا تھا۔

فضائیہ کے کیمپ پر حملے میں 26 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 43 ہلاک

فضائیہ کے کیمپ پر حملے کی تصاویر

’حملہ آوروں نے نمازیوں پر دستی بم پھینکے‘

انھوں نے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ حملے کے دوران پاکستانی فضائیہ کے 23 اور برّی فوج کے تین اہلکاروں کے علاوہ فضائیہ کے چار شہری ملازمین بھی ہلاک ہوئے۔

میجر جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ کارروائی کے دوران خفیہ اداروں نے حملہ آوروں کی جو گفتگو سنی اُس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان کا تعلق تحریک طالبان پاکستان کے ایک گروہ سے تھا اور یہ تمام افغانستان سے آئے تھے۔

حملہ آوروں کی تعداد کے حوالے سے ٹی ٹی پی کی طرف سے کیے گئے دعویٰ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ جتنے بھی دہشت گرد کیمپ میں داخل ہوئے انھیں ہلاک کر دیا گیا اور ان کی لاشیں وہاں موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ حملہ آور ملیشیا وردیوں میں ملبوس تھے اور ان کے پاس راکٹ لانچر بھی تھے۔

دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں عاصم باجوہ کے مطابق سریع الحرکت فورس کے علاوہ لائٹ کمانڈوز اور سپیشل سروسز گروپ کے کمانڈوز نے بھی حصہ لیا اور بہت جلد دہشت گرد کا محاصرہ کر کے ان کے نہ صرف فرار کے راستے مسدود کر دیے بلکہ انھیں ہلاک کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فرنٹیئر کانسٹیبلری کی وردی میں ملبوس حملہ آور دو مقامات سے کیمپ میں داخل ہوئے اور چھوٹے چھوٹے گروہوں میں تقسیم ہوگئے

افغانستان کے بارے میں ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ ’افغانستان میں اگر پٹاخہ بھی چلتا ہے تو وہ اس کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کر دی جاتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ افغانستان کی ریاست اس واقعے میں ملوث ہو سکتی ہے۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ان کے پاس ٹھوس ثبوت ہیں کہ یہ حملہ آور افغانستان سے آئے تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں حکومت کی عملداری نہیں ہے۔

حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا ایک گروپ ایڈمن ایریا اور دوسرا گروپ وہیکل ایریا میں داخل ہوا تاہم گارڈ روم میں موجود ایئرفورس کے عملے نے دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انھیں روکا۔

ترجمان کے مطابق حملے کے دس منٹ کے اندر پاکستانی فوج کی سریع الحرکت فورس کے دستے بھی موقع پر پہنچے اور دہشت گردوں کو 50 میٹر سے زیادہ آگے جانے نہیں دیا گیا اور جو بھی لڑائی ہوئی اسی علاقے میں ہوئی۔

انھوں نے بتایا کہ مسجد اور اس کے پاس بیرک پر حملہ کرنے والے آٹھ دہشت گردوں کو گھیرے میں لینے کے بعد وہیں پر ختم کر دیا گیا جب کہ دوسرے گروپ کو بھی وہیکل ایریا سے آگے بڑھنے نہیں دیا گیا اور وہیں پر ان کا خاتمہ بھی کر دیا گیا۔

میجر جنرل عاصم باجوہ نے اس حملے کو قبائلی علاقے میں جاری آپریشن ضرب عضب کا ردعمل قرار دیا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آپریشن ضرب عضب کے نتائج سامنے آ رہے ہیں اور دہشت گردوں کے سہولت کار اور مددگار رفتہ رفتہ سامنے آرہے ہیں جن کا خاتمہ کیا جاتا رہے گا۔