’بڈھ بیر حملے کے ماسٹر مائنڈ کا سراغ مل گیا‘

Image caption حکومت کا کہنا ہے کہ بڈھ بیر اڈے پر حملے کے سرغنہ کا سراغ مل گیا ہے

پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ سکیورٹی اور خفیہ اداروں نے بڈھ بیر ایئربیس پر حملے کے ماسٹر مائنڈ کا سراغ لگا لیا ہے۔ تاہم اُنھوں نے حملہ آوروں کے سرغنہ کی شہریت بتانے سے گریز کیا۔

منگل کے روز اپنے دفتر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ 14 حملہ آوروں میں سے پانچ کی شناخت ہوگئی ہے جبکہ نو حملہ آوروں کی شناخت نہیں ہو سکی جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پاکستانی نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ ان پانچ دہشت گردوں کی شناخت میڈیا پر آنے کے بعد وزیر داخلہ نے برہمی کا اظہار کیا تھا اور وزارت داخلہ کو اس واقعے کی تحققیات کا حکم دیا تھا، تاہم اس کی حتمی رپورٹ ابھی تک سامنے نہیں آئی۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اداروں نے اس بات کا بھی سراغ لگا لیا ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی کہاں کی گئی تھی۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا پاکستان افغان حکومت کو اس بارے میں ثبوت فراہم کرے گا، وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان افغان حکومت کو جواب دہ نہیں ہے تاہم باہمی تعاون کے تناظر میں ان کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا۔

بڈھ بیر پر حملے کے بعد پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے ٹوئٹر پر کہا تھا کہ حملے کی منصوبہ بندی اور رابطہ کاری افغان سرزمین سے کی گئی تھی۔

چوہدری نثار نے کہا کہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے اپنے ملک کی حدود میں شدت پسندی پر کافی حد تک قابو پا لیا ہے جبکہ شدت پسند اس وقت دوسری سائیڈ پر ہیں۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں اگر کوئی چھوٹا سا واقعہ بھی رونما ہوتا ہے تو اس کا الزام پاکستان پر عائد کردیا جاتا ہے جو مناسب نہیں ہے۔

اس سے پہلے وزارت داخلہ کے ماتحت اداروں کے سربراہوں کے اجلاس میں ان اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے علاوہ عید کے موقعے پر ملک بھر میں سکیورٹی کے اقدامات سخت کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

اسی بارے میں