سکول فیس میں اضافے کے لیے متفقہ پالیسی بنانے کا حکم

Image caption پاکستان کے بڑے شہروں میں نجی سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے والدین نے آٹھ ستمبر کو احتجاج شروع کیا تھا

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے حکم دیا ہے کہ رواں برس نجی سکولوں کی فیسوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

انھوں نے وزارت کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ کو اس حکم پر عمل درآمد کی ہدایت جاری کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ تمام متعلقہ لوگوں سے مشاورت کے بعد نجی سکولوں کی فیسوں میں اضافے کی ایک متفقہ پالیسی تشکیل دی جائے۔

نجی سکولوں کا نگراں ادارہ، چیئرمین کی تقرری کا انتظار

اس کے علاوہ وزیراعظم کے حکم نامے میں متعلقہ حکام کو نجی سکولوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قانون سازی تجویز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔

تاہم اتوار کو جاری ہونے والے اس حکم نامے میں حکومت کے زیرانتظام کام کرنے والے ریگولیٹری ادارے پرائیویٹ ایجوکیشن انسٹی ٹیوشن ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین کی تقرری کے حوالے سے کوئی ذکر نہیں۔

اس کے علاوہ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ ایسے والدین جو اضافی فیسیں جمع کروا چکے ہیں ان کے لیے نجی سکولوں کو کیا ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ آٹھ ستمبر کو پاکستان کے بڑے شہروں میں نجی سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے والدین نے فیسوں میں بلا جواز اضافے اور دوسرے اخراجات کی مد میں بےجا وصولیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔

والدین کے احتجاج کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعظم نے وزیر مملکت برائے تعلیم بلیغ الرحمان کو والدین اور سکولوں کے مالکان اور انتظامیہ سے مذاکرات کی ذمہ داری سونپی تھی۔

ان مذاکرات کے بعد یہ حکم نامہ جاری کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں نجی سکولوں کی فیسوں میں اضافہ واپس لینے کو کہا گیا ہے۔

تاہم دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ریگولیٹری اتھارٹی کو متحرک کرنے کا اہم کام مکمل کرتی ہے یا پھر اس کے چیئرمین کی ملازمت اور ذمہ داریوں کے حوالے سے حکومت کی مختلف ڈویژن آپس میں عرصے سے جاری خط و کتابت کے سلسلے کو جاری رکھنے پر ہی اکتفا کریں گے۔

اسی بارے میں