پرسکون دہشت گردی کے راستے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جمعے کو فضائیہ کے کیمپ پر حملے میں 13 حملہ آوروں سمیت کل 43 افراد ہلاک ہوئے تھے

پاکستان میں جب جب اہم تنصیبات اور مراکز پر دہشت گرد حملہ ہوتا ہے تب تب وہی تنقید، تعریفی کلمات اور تجزیے سنائی دکھائی دیتے ہیں جو ہر ایسے حملے کے بعد کی رسم بن چکے ہیں۔

مثلاً (اول) ’اب ایک ایک گز پر تو سپاہی کھڑا نہیں کیا جا سکتا۔‘

فضائیہ کے کیمپ پر حملہ،’26 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 43 ہلاک‘

یہی جملہ ظاہر کرتا ہے کہ کہنے والا معلوم دشمن سے جنگ اور سائے سے جنگ کے طریقوں میں کتنا فرق کرنے کے قابل ہے۔ ظاہر ہے دنیا کے کسی بھی ملک کے پاس اتنے سپاہی نہیں کہ ہر ہرگز پر کھڑے کیے جا سکیں۔تو پھر جو ممالک دہشت گردی کے عذاب سے جنگ آزما رہے انھوں نے کس طرح قابو پایا ؟ ان کے تجربات و اقدامات کو پاکستان کے معروضی حالات کے اعتبار سے اپنانے میں کیا قباحت ہے؟

(دوم) ’دہشت گرد سرحد پار سے آئے تھے اور انہیں بیرونی ایجنسیوں کی حمایت حاصل ہے۔‘

دنیا کی کوئی بھی انٹیلی جینس ایجنسی ریڈکراس یا ایدھی فاؤنڈیشن نہیں ہوتی۔ اگر آپ کو یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ دہشت گرد سرحد پار سے بھی آتے ہیں تو یہ کیوں معلوم نہیں ہوتا کہ کب اور کن راستوں اور کن مددگاروں کے ذریعے یا پاس آتے ہیں۔دہشت گردوں اور ان کے پشت پناہوں پر لعنت کے تیر برسانے کے بجائے یہی قیمتی وقت کاؤنٹر انٹیلی جینس صلاحیتوں کی بہتری میں بھی تو کھپایا جا سکتا ہے۔

(سوم) ’انٹیلی جینس ایجنسیوں کی باہمی رابطہ کاری بہتر کیے بغیر دہشت گردی پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق کیمپ پر حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی

تو پھر کیا بنیادی رکاوٹیں ہیں 30 کے لگ بھگ انٹیلی جینس ایجنسیوں میں قریبی رابطہ کاری کی راہ میں؟ کس نے روکا ہے ایک جدید اعلیٰ ترین ڈائریکٹوریٹ انٹیلی جنیس کے قیام کے لیے؟

تاکہ تمام ایجنسیاں اپنی اطلاعات مرکزی ادارے کو رپورٹ کریں اور پھر مرکزی ڈائریکٹوریٹ اطلاعات کو تصدیق کی چھلنی سے گزارتے ہوئے متعلقہ اداروں کو فوری ایکشن کے لیے بھجوا سکے۔ کمپیوٹر ایج میں یہ کام آخر کتنا مشکل ہے اور جو اہلکار کسی اطلاع کو آگے بڑھانے یا شئیر کرنے کے بجائے اس پر مرغی بن کے بیٹھ جاتا ہے اس کی قرار واقعی گوشمالی کتنا بڑا مسئلہ ہے؟

(چہارم) ’دہشت گرد فوجی، نیم فوجی اور پولیس وردیوں میں حملہ آور ہوئے۔‘

ظاہر ہے دہشت گرد وہ تمام بھیس بدلنے میں آزاد ہیں جو ان کے مشن میں سہولت فراہم کریں۔مگر وردی پہن کے دھوکہ دینے کی بے شمار وارداتوں کے باوجود آج بھی ملک کے اہم شہروں اور قصبات کے لنڈا بازار میں یا آرمی و پولیس سٹور کے نام سے مرکزی بازار میں کوئی نہ کوئی ایسی لائسنس یافتہ دکان مل جائے گی جہاں سے زرا سا بھی زہین شخص کوئی بھی معقول کہانی گھڑ کے وردی کا کپڑا حاصل کر سکتا ہے۔کون بتائے کہ ایسی دکانوں کا بھرے بازار میں کیا جواز؟

( پنجم ) ’دہشت گردوں سےجعلی پاسپورٹ ، دستاویزات اور شناختی کارڈ برآمد ہوئے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption دہشت گردوں سےجعلی پاسپورٹ ، دستاویزات اور شناختی کارڈ برآمد ہوئے

اچھا تو پھر نادرا کے چند کرپٹ اہلکاروں اور ان اہلکاروں سے ملے ایجنٹوں پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کیوں لاگو نہیں ہوتا جو چند ہزار روپے میں جعلی شناختی و سفری دستاویزات بنا کے کسی کو بھی تھما دیتے ہیں۔ حال ہی میں نادرا نے 50 ہزار مشکوک شناختی کارڈ منسوخ کیے ایسے کتنے ہزار ابھی اور ہیں؟

دنیا کے کئی ممالک میں ہر ہفتے کوئی نہ کوئی ایسا غیر پاکستانی پکڑا جاتا ہے جس کے پاس پاکستان کی بنی ہوئی اصلی سفری دستاویزات ہوتی ہیں۔یاد کیجیے کہ نادرا کا قیام ہی اس لیے عمل میں آیا تھا کہ کمپیوٹرائزڈ دستاویزات کی تیاری سے وہ کمزوریاں دور ہو سکیں گی جو ہاتھ سے تیار دستاویزات میں پائی جاتی ہیں۔ تو پھر اب یہ کیا ہو رہا ہے اور جو جو یہ کر رہے ہیں ان کا کیا ہو رہا ہے؟

(ششم) ’دہشت گردوں کے مالی چشمے خشک ہوئے بغیر دہشت گردی ختم نہیں ہو سکتی۔‘

کوئی بھی صحیع الدماغ دہشت گرد بینک اکاؤنٹ کے ذریعے لین دین نہیں کرتا۔یہ کیش کی دنیا ہے۔ کیش ڈاکے اور ہمدردوں کی ملی بھگت سے جمع ہوتا اور سفر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ہنڈی ، ایزی پیسہ وغیرہ جیسی سہولتوں، کیش سمگلنگ یا اشیا کو خرید و فروخت کے ذریعے کیش میں کنورٹ کرنے یا چندے کے بھیس میں یا پھر کالے دھن کو سفید دکھانے کی مشق بھی بہت کارآمد ہے۔ اگر معیشت کی م سے ناواقف مجھ جیسے چھٹ بھئیے ایسی سطحی باتیں جانتے ہیں تو پھر ماہرین تو بہت ہی کچھ جانتے ہوں گے ۔پھر بھی سرچشمے یا چشمے پر بند نہ بندھ سکے تو اوزار یا نئیت میں سے کوئی ایک شے ضرور خراب ہے۔

( ہفتم ) ’دہشت گرد بغیر نمبر پلیٹ کی گاڑیوں میں آئے تھے، جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑیوں میں آئے تھے، کالے شیشے والی گاڑیوں میں آئے تھے وغیرہ وغیرہ۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی میں امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے کے لیے تقریباً دو برس سے ٹارگٹیڈ آپریشن جاری ہے

جعلی نمبر پلیٹ پکڑنا تو رہا ایک طرف ، پچھلے 15 برس میں 50 ہزار سے زائد شہری و عسکری جانیں گنوانے کے باوجود بہت کم پولیس والوں یا نجی محافظوں کو جرات ہوتی ہے کہ بغیر نمبر پلیٹ یا کالے شیشوں والی کسی بڑی گاڑی کو روک سکیں۔ ایسی گاڑیاں عموماً دو طرح کے لوگ استعمال کرتے ہیں۔اپنی زات میں قانون طاقتور حکمراں ، افسر و سیاستداں یا پھر دہشت گرد۔دونوں اقسام کو ہاتھ کے اشارے سے روکنا نوکری یا جان خطرے میں ڈالنا ہے۔ زناٹے سے گزر جانے والی گاڑی میں بیٹھے مسلح افراد کے بارے میں کسی معمولی سنتری کے لیے یہ فوری فیصلہ بھی مصیبت ہے کہ یہ مسلح دہشت گرد تھے کہ سادہ لباس اہلکار۔

آپ نے اسلام آباد، لاہور اور کراچی کی بڑی شاہراہوں پر اکثر دیکھا ہوگا کہ وی آئی پی موومنٹ سے گھنٹوں پہلے سڑک کے دونوں جانب پولیس یا نیم فوجی دستوں کے سپاہی شطرنجی مہروں کی طرح ہر چند گز پر کھڑے کر دیے جاتے ہیں۔پورے شہر کو معلوم ہو جاتا ہے کہ کون گزرنے والا ہے ۔پھر بھی دعا کی جاتی ہے کہ کسی دہشت گرد کو پتہ نہ چلے۔

جب سامنے کی خامیاں بھی اتنے جانی و مالی و نفسیاتی نقصانات اٹھانے کے باوجود ٹھیک نہیں ہو پا رہیں تو پھر کاؤنٹر انٹیلیجینس، کاؤنٹر انسرجنسی اور رابطہ کاری کے موضوعات پر وقت اور لفظ ضائع کرنے سے کیا حاصل ۔بس ہم اور آپ ہوتے رہیں مرنے والے کے غم میں برابر کے شریک اور زبان سے کمر توڑتے رہیں دہشت گردوں کی اور گرماتے رہیں قوم کا خون ہمیشہ کی طرح۔۔۔

مگر سلام ہے ان تمام سویلینز اور باوردی سپاہیوں کو جو ایسے حالات اور کمزوریوں کے باوجود دشمن سے پنجہ آزمائی کرتے ہوئے فرض پر قربان ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں