ایبٹ آباد کا جدون باغ

کُلاچ سے کیلاش ایک قسط وار سفرنامہ ہے جو کراچی سے وادی کیلاش تک ہمارے ساتھی شرجیل بلوچ نے چند منچلے خواتین و حضرات کے ساتھ طے کیا ہے۔ راستہ تو خوبصورت ہے ہی، مگر راہی بھی کم نہیں۔یہ سفر نامہ ہر اتوار کو قسط وار شائع کیا جاتا ہے۔ پیش ہے آٹھویں قسط

Image caption جس باغ کا رستہ اتنا خوبصورت ہو وہ خود کتنا دلکش ہوگا نا؟

رات کافی خواری کے بعد ہمیں جو ہوٹل ملا اس میں ایک لاہوری گروپ نے خوب رنگ جمایا ہوا تھا۔ رات بھر پارٹی ہوتی رہی۔ ہمارے لونڈوں کے ساتھ ساتھ دونوں بزرگوں نے بھی ہوا خوری کے بہانے کن اکھیوں سے خوب رونق میلہ دیکھا۔اور نظروں کی تھکن دور کرتے رہے۔

کلاچ سے کیلاش تک: پہلی قسط

گنڈا پور والے دنگل: دوسری قسط

قصہ قصور کا: تیسری قسط

میں ہوں عادل لاہوڑی: چوتھی قسط

جھیل میں بیٹھی بوڑھی دلہن: پانچویں قسط

کھیوڑہ کا نمک زاد: چھٹی قسط

کٹاس کا طلسم کدہ: ساتویں قسط

ایبٹ آباد کی صبح بارش سے دھل کر نیلی نیلی نکھری نکھری سی تھی۔ ڈائینگ ہال میں سب کے سب بوفے ناشتہ کر کے چائے پیتے ہوئے بات بے بات مسکرا رہے تھے۔ آج کا دن ہم نے ایبٹ آباد اور قریب کے گاؤں جدون باغ میں گزارنا تھا۔ ناشتے سے فارغ ہو کر عادل جدون نے اعلان کیا کہ اب آگے کے سفر کا انچارج عرفان ہوگا۔ عرفان جو اب تک ذرا ذرا سا بدمزہ اور اکیلے اکیلے سفر کر رہا تھا اس ذمہ داری کے لیتے ہی کِھل اٹھا۔

اس چھ فٹ کے فرنچ داڑھی والے میمن کے اندر سے ایک مینجر نے ایک انگڑائی لی اور کود کے باہر آ گیا۔ دراصل گزشتہ رات دیر تک ہوٹل کی تلاش نے ہمسفروں کو جدون کی مینجمنٹ پر ذرا مشکوک کر دیا تھا۔ سب نے تالیاں بجا کر عرفان کو مبارکباد دی۔ اس کو جلدی جلدی دوپہر کے کھانے شام کی چائے اور آگے کی ذمہ داریاں سونپ کر میں، عادل اور جاوید ایبٹ آباد شہر میں گھس گئے۔ جو بارش سے دھل چکا تھا۔ایبٹ آباد ایک ٹھنڈے اور میٹھے مزاج کا شہر ہے۔ یہاں عام لوگوں کی چال میں بھی ایک ملک پن ہے۔ اونچی گردن، سینہ باہر اور دھیمی چال والے خوش باش لوگ۔

Image caption صبح سویرے بارش میں بھیگتی سارہ، روبینہ، فراست آنٹی، نسرین آنٹی، عابدہ آنٹی اور زینب

بازار میں پہنچ کر ہم نے ایک لُنڈا بازار تلاش کیا۔ جہاں امپورٹڈ جوگرز، گرم اونی موزے، نرم سفری تکیے، سلیپنگ بیگز اور برساتی چھاتے خریدتے ہوئے ہم کافی دیر گرم چنے کھاتےاور گھومتے پھرتے رہے۔ چھوٹی چھوٹی دکانوں میں دکاندار پر سکون اور دھیمے انداز میں بات کرتے نظر آئے ۔ وہ کراچی کے لائٹ ہاؤس والوں کی طرح گاہکوں کو پیچھے سے آوازیں نہیں دے رہے تھے۔ زیادہ بارگیننگ نہیں کرتے اور سودا طے ہو جانے کے بعد اچھے اخلاق سے ہاتھ ملا کر چائے کی پیشکش ضرور کرتے۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ اپنی زندگیوں سے مطمئن ہیں اور انھیں زیادہ کی ہوس نہیں ہے۔

باہر مین روڈ پر لوگوں کی بھیڑ اور گاڑیوں کے درمیان میں سے ابابیلیں تیرتی ہوئی گزر رہی تھیں۔ لوگ اور وہ دونوں ایک دوسرے سے بہت مانوس تھے جیسے۔ارادہ ہوا کہ دوپہر کے کھانے میں گرم نان اور چپلی کباب لیے جائیں۔ اور سب کو جدون باغ لے جا کر لنچ کیا جائے۔ عرفان کو فون کیا تو پتہ چلا کہ اس نے ہوٹل میں ہی سب کو ڈھائی ہزار روپے کے پکوڑوں کا لنچ کروا دیا ہے۔ عادل نے میری طرف دیکھا اور میری مسکراہٹ پر وہ دیر تک ڈکارتے ہوئے ہنستا رہا۔

پانچ بجے ہماری کوسٹر ہوٹل سے نکل کر دائیں ہاتھ پر مُڑی اور پکی سڑک پر چڑھتے چڑھتے آہستہ آہستہ مضافات میں داخل ہونے لگی۔ اور پھر پکی سڑک وادی کے کچے ٹریک میں بدلتی گئی۔ ایسا خوبصورت اور دلفریب ٹریک جس پر آتے ہی ہمارے منہ بے ساختہ کھڑکیوں سے باھر نکلنے لگے۔ ہم نظاروں کے گہرے سمندر میں بہتے جا رہے تھے اور منظر سنہری مچھلیوں کی طرح ہماری کشتی کےارد گرد اچھل اچھل کر ڈبکیاں لگاتے اور چھپ جاتے تھے ۔ حیرت اور مسرت بھری چیخیں بس سے باہر نکل کر وادی میں بکھرتی جارہی تھیں۔

Image caption پوری وادی بارش میں نہانے کے بعد بارش کے قطرے اوڑھے کھڑی تھی

ہمارے موبائل کیمرے کھڑکیوں سے باہر نکلتے اور پلک جھپکنے میں سبز پہاڑ، سنہری گندم والے تہہ در تہہ کھیت، جنگلی گھاس میں سرخ پھول اور ان میں گھومتے ہوئے سفید دنبے۔ اور جانے کیا کیا کچھ اپنے اندر بھر کر بس میں آ جاتے اور پھر باہر نکل جاتے۔ یہ آدھے گھنٹے کا پہاڑی سفر بس نے پیدل چلتے چلتے طے کیا۔ بس سر جی۔ ایس توں اگے بس نئیں جاندی۔

ڈرائیور نے ایک موڑ پر پہنچ کر کوسٹر روک دی۔ ہم سب پھڑپھڑاتے ہوئے اس پنجرے سے باھر نکلے اور وادی میں اُڑتے چلے گئے۔ عادل سب کو دیکھ کر یوں مسکرا رہا تھا جیسے اس نے کراچی کے کبوتروں کو جدون باغ میں لا کر آزاد کر دیا ہو۔ یہ جدون باغ اس کا اپنا گاؤں ہے۔ اور وہ دور سبز پہاڑوں کے بیچ سفید رنگ کا دو منزلہ بنگلہ عادل کا آبائی گھر۔ ایک چوڑی سی کچی پگڈنڈی پر نرم اور گیلی مٹی میں قدم جما کر چلتے ہوئے بلال پندھانی سیلفی سٹک پر کیمرہ لگائے آگے آگے جا رہا ہے۔ جبکہ میں اور عرفان بیلوں کی طرح تھوتھنیاں اٹھائے جھومتے جھامتے اس لال گاجر کے پیچھے پیچھے۔

گھر کے برآمدے میں لڑکے، لڑکیاں، بچے، بوڑھے، خواتین و حضرات سب خوشی سے چہکتے پھر رہے ہیں۔ ان کے سامنے ایک سر سبز وادی ہے جس میں ان ہی کی طرح ہر پودا ہر پھول ہر پرند، بارش میں نہا کر ٹھنڈی ہوا میں جھرجھریاں بھر رہا ہے۔

پروین۔۔۔ او پروین۔۔۔ چادر لانا۔۔۔ عادل نے برآمدے میں کھڑے کھڑے اندر آواز لگائی۔ ہم سب پروین کا نام سنتے ہی ذرا سنجیدہ اور معزز سے ہوگئے کہ پروین کوئی آنٹی، باجی، بھابھی یا بھتیجی بھی ہو سکتی ہے۔۔۔ چند لمحوں بعد درمیانی عمر، دبلے پتلے سے جسم اور سنولائے ہوئے چہرے والا ایک مقامی ملازم عادل کو سفید گرم اونی چادر پیش کر رہا تھا۔

Image caption لنڈے بازار سے شاپنگ کرنے کے بعد گرم گرم چنے خریدنے کے انتظار میں جاوید اور عادل

ھماری طرف پروین ایسی ہوتی ہے۔ عادل نے اسکا تعارف کروایا۔ ہماری مسکراہٹوں پر حیران ہوتا ہوا پروین چائے کا اہتمام کرنے اندر چلا گیا۔ سفید اونی شال کی بکل مارے عادل۔ اب ملک عادل جدون خان لگ رہا تھا۔ سب کو مصروف دیکھ کر اس نے مجھے ہلکا سا اشارہ کیا۔ سر جی چلیں ذرا والد صاحب کو سلام کر لیں۔ اس نے بھاری سی سرگوشی کی۔اور میں سنجیدگی سے اسکے پیچھے چل دیا۔ گھر کے باہر بائیں طرف ایک اونچی جگہ پر سبز گھاس کے احاطے میں۔ ایک پکی قبر کے کنارے کھڑا ہوا عادل دیر تک اپنے بابا عدالت خان جدون سے سلام دعا کرتا رہا۔ دعا کرنے کے بعد اس نے گیلے کتبے پر لکھے ہوئے نام پر سے مٹی صاف کی جیسے وہ اپنے بابا کی پیشانی صاف کر رہا ہو۔

اس احاطے سے باہر نکل کر عادل کچھ لمحوں تک نیچے وادی میں دیکھتا رہا۔ جیسے دور ندی کنارے درختوں کے جھرمٹ میں اسکا بچپن اُسے آوازیں دے رہا ہو۔ اس نے دور تک پھیلے ہوئے پہاڑوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں تک یہ وادی ان کی خاندانی میراث ہے۔ میں نے تعجب سے عادل کو دیکھا۔۔ مجھے اس میں وہی دیوانہ سدھارتھ نظر آیا جو اپنا محل چھوڑ کر دنیا کی خاک چھاننے نکل پڑا تھا۔اتنی دیر میں اچھلتا کودتا، قلقاریاں مارتا ہوا منکو وہاں پہنچ گیا۔

یہ حسیں وادیاں یہ کُھلا آسماں۔۔۔ آ گئے ہم کہاں اے میری جانِ جاں۔۔ جاوید کُھل کے اونچی آواز میں گا رہا تھا۔ اس کے اندر کا مِنکو کسی کی بھی آواز، انداز اور چال کی بہت بہترین نقل کرتا ہے جو اصل سے بھی زیادہ مصحالے دار اور کراری ہوتی ہے ۔ یہ منکو بہت اچھا گلوکار، ایکٹر اور مصور اور مزاح نگار ہو سکتا ہے۔ مگر اس کا شرارتی مزاج کبھی اسے سنجیدہ ہونے دے تب نا۔ اِدھر آپ اُسے سنجیدگی سے گانےکی فرمائش کریں اُدھر وہ شرما کر کھمبے پر چڑھ جائے گا۔

کھیتوں میں بھیگی گوبھی کی فصل پر بارش کے قطرے ہزاروں جگنو بنے ہوئے تھے۔ان کے بیچ بنی کچی پگڈنڈی پر چلتے چلتے ہم اس ندی تک پہنچ گئے جو اس وادی کے درمیان سے گزر رہی تھی۔ اور اس کے کنارے سب۔ ایک مست فضا میں مست تھے۔ آ ج تو کشور اور نوشاد نے بھی دونوں بچوں کو اپنی تحویل سے آزاد کر رکھا تھا اور خبروں کی دنیا سے بھاگ کر وہ دونوں ایک دوسرے سے مسکراتی آنکھوں سے یوں باتیں کر رہے تھے۔ جیسے بہت وقت بعد ایک دوسرے سے اتفاقیہ ملے ہوں۔ ندی کے بیچ کھڑی سارہ کے من میں اس بہتی ندی کے اندر بہنے کی خواہش اس کے چہرے پر صاف پڑھی جا سکتی تھی۔

Image caption ندی کے بیچ کھڑی سارہ کے من میں اس بہتی ندی کے اندر بہنے کی خواہش اس کے چہرے پر صاف پڑھی جا سکتی تھی

عرفان آج اکیلا اکیلا نہیں تھا۔ بلکہ وہ اس کیپٹن کی طرح تھاجو ٹیم کو خوش دیکھ کر فخر سے پھول رہا ہوتا ہے جیسے دراصل ان سب کی خوشی کی وجہ وہ خود ہو۔ دور رضوان جونیئر فوٹوگرافرز کو پھولوں کے مسکراتے چہرے دکھا رہا تھا۔میں بھی ندی کنارے چلتے چلتے دور درختوں کے جُھنڈ میں جا رکا۔ جیکٹ کی جیب سے بانسری نکالی۔ آنکھیں بند کیں۔ انگلیاں جمائیں اور ایک سُر لگایا ہی تھا کہ درختوں میں چُھپی اس کوئل کو جیسے مرچ لگ گئی۔ کہ کون ہے یہ عطائی جو دو ٹکے کی مُرلی بجا کر میری راج دھانی میں میرے سامنے شیخی مار رہا ہے۔ وہ مجھ پر اتنے زور سے کُوکی اتنے زور سے ۔۔۔کہ میں مرلی جیب میں دبا کر وھاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔ مجھے اپنے پیچھے وادی میں دیر تک اس کالی چڑیل کے طنزیہ قہقہے سنائی دیتے رہے۔

یہ 12 مئی کی شام ہے۔ جب سارا ملک گرمی اور لوڈ شیڈنگ سے بلبلا رہا ہوتا ہے اور چڑیاں بھی پیاس سے نڈحال گریبان کھولے ہانپ رہی ہوتی ہیں۔ ہم جدون باغ میں شالیں دوپٹے اور جیکٹیں اوڑھے بھاپ اڑاتی چائے سے اپنے آپ کو گرم کر رہے تھے۔ اندھیرا چھانے سے پہلے ہم بس میں سوار ایبٹ آباد شہر کی جانب واپس جا رہے تھے جہاں رات کے کھانے میں چکن سجی، چپلی کباب ، گرم نان اور الائچیوں والی سبزچائے ہمارے انتظار میں تھی۔

آ گیا نا منہ میں پانی؟؟؟؟

اسی بارے میں