ڈبل پتی پان اور جنوبی ایشیائی امن!

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اب یہی دیکھیے کہ بھارت مسلسل کہہ رہا ہے کہ کشمیر سے تامل ناڈو تک جو بھی دہشت گردی ہے اس کے پیچھے براہِ راست یا بلا واسطہ پاکستانی ہاتھ ہے۔

پاکستانی قیادت کو یقین ہے کہ بلوچستان سے کراچی اور طورخم تا وہاڑی جو بھی بدامنی ہے اس کے پیچھے بھارت کے دونوں ہاتھ ہیں۔ایک آگے سے اور دوسرا افغان سمت سے۔

جبکہ افغان قیادت کا ماننا ہے کہ کل کی طرح آج بھی کابل میں تنصیبات پر حملے ہوں کہ غزنی جیل کا ٹوٹنا کہ دیگر جنوبی صوبوں میں افغان دستوں پر حملے۔ سب کے پیچھے وہ گروہ ہیں جنھیں پاکستانی انٹیلی جنس اسٹیبلشمنٹ کی پوشیدہ کمک و تائید حاصل ہے۔ دوسری طرف پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو یقین ہے کہ پشاور میں گذشتہ برس آرمی پبلک سکول کے قتلِ عام کا معاملہ ہو کہ بڈابیر پر تازہ حملہ۔ سب کے ڈانڈے افغان سرزمین سے جا کے ملتے ہیں۔

بھارت کہتا ہے پاکستان میں جو بھی ہورہا ہے اس کا ہم بہو بیٹیوں سے کیا لینا دینا، ہم تو خود پاکستان کی دہشت گردی کا شکار ہیں۔

پاکستان کہتا ہے ہم بھلا کیوں بھارت اور افغانستان میں دھشت گردی کی حوصلہ افزائی کرنے لگے۔ ہم تو خود پچھلے 15 برس سے دہشت گردی کے سب سے بڑے شکار ہیں اور اب تک 50 ہزار سے زائد لاشیں اٹھا چکے ہیں۔

افغانستان کہتا ہے کہ ہم تو خود کو نہیں سنبھال پا رہے تو پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کیسے کرسکتے ہیں۔

گویا آج کا جنوبی ایشیا جغرافیہ کم اور نفسیاتی گورکھ دھندا زیادہ ہے۔ جہاں پائے جانے والے تین ممالک بیک وقت مظلوم بھی ہیں اور ظالم بھی۔ تینوں ظلم و مظلومیت کی اس دلدل سے نہ خود نکلنے پر آمادہ ہیں نہ ایک دوسرے کو نکالنے پر۔

چنانچہ اس مقام سے ماہرین نفسیات کا علاقہ شروع ہوتا ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ اب تک دنیا میں نفسیات کی جو زیلی اقسام پڑھائی جا رہی ہیں ان میں اجتماعی نفسیات تو شامل ہے لیکن علاقائی نفسیات کو بطور سبجیکٹ اب تک تسلیم نہیں کیا گیا۔

اگر ریجنل سائیکالوجی پر بھی بطور مضمون دھیان دیا جائے تو پہلی موثر اجتماعی کیس سٹڈی بھارت، پاکستان اور افغانستان کی ہوسکتی ہے اور یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ کیا نفسیاتی عوامل ہیں جن کے سبب یہ تینوں ممالک نارمل طرزِ عمل اختیار کرنے کی خواہش کے مقابلے میں اذیت پرستی ، اذیت پسندی اور خود اذیتی میں زیادہ تسکین محسوس کرتے ہیں۔

مگر ظاہر ہے کہ ریجنل سائیکالوجی کا نصاب ہماری خواہش کے مطابق اتنی جلدی تو مرتب ہونے سے رہا۔اگر اس بابت آج سے ہی سوچنا شروع کیا جائے تب بھی مضمون کو نصابی شکل میں ڈھلنے اور پھر اس کے ماہرین پیدا کرنے میں کم ازکم پانچ سے دس برس درکار ہیں۔ اتنی دیر میں تو بھارت، پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کو کاٹ کاٹ کے اور لہو لہان کردیں گے۔ چنانچہ بطور فوری اور عبوری حل پان کا استعمال ازبس ضروری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

یوں تو پان کھانے کے بہت سے نقصانات بتائے جاتے ہیں مگر دو بنیادی فائدے بھی ہیں۔ پان کھانے سے منہ بند رہتا ہے اور منہ بند ہو تو فالتو کے خیالات پیک میں گھلتے رہتے ہیں۔ چنانچہ پان کھانے والا کلے گھماتے گھماتے اپنے اور آس پاس کے بارے میں زیادہ بہتر اور مثبت انداز میں سوچ سکتا ہے۔

اگر بھارت، پاکستان اور افغانستان کی قیادت صبح سے رات سوتے تک روزانہ ڈبل پتی کے دس سے پندرہ پان کھانے کی عادت اپنا لے تو منہ بند ڈپلومیسی سے خطے میں قیامِ امن کے امکانات 50 فیصد زائد روشن ہوسکتے ہیں۔

( بس اتنی احتیاط برتنی ہوگی کہ خلافِ مزاج یا مزاحیہ بات سن کر اچھو لگے تو پیک کی پھوار دوسرے کے کپڑوں تک نہ پہنچے )۔

اسی بارے میں