ایل او سی پر تین شہریوں کی ہلاکت، بھارت سے احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارتی حکام نے یقین دہانی کروائی تھی کہ بھارتی افواج لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ میں پہل نہیں کریں گی

پاکستان نے کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے تین شہریوں کی ہلاکت پر بھارت سے سفارتی سطح پر احتجاج کیا ہے۔

ہلاکتوں کا یہ واقعہ جمعرات کو نکیال سیکٹر میں پیش آیا تھا اور اس میں ایک 13 سالہ لڑکی اور دو مرد منشی امین اور محمد زاہد ہلاک ہوئے تھے۔

دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اس سلسلے میں پاکستان میں تعینات بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو جمعہ کے روز وزارت خارجہ طلب کیا گیا اور اُن سے اس واقعے پر شدید احتجاج کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی سفارت کار پر واضح کیا گیا کہ بھارتی فوجی جان بوجھ کر نہتے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور یہ اقدام انتہائی قابل مذمت ہے۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کے حکام نے بھارتی نائب ہائی کمشنر پر واضح کیا گیا کہ بھارتی افواج سنہ 2003 میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔

بھارتی ہائی کمشنر سے کہا گیا کہ بھارتی افواج اس معاہدے کی پاسداری کریں تاکہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر امن قائم ہو سکے۔

خیال رہے کہ ’بلا اشتعال‘ فائرنگ کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب حال ہی میں پاکستانی رینجرز اور بھارت کی باڈر سکیورٹی فورس کے اعلیٰ حکام کے درمیان نئی دہلی میں ہونے والی بات چیت میں دونوں ملکوں نے لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کی خلاف ورزیاں کم کرنے اور سرحدوں کو محفوظ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

اسی دورے کے دوران بھارتی حکام نے یقین دہانی کروائی تھی کہ بھارتی افواج لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ میں پہل نہیں کریں گی تاہم پاکستانی حکام کے مطابق بھارتی حکام اپنے وعدے کی پاسداری نہیں کر رہے۔

لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر گذشتہ کچھ عرصے سے حالات کشیدہ ہیں اور پاکستان کی طرف سے یہ دعوی کیا جاتا رہا ہے کہ بھارتی افواج فائرنگ میں پہل کر رہی ہیں جس کا بھرپور جواب دیا جاتا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کا مشن بھی اُن علاقوں کا دورہ کر چکا ہے جو بھارتی فوج کی فائرنگ سے متاثر ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں