کٹاس کا طلسم کدہ

کُلاچ سے کیلاش ایک قسط وار سفرنامہ ہے جو کراچی سے وادی کیلاش تک ہمارے ساتھی شرجیل بلوچ نے چند منچلے خواتین و حضرات کے ساتھ طے کیا ہے۔ راستہ تو خوبصورت ہے ہی، مگر راہی بھی کم نہیں۔یہ سفر نامہ ہر اتوار کو قسط وار شائع کیا جاتا ہے۔ پیش ہے ساتویں قسط

تصویر کے کاپی رائٹ Rizwan Bhirya
Image caption سکندر کے زمانے سے آئے ہوئے قافلے کو شیِو دیوتا کے اس طلسماتی قلعے نے اپنے اندر کھینچ لیا

آسمان بادلوں سے بھرا ہوا تھا اور وقت کا اندازہ مشکل سے ہو رہا تھا۔ کھیوڑہ چھوڑتے ہوئے ہماری کوسٹر مزید اوپر بل کھاتے پہاڑ کے گرد گھومتی جا رہی تھی اور دور نیچے وادی میں کچے پکے مٹی کے گھروندے نظر آرہے تھے۔

ایک بڑی سی سیمنٹ فیکٹری سے نکلتا ہوا گاڑھا گاڑھا گرد آلود دھواں اس گاؤں پر پھیل رہا تھا اور وادی کا دم گھٹتا جا رہا تھا۔

پہاڑ کا آخری موڑ مڑتے ہی وہ گاؤں، گھروندے، فیکٹری اور دھواں سب اوجھل ہو گیا۔

کلاچ سے کیلاش تک: پہلی قسط

گنڈا پور والے دنگل: دوسری قسط

قصہ قصور کا: تیسری قسط

میں ہوں عادل لاہوڑی: چوتھی قسط

جھیل میں بیٹھی بوڑھی دلہن: پانچویں قسط

کھیوڑہ کا نمک زاد: چھٹی قسط

پہاڑ کا دوسرا منظر پہلے سے زیادہ خوبصورت اور خواب ناک ہے۔ پہاڑوں کے درمیان چُونے کی سفید کانوں میں جلتے ہوئے کوئلے کے دودھیا سے دھوئیں میں کالی خوشبو گُندھی ہوئی ہے۔ ہاں یہ وہی کوئلے کی خوشبو ہے جو مچھ شہر میں داخل ہوتے ہی آنے والے سے دامن گیر ہو جاتی ہے۔ میرے دیس میں شام کو پھیلتی کالی خوشبو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Rizwan Bhirya
Image caption پتھریلی محرابوں والے وقت زدہ مندر، ابر آلود شام اور ان سب پر ایک دبیز خاموشی۔کٹاس راج نے جیسے سب کو ہپناٹائز کر دیا تھا

اور پھر دور دور تک پھیلے ہوئے وادی ُسون کے سرسبز بھاگتے کھیت۔ شام کو لوٹتے ہوئے تیز قدم چرواہے اور اُن کھیتوں کے بیچوں بیچ وہ اکیلا سرخ لباس والا شہزادہ درخت۔ کتنی شان ہے اس وادی میں۔ اور پھر کھیتوں کے ختم ہوتے ہوتے وہ کچے پکے گھر اور ان کے سامنے پڑا ہوا زخمی رستہ جو چلتے چلتے سیدھے ہاتھ کو مڑتا ہے تو چوا سیدن شاہ آ کھڑا ہوتا ہے۔

ہم سیدن شاہ سے یوں کترا کر گزرے جیسے وہ کوئی فٹ پاتھ پر کھڑا ہوا دیسی دوائیں اور نسخے بیچنے والا سفید پوش ٹھگ ہو۔

مغرب میں ابھی کافی وقت باقی تھا جب قافلے کی اونٹنی پہاڑی دامن میں آباد کٹاس راج مندر پہنچ کر رکی اور بیٹھ گئی۔ سکندر کے زمانے سے آئے ہوئے قافلے کو شیِو دیوتا کے اس طلسماتی قلعے نے اپنے اندر کھینچ لیا۔ آہستہ آہستہ سب ایک دوسرے سے بات کیے بغیر اپنے اپنے ٹرانس میں چلتے ہوئے کٹاس راج مندر میں داخل ہوتے چلے گئے۔

پتھریلی دیوار میں بنے گیٹ کے اندر دُور تک پھیلے سبز میدان، ان کے درمیان بجریلا رستہ اور اس کے آگے ایک زمرد جیسی سبز جھیل۔ ہاں یہ وہی جھیل ہے جو ستی دیوی کی موت پر شِیو بھگوان کے آنسوؤں سے بنی اور آج تک بھری ہوئی ہے۔

اس جھیل میں ایک سفید بادل تیر رہا ہے اور جھیل کے اردگرد سبز پہاڑیوں میں صدیوں پرانے، اونچے نیچے، پتھریلی محرابوں والے وقت زدہ مندر، اوپر سے ابر آلود شام اور ان سب پر ایک دبیز خاموشی۔ کٹاس راج نے ہمیں جیسے ہپناٹائز کر دیا تھا۔

اس مندر کے دروبام میں سچ مچ جیسے کوئی مقناطیسی کشش تھی۔ ہر چبوترے ہر بالکونی، ہر دریچے سے جھانک جھانک کر ہم ایک دوسرے کے سامنے سے گزرتے اور دوسرے کو سامنے سے ہٹاتے اس طلسم نگری میں مزید کچھ ڈھونڈنے لگتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Rizwan Bhirya
Image caption ویدوں کے مطابق، یہ جھیل ستی دیوی کی موت پر شِیو کے آنسوؤں سے بنی اور آج تک بھری ہوئی ہے

ہر ایک اس دیو مالائی استھان کا حُسن اپنے اپنے تھیلے میں بھر رہا تھا۔ ہم اور ہمارے کیمرے دونوں آٹو پر چل رہے تھے۔

میں پتھریلی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے پہاڑی کے اُوپر، سب سے اوپر ایک مندر کے احاطے میں پہنچ کر رک گیا۔ پہاڑ کی یہ سطح میدانی اور ہموار تھی اور میدان میں دور تک گھاس کا سبز قالین بچھا ہوا تھا۔

میں نے پھر نیچے جھانکا۔ راستے میں ایک مندر اور مندر کے ان چھوٹے چھوٹے مقبروں میں لُوکا چھُپی کھیلتے ہوئے راجہ، راول، سمیع اور فیضان اور پھر چوکور سبز جھیل اور جھیل میں مزے سے پاؤں ڈالے ہوئے پیاری سی فراست آنٹی جن کے چہرے پر ہر وقت ہیپی بُدھا جیسا سکون اور اطمنان رہتا ہے۔

میرے پیچھے سب سے آخری اور اونچے مندر کی چھت پر فراست آنٹی کی سارہ جو عروج کو آوازیں دے کر اُوپر بلا رہی ہے اور اس کی آواز کا تعاقب کرتی اندھیری سیڑھیاں چڑھتی عروج اور عروج کو دیکھتی ہوئی اس کی فکرمند خالہ اور میرے قریب سے تیزی سے گزرتا ہوا رضوان، جس نے نیم اندھیرے میں پھر کوئی فریم ڈھونڈ لیا ہے۔ میں یہ تمام منظر اپنی آنکھوں میں بھرتا جا رہا ہوں۔

سورج بادلوں کی رضائی اوڑھے اندر ہی اندر سو چکا تھا۔ میری نظر دور اس پہاڑی گاؤں تک جا کر رک گئی ہے جو سیمنٹ فیکٹریوں کے درمیان ایک حبس زدہ، سہما ہوا سا بچہ دکھائی دے رہا تھا۔ سیمنٹ فیکٹریوں کا گاڑھا گاڑھا دھواں کسی آسیب کی طرح اس گاؤں پر پھیلتے پھیلتے اب کٹاس مندر کی طرف بڑھ رہا ہے۔ آسمان پر کالی گھٹائیں اس دھویں کے دیو کو گرُز مار رہی ھیں مگر وہ اپنی مہیب چال چلتا ہوا مندر کی جانب بڑھتا ہی چلا آ رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Rizwan Bhirya
Image caption پہاڑی گاؤں سیمنٹ فیکٹریوں کے درمیان ایک حبس زدہ، سہما ہوا سا بچہ دکھائی دے رہا تھا

میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا کہ اچانک میرے چہرے پر بارش کے چھینٹے پڑے اور میرا تصور ٹوٹ گیا۔ میں پتھریلی بل کھاتی سیڑھیوں پہ تیزی سے نیچے اترنے لگا اور پھر بھاگتے بھاگتے میں اور برسات دونوں ایک ساتھ بس تک پہنچے۔

بس کے باہر برستی ہوئی رات اور بھیگتی ہوئی سڑک تھی۔ اندر دن بھر کے تھکے ہوئے خوابیدہ سے لوگ۔ چھوٹی سی فاطمہ موٹی موٹی آنکھیں کھولے کھڑکی پہ پھسلتی بوندوں کودیکھ رہی ہے۔ کبھی کبھی وہ انگلی سے بھاپ والے شیشے پہ لکیریں بناتی اور پھر ان کو مٹا دیتی ہے۔

بس کا رخ ایبٹ آباد کی طرف ہے جو ابھی دو گھنٹے کی مسافت پر ہے۔

اسی بارے میں