خاکروب کی نوکری کے لیے اقلیت ہی کیوں؟

Image caption وفاقی اور صوبائی سطح پر اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے پانچ فیصد کا کوٹا رکھا گیا ہے

صوبہ پنجاب کے دارلحکومت لاہور کے پنجاب انسٹٹیوٹ آف کارڈیالوجی نے 16 ستمبر کو اخباروں میں نوکریوں لیے ایک اشتہار شائع کیا جس میں سکیورٹی گارڈ وغیرہ کے لیے امید وار طلب کیے گیے ہیں۔

اس اشتہار میں مرد اور خاتون خاکروب کی نوکری کے لیے وضاحت تھی کہ صرف ’غیر مسلم جن کا تعلق اقلیتی برادری سے ہے‘ ہی اپنی درخواست دے سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے پانچ فیصد کا کوٹہ رکھا گیا ہے اور یہ کوٹہ اس وقت کے اقلیتی وزیر مقتول شہباز بھٹی کی وجہ سے 2010 میں قانون بنا۔

اشتہار میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ خواتین کے لیے پندرہ فیصد کا کوٹہ ہے، اقلیتوں کے لیے پانچ فیصد اور معذور افراد کے لیے تین فیصد کا کوٹہ ہے۔

پنجاب انسٹٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے میڈکل سپریٹنڈنٹ ڈاکٹر سہیل ثقلین نے اس معاملے پر بی بی سی اردو سے جھجھکتے ہوئے بات کرتے ہوئے کہا ’دیکھیں یہ حکومتِ پنجاب کی جانب سے نوکریوں کے اشتہار بنتے ہیں۔ آپ سیکریٹری ہیلتھ پنجاب سے کیوں نہیں بات کرتے؟‘

لیکن سکریٹری ہیلتھ پنجاب سےکئی بار رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انھوں جواب نہیں دیا۔

اقلیتی برادری کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم نیشنل کمیشن فور جسٹس اینڈ پیس کے سینیئر اہلکار سیسل شین چودھری کا کہنا ہے کہ اس اشتہار سے دو طرح کی تفریق نظر آتی ہے۔

’ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ ایسی چھوٹی نوکریاں صرف غیر مسلمانوں کے لیے ہے اور انہیں معاشرے کی نظر میں خاص قسم کے کام تک محدود کردیا گیا ہے۔ دوسرا، آپ مسلمانوں کے خلاف بھی تفریق کر رہے ہیں، کہ وہ اس نوکری کے لیے درخوست نہیں دے سکتے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ان کی تنظیم اس اشتہار کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا سوچ رہی ہے۔

دوسری جانب صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن آصف عقیل نے بتایا کہ ایسی نوکریوں کے اشتہار زیادہ تر ہسپتالوں میں ہی نظر آتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سال جون میں لیڈی ویلنگٹن ہسپتال اور اس سے پہلے سرگنگا رام ہسپتال نے بھی ایسے اشتہار دیے تھے جن میں خاکروب کی نوکری کے لیے غیر مسلم یا عیسائی کی خصوصی شرط رکھی گئی تھی۔

’یہ اشتہار کس قانون کے تحت دیا گیا ہے؟ کیا کوئی قانون کہتا ہے کہ ایک خاص قسم کی ملازمت سو فیصد ایک مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو دی جا سکتی ہے؟‘

آصف عقیل کا مزید کہنا ہے کہ اس سے معاشرے کی سوچ کی عکاسی ہوتی ہے کہ ایسے غلیظ اور گندے کام مخصوص افراد ہی کر سکتے ہیں۔

’اس کاتعلق صرف مذہب سے نہیں ہے۔ برِصغیر میں ذات بہت اہمیت رکھتی ہے، کہ مخصوص کام مخصوص ذات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے ہیں۔ پاکستان میں زیادہ تر مسیحی برادری کا پہلے تعلق اچھوت یا نچلی ذات سے تھا۔‘

اور اسی سوچ کی وجہ سے اگر مسیحی برادری کے لوگ دیگر سرکاری ملازمتوں کے لیے درخواست ڈالیں، تو انھیں وہاں بھی تفریق کا سامنا کرنا پڑھتا ہے۔

پانچ سال قبل، قصور سے تعلق رکھنے والے نعیم مسیح نے تعلیم کے محمکے میں ایک سرکاری سکول میں نائب قاصد کی نوکری کے لیے درخواست دی اور پھر انٹرویو دیا۔ نعیم مسیح میٹرک پاس ہیں۔ تاہم، انھیں نائب قاصد کی نوکری تو نہ ملی، خاکروب کی نوکری ملی جس کے لیے انھوں نے درخواست بھی نہیں دی تھی۔ اس کے خلاف انھوں نے لاہور ہائی کورٹ میں محکمہ تعلیم کے خلاف کیس درج کیا ہے لیکن اتنے سال بعد کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

صحافی آصف عقیل کہتے ہیں کہ ’ایسی بے ضابطگیوں کو چیلنج کرنا ایک غریب آدمی کے لیے بہت مشکل کام ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اصل میں پورے معاشرے کی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے، جہاں سمجھا جاتا ہے کہ خاکروب کی نوکری دینا مسیحی برادری کے لیے مہربانی ہے۔‘

اسی بارے میں