کیا دہشتگردوں کی مالی معاونت کو روکنا ممکن ہے؟

Image caption کیا یہ عطیات محض فلاحی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں؟

پاکستان کے گلی کوچوں میں چندہ اکٹھا کرنا آج بھی کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ ہر بازار میں ایک آدھ دوکان کے کاؤنٹر پر اب بھی آپ کو ایک کونے میں پلاسٹک کے چھوٹے ڈبے دکھائی دیں گے۔

بعض جانی پہچانی فلاحی تنظیموں کے بارے میں تو معلوم ہے کہ اکٹھی کی گئی رقم صرف فلاحی منصوبوں پر صرف ہوتی ہیں لیکن اکثر نئے اور قدرے غیر معروف ناموں والے بھی ڈبے نظر آتے ہیں۔

حکومت نے گذشتہ دنوں جہادی تنظیموں کے اس طرح چندہ اکٹھا کرنے پر تو پابندی عائد کی لیکن کیا وہ اس بات کا خیال بھی رکھ رہی ہے کہ یہ نامعلوم تنظیمیں رقوم کہاں خرچ کر رہی ہیں، اور کیا یہ عطیات محض فلاحی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں؟

کوئی بھی اس بارے میں وثوق سے شاید ہی کچھ کہہ سکے۔ شاید زیادہ پیسہ فلاحی کاموں پر صرف ہوتا ہو لیکن کیا معلوم کچھ رقم شدت پسند تنظیموں کے پاس بھی پہنچ جاتا ہو؟ کیا ان کا کوئی آڈٹ ہوتا ہے؟

حکومت پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ہر سال ساڑھے پانچ سو ارب روپے کے عطیات اکٹھے ہوتے ہیں۔ یہ اچھی بات ہے لیکن یہی حکومت کہتی ہے کہ اس میں آدھے سے زیادہ چندہ دینے والوں کو علم نہیں ہوتا کہ ان کا یہی پیسہ کہاں خرچ ہوتا ہے۔ اسی مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت نے لوگوں میں میڈیا میں ’حق حقدار تک‘ نامی آگہی مہم بھی شروع کر رکھی ہے۔

عطیات کے غلط استعمال کو روکنا شاید اس وسیع الجہتی مسئلے کا محض ایک پہلو ہے۔ دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے رقوم اور کئی ذرائع بھی ہیں۔ پاکستانی شدت پسند ہوں یا دولت اسلامیہ حوالہ یا ہنڈی، منشیات، اغوا برائے تاوان اور نوادرات کا کاروبار شدت پسندوں کے لیے منافع بخش سمجھے جاتے ہیں۔

پاکستانی بینکروں کے اندازوں کے مطابق ملک میں سالانہ بینکوں کی بجائے حوالہ نظام کے تحت تین گنا زیادہ رقوم بھیجی جا رہی ہیں۔ سٹیٹ بینک نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کے پاس دہشت گردی کے لیے استعمال ہونی والی رقم کا کوئی اندازہ نہیں۔ لیکن تمام بینک اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے مطابق اس بات کے پابند ہیں کہ کوئی بھی مشکوک رقم کی ترسیل فنانشل مانٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کو رپورٹ کریں۔ ایف ایم یو اس ایکٹ کے تحت قائم کیا گیا ایک آزاد ادارہ ہے۔

Image caption منی ایکسچینج کا کاروبار کرنے والے شکیل صراف بتاتے ہیں کہ ہنڈی کے کاروبار کے خلاف ہر وقت کارروائی ہوتی رہتی ہے۔

سٹیٹ بینک کے مرکزی ترجمان کے مطابق ہر بینک اس بات کا بھی پابند ہے کہ وہ کسی ممنوعہ تنظیم کو کھاتہ کھولنے کی سہولت نہ دے۔

اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ پانچ برسوں میں اب تک منی لانڈرنگ کے تین سو کیس پکڑے جا چکے ہیں۔ ان میں سے 30 سے زائد مشتبہ دہشت گردوں کو بھیجی گئی رقوم بھی شامل ہیں۔ تقریباً تین سو افراد گرفتار بھی ہوئے ہیں۔ اس سے ہنڈی کا کاروبارہ کم ضرور ہوا ہے ختم نہیں۔

پشاور کے تاریخی چوک یادگار بازار میں منی ایکسچینج کا کاروبار کرنے والے شکیل صراف بتاتے ہیں کہ ہنڈی کے کاروبار کے خلاف ہر وقت کارروائی ہوتی رہتی ہے۔

’روزانہ کسی نہ کسی کو ایف آئی اے والے پرچہ کاٹ کر لے جاتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پیسہ بھیجنے اور وصول کرنے والے مزدوروں کی اکثریت ان پڑھ ہے۔ بینک جانا پڑتا ہے لکھنا پڑھنا پڑتا ہے، حوالے والے تو گھر جا کر پیسے دے آتے ہیں۔ تو یہ کیسے ختم ہوگی؟‘

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے چھ ستمبر کو ایک تقریب میں اپنی تقریر میں اس ضمن میں واضح اور جامع پیغام دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خاتمے کے بعد ان کی مالی معاونت کرنے والوں کا بھی مکمل صفایا کیا جائے گا۔ اس کا نمونہ تقریر سے قبل ہی پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری کی صورت میں سامنے آ گیا۔

Image caption اعداد و شمار کے مطابق وہ گذشتہ پانچ برسوں میں اب تک منی لانڈرنگ کے تین سو کیس پکڑے جا چکے ہیں

بی بی سی کو ملنے والی ایک سرکاری دستاویز کے مطابق پاکستان میں قائم دینی فلاحی تنظیموں اور مدارس کو بھی دنیا بھر سے امدادی رقوم ارسال کی جاتی ہیں۔ وہ ممالک جہاں سے سب سے زیادہ رقوم بھیجی جاتی ہیں ان میں سعودی عرب، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور ہانگ کانگ جیسے ممالک شامل ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق حکومت نے مشتبہ مدارس کے بینک اکاونٹ پہلے ہی بند کر دیے ہیں جبکہ حکومت کے پاس اندراج کے بغیر نئے کھاتے کھولنے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔

یہ تو شاید حکومت کی نظر میں ہوں لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ پولیس جیسے قانون نافذ کرنے والے سویلین اداروں کو غیرقانونی رقوم پکڑنے کی تربیت ہی حاصل نہیں۔

پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے ادارے نیکٹا کے سابق سربراہ خواجہ خالد فاروق کا کہنا ہے: ’پولیس دہشت گرد کو تو پکڑ لیتی ہے لیکن دہشت گردی میں استعمال ہونے والی رقوم کے سلسلے میں ان کی کارکردگی کوئی زیادہ قابل ذکر نہیں ہے کیونکہ ان کی تربیت ہی نہیں ہے۔ دہشت گردی کے لیے مالی معاونت، اس کا تجزیہ کرنا، ثبوت کو نکالنا یہ سب بڑا تکنیکی کام ہے۔‘

یہی شاید وجہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی میں رقوم کے استعمال کی وجہ سے سزائیں نہیں دی جا سکی ہیں۔

لیکن اس سال فروری میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی امداد کے تدارک کے لیے سرگرم بین الحکومتی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے رقوم کی ترسیل کو شفاف بنانے جیسے اہداف کے حصول کے لیے اقدامات کی ستائش کی ہے۔

ایف اے ٹی ایف بنیادی طور پر پالیسی ساز ادارہ ہے جو ضروری قانون سازی اور نگرانی کے نظام کے قیام کے لیے سیاسی آمادگی پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

26 اراکین ممالک پر مشتمل اس ادارے کا کہنا تھا کہ جون سنہ2010 میں اس نے جو پاکستانی نظام میں کمزوریوں کی نشاندہی کی تھی اسے دور کرنے کے لیے پاکستان نے قانونی و نگرانی کے نظام استوار کیے ہیں۔ اسی وجہ سے اس تنظیم نے پاکستان کو اپنی نگرانی سے مستثنٰی قرار دے دیا تھا تاہم اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرار داد 1267 پر مکمل عمل درآمد کے لیے باہمی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق ہوا تھا۔

لیکن جمعیت علما اسلام کے سابر رہنما جان اچکزئی رقوم کی ترسیل کے خاتمے کے لیے حکومت کی سنجیدگی کو اہم قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہنڈی کے ساتھ ساتھ حکومت کو غیرسرکاری تنظیموں کی بھی کڑی نگرانی کرنا ہوگی۔ ’دہشت گردی کے لیے فنڈنگ یا تو چند این جی اوز کے ذریعے ہوتی ہیں اور کچھ ہنڈی کے ذریعے۔ ان کو کنٹرول کرنا یا نگرانی کرنا حکومت کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔‘

ماہرین کا خیال ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں معیشت کے بڑے حصے کا کہیں اندراج نہیں وہاں اگر حکومت واقعی دہشت گردوں کے وسائل ختم کرنے میں سنجیدہ ہے تو اسے کئی سال لگ سکتے ہیں۔

شدت پسندی کے امور کے تجزیہ نگار کامران بخاری نے بی بی سی سے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ریڈار سے غائب زیر زمین تمام معیشت کو دستاویزی شکل دینا ہوگی۔ ’اس میں اسے آسانی کے ساتھ پانچ سے دس سال لگ سکتے ہیں بشرطیکہ وہ مصمم ارادے سے اس پر کام شروع کرے۔‘

اسی بارے میں