آرمی چیف نے نو شدت پسندوں کی سزائےموت کی توثیق کر دی

Image caption مجرمان فرقہ وارانہ وارداتوں اور دوسری دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے نو شدت پسندوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی ہے۔ ان افراد کو فوجی عدالتوں کی طرف سے محتلف مقدمات میں مجرم ثابت ہونے پر موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق یہ افراد میجر جنرل ثناء اللہ اور کرنل توصیف پر جان لیوا حملہ کرنے کے علاوہ نوشہرہ میں مسجد پر حملے اور صوبہ خیبر پختونخوا میں عام شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں ملوت ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ مجرمان صوبہ بلوچستان کے علاقے مستونگ میں فرقہ وارانہ شدت پسندی کی کارروائیوں میں بھی ملوث ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایک مجرم کو عمر قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اُن نو مجرموں کے ناموں اور اُن کے خلاف درج کیے گئے مقدمات کی فہرست جاری کر دی ہے جنھیں فوجی عدالتوں کی طرف سے موت کی سزا سنائی گئی ہے اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ان سزاوں کی توثیق کی ہے۔

فوجی عدالتوں سے موت کی سزا پانے والے تمام مجرم عام شہری ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق مجرم جمیل الرحمن کو سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے کے الزام میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں جنرل افسر کمانڈنگ میجر جنرل ثناء اللہ اور لیفٹیننٹ کرنل توصیف احمد ہلاک ہوگئے تھے۔ مجرم پر سکیورٹی فورسز اور فرنٹیر کانسٹیبلری کے اہلکاروں کو اغوا کرکے اُن کے گلے کاٹنے کا بھی الزام تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق مجرم سعید زمان کالعدم تنظیم حرکت جہاد اسلامی کا سرگرم رکن تھے اور اُن پر الزام تھا کہ اُنھوں نے صوبہ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔ آئی ایس پی ار کے مطابق مجرم نے میجسٹریٹ کے سامنے اقبال جرم کیا ہے جس کی بنا پر اُنھیں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق مجرم عبیداللہ کو بھی سکیورٹی فورسز پر حملوں کے الزام میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ عبیداللہ کے قبضے سے خودکش جیکٹیں اور بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا۔ مجرم کا تعلق بھی حرکت جہاد اسلامی سے بتایا جاتا ہے۔

مجرم محمود کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اُن کا تعلق کالعدم تحریک طالبان سے ہے اور اُنھیں قانون نافد کرنے والے اداروں کے اہلکاروں ہر راکٹ لانچر سے حملے کے الزام میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔’

مجرم قاری زبیر محمود کو نوشہرہ میں ایک مسجد پر خودکش حملہ کرنے میں معاونت کرنے پر موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

مجرم رب نواز کا تعلق کالعدم تحریک طالبان سے بتایا جاتا ہے اور وہ پشاور میں دو شہریوں کو ہلاک کرنے کے علاوہ اُن پر سکیورٹی فورسز پر حملہ کر نے میں معاونت کا بھی الزام تھا۔ ان مقدمات میں جرم ثابت ہونے پر رب نواز کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

مجرم محمد سہیل پر سکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے کے علاوہ بنوں جیل پر حملہ کرنے کا بھی الزام تھا جس میں اُنھیں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

مجرم محمد عمران کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ صوبہ بلوچستان کے علاقے مستونگ میں فرقہ وارانہ شدت پسندی کے واقعات میں ملوث ہیں جس میں 27 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ مجرم پر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملوں کا بھی الزام تھا۔

مجرم اسلم خان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملوں میں ملوث ہے اور ان مقدمات میں جرم ثابت ہونے پر اُنھیں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

مجرم جمشید رضا کو سکیورٹی فورسز پر حملوں کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

اس سے پہلے دو مجرموں نے فوجی عدالتوں کی طرف سے ملنے والی سزائے موت کے خلاف ہائی کورٹوں سے حکم امتناعی حاصل کیا ہے۔

21 آئینی ترمیم میں فوجی عدالتوں کے اختیارات میں توسیع کرنے کے بعد ان عدالتوں کے طرف سے جن افراد کو موت کی سزا سنائی گئی ہے اُن میں سے کسی ایک کی سزا پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا۔

آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ مجرموں کو ابھی اپیلوں کا حق حاصل ہے اس لیے جب تک وہ یہ حق استعمال نہیں کرتے اُس وقت تک ان سزاؤں پر عمل درآمد ممکن نہیں ہے۔

فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے متعدد مجرموں کے رشتہ داروں نے الزام عائد کیا ہے کہ متعقلہ حکام ان فیصلوں کی نقول فراہم نہیں کرتے جس کی وجہ سے اُنھیں ان فیصلوں کے خلاف اپیل دائر کرنے میں مشکلات درپیش ہیں۔

اسی بارے میں