حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ کون دے گا؟

Image caption مبصرین کہتے ہیں کہ صوبے کے کئی دور افتادہ اِضلاع ایسے ہیں جہاں حالات پہلے سے بدتر ہوئے ہیں

آج سے دو برس پہلے بلوچستان کے حالات بہت خراب تھے۔ کوئٹہ کی شیعہ ہزارہ کمیونٹی فرقہ وارانہ حملوں کی زد میں تھی ۔ اغوا برائے تاوان ایک کاروبار بن چکا تھا۔ صوبے میں ڈیتھ اسکواڈز دندناتے پھرتے تھے۔ آئے دن مسخ شدہ لاشیں ملنے کی خبریں عام تھی۔ ملک میں بلوچستان میں جاری شورش پر بے چینی اور فکرمندی نظر آتی تھی۔

’مزاحمت کاروں کو کچلنا مسئلے کا حل نہیں‘

بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر متضاد دعوے

فوج اور حکومت کے مطابق آج حالات قدرے بہتر ہو چکے ہیں۔ کوئٹہ میں معمول کی زندگی خاصی حد تک لوٹ آئی ہے۔ فرقہ وارانہ گروہوں اور ڈیتھ اسکواڈز کو لگام دی گئی ہے۔ لوگ ہائی ویز پر رات کا سفر کرنے سے پہلے کی طرح نہیں گھبراتے۔حکام کے مطابق اس بار کوئٹہ میں جس پیمانے پر جشِ آزادی منایا گیا، وہ بھی اپنی مثال آپ تھا۔

لیکن مبصرین کہتے ہیں کہ صوبے کے کئی دور افتادہ اِضلاع ایسے ہیں جہاں حالات پہلے سے بدتر ہوئے ہیں۔

بلوچ حقوق کی کارکن بی بی گُل کہتی ہیں: ’ صرف پچھلے تین مہینوں کے دوران، دشت، مشکے، قلات، مستنگ اور نوشکی جیسے علاقوں میں فوجی آپریشن ہوئے ہیں جن میں گائوں کے گائوں تباہ و برباد کر دیے گئے۔ ان کاروائیوں میں فوج نے جیٹ طیارے اور گن شپ ہیلی کاپٹر استعمال کئے اور نہتے دیہاتیوں کو نشانہ بنایا۔‘

ایسی ہی ایک بڑی کاروائی گذشتہ عید پر 18 جولائی کے دن ضلع آواران میں کی گئی جس کا نشانہ کالعدم تنظیم بی ایل ایف کے کمانڈر ڈاکٹر اللہ نظر تھے۔ حکومت کا خیال ہے کہ وہ اس بمباری میں مارے گئے لیکن ٹھوس شواہد نہ ہونے کی وجہ سے وہ یہ بات وثوق سے نہیں کہہ سکتے۔

مقامی ذرائع کے مطابق آپریشن غیراعلانیہ اور بلامتیاز تھا جس میں کافی جانی و مالی نقصان ہوا۔ بی بی گل بتاتی ہیں: ’ سکیورٹی فورسز نے ایک مہینے تک علاقے کو اپنے گھیرے میں رکھا۔ لوگوں کو لاشیں اٹھانے تک کی اجازت نہیں تھی۔ وہاں کئی لاشیں پڑی سڑتی رہیں ۔‘

آواران آپریشن کے بعد لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں سے در بدر ہوئی۔ لیکن کسی نے اُن کی کوئی خاص پراہ نہ کی، نہ انھیں آئی ڈی پیز قرار دیا گیا، نہ کوئی ان کی امداد کو آیا۔

Image caption تربت کے مصنف، شاعر اور سماجی کارکن غنی پرواز کہتے ہیں کہ سب جانتے ہیں کہ عام معافی کی مہم سرکاری پروپگینڈے کا حصہ ہے

قومی میڈیا میں اب تو بلوچستان کی خبریں کم کم ہی آتی ہیں۔ بریکنگ نیوز کے نام پر جو خبریں آتی ہیں وہ اکثر حکومت اور فوج کے یک طرفہ دعوئوں پر مبنی ہوتی ہیں۔

مثلاً ٹی وی چینلوں پر آئے دن یہ خبر تو چلتی ہے کہ آج اتنے مزید بلوچ جنگجوئوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ لیکن کوئی یہ بتانے کی زحمت نہیں کرتا کہ یہ کون لوگ ہیں یا اُن کا کتنا اثر ہے۔ تربت کے جانے مانے مصنف، شاعر اور سماجی کارکن غنی پرواز کہتے ہیں کہ سب جانتے ہیں کہ عام معافی کی مہم سرکاری پروپگینڈے کا حصہ ہے۔

’جتنے بھی لوگوں نے سرِ عام ہتھیار پھینکے ہیں اُن میں سے شاید ہی کوئی بندہ ایسا ہو جس کے بارے میں ہم کہہ سکیں کہ وہ کوئی مشہور کمانڈر ہے۔ ان میں زیادہ تر لوگ اُن کے اپنے بھتہ خور اور کارکن ہیں۔‘

بلوچ حقوق کے کارکن کہتے ہیں کہ صوبے میں جبری گمشدگیوں اور مسخ شدہ لاشوں کا سلسہ آج بھی جاری ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ واقعات رپورٹ نہیں ہو رہے۔ شاید اسی لیے حکام یہ تاثر دیتے نظر آتے ہیں کہ حالات بہتر ہو رہے ہیں، علیحدگی پسند تحریک کا زور ٹوٹ رہا ہے اور بلوچستان میں پاکستان کا پرچم لہرانا شروع ہوگیا ہے۔

لیکن کیا طاقت کے زور پر بھلا کبھی کسی نے لوگوں کے دل جیتے؟

وزیرِاعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک کے شہر تربت کی مثال لیجیے۔ وہ وہاں ترقتاتی کاموں کی خواہش رکھتے ہیں اور نئے کالج اور یونیورسٹیاں تعمیر کروا رہے ہیں۔ دو سال پہلے تک تربت شہر میں جگہ جگہ آزاد بلوچستان کے جھنڈے نظر آتے تھے۔ آج ایسا نہیں۔

لیکن جو جھنڈے اتروا دیے گئے ان کی جگہ پاکستانی پرچم نہیں لے سکے۔ یہاں آج بھی اگر آپ کو کہیں سبز ہلالی پرچم نظر آئے گا تو وہ ایف سی کی چیک پوسٹوں اور ان کی گاڑیوں پر ہوگا۔ البتہ شہر میں ہر طرف دیواروں پر جو نعرے درج نظر آئیں گے وہ ’پاکستان سامراج‘، آئی ایس آئی اور ایف سی کے خلاف ہوں گے۔

بلوچستان کا یہ وہ رخ ہے جسے نہ ہم دیکھنا چاہتے ہیں نہ دکھانا چاہتے ہیں۔

Image caption وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ کے مطابق ان کے دو سالہ دور حکومت میں کافی معاملات ایسے ہیں جن پر وہ کچھ نہیں کر پائے

وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے دو سالہ دور حکومت میں کافی معاملات ایسے ہیں جن پر وہ کچھ نہیں کر پائے۔ لاپتہ افراد کا معاملہ ہو یا بلوچستان کا سیاسی حل ڈھونڈنے کی بات، حکومت بے بس رہی ہے۔ پھر بھی بلوچستان میں ان کی قیادت کو نسبتاً بہتر طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ خود کوئی قبائیلی رہنما نہیں سیاسی سوچ رکھنے والے مڈل کلاس کے آدمی ہیں۔

بلوچستان کی قوم پرست سیاست میں تین دہائیں گزارنے کے بعد وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ طاقت کا اصل محور کہاں ہے اور اس کے ساتھ کیسے چلنا ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ موجودہ سیٹ اپ کے لئے دوسروں کی نسبت وہ زیادہ قابل قبول سمجھے گئے۔

ورنہ اس ملک میں تو جس کے پاس حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ نہیں، اس کے لیے زمین تنگ کر دی جاتی ہے۔ آپ چاہے انسانی حقوق کے کارکن ہوں، صحافی یا سماجی ورکر، آپ کے ساتھ کچھ بھی کیا جا سکتا ہے۔ دراصل بندوق کے زور پر چلائے جانے والوں ملکوں میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔ ریاست کے محافظ عوام کی بجائے اپنے آپ کو ہی ملک کا اصل وارث سمجھ بیٹھتے ہیں۔ تبھی تو سامنے نہتے صحافیوں کو سامنے بٹھاکر ان پرگرجتے ہیں: ’ہاں ہم ملک دشمنوں کو مار رہے ہیں اور آگے بھی ماریں گے، کیونکہ یہ ہم طے کرتے ہیں کہ یہاں کون محب وطن ہے اور کون نہیں۔‘

اسی بارے میں