نواز شریف کشمیر، لائن آف کنٹرول کا مسئلہ اٹھائیں گے

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بھارت نے پہلے ہی کہہ رکھا ہے کہ اگر پاکستان نےاقوامِ متحدہ میں مسئلہ کشمیر اٹھایا تو اس کا معقول جواب دیا جائے گا

پاکستان کے خارجہ سیکریٹری اعزاز احمد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف بدھ کے روز اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران کشمیر اور لائن آف کنٹرول کا مسئلہ اٹھائیں گے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق انھوں نے کہا کہ نواز شریف جنرل اسمبلی سے خطاب میں تین نکات اٹھائیں گے، جن میں کشمیر، لائن آف کنٹرول کی صورتِ حال اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششیں شامل ہیں۔

خیال رہے کہ بھارت نے پہلے ہی کہہ رکھا ہے کہ اگر پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کے دوران کشمیر کا مسئلہ اٹھایا تو اس کا معقول جواب دیا جائے گا۔

گذشتہ روز بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’کشمیر پر بیان آیا، تو ہم اس کا جواب دیں گے۔‘

ادھر پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف نے 24 ستمبر کو لائن آف کنٹرول کے دورے کے موقعے پر فوجی جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی ’مسلسل خلاف ورزیاں دراصل پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ سے بھٹکانے کی کوشش ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption جنرل راحیل شریف نے عید کی پیشگی مبارک باد دینے کے لیے لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا تھا

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق انھوں نے اس موقعے پر کہا تھا کہ پاکستانی فوج دو مختلف قسم کی جنگیں لڑ رہی ہے۔

کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر کئی مہینوں سے حالات کشیدہ ہیں اور پاکستان کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ بھارتی افواج فائرنگ میں پہل کر رہی ہیں جس کا بھرپور جواب دیا جاتا رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے تین شہریوں کی ہلاکت پر بھارت سے سفارتی سطح پر احتجاج کیا تھا۔

پاکستانی سیکریٹری خارجہ کے مطابق اقوامِ متحدہ کے اجلاس کے دوران نواز شریف کئی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں چین کے صدر شی جن پنگ اور اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان کی مون شامل ہیں۔

اسی بارے میں