پاکستان پر اب بھی فوج کا ہی کنٹرول ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’سیاست دانوں کو یہ خوف ستا رہا ہے کہ اگر فوج کے ساتھ اختلافات رونما ہوئے تو پھر سے تختہ پلٹنے کی نوبت آ سکتی ہے‘

بعض اسے فوج کی پس منظر سے حکمرانی کہتے ہیں جبکہ دوسرے اسے فوجی جرنیلوں اور سیاست دانوں کے درمیان قوم کے مفاد میں مل جل کر کام کرنے کا نام دیتے ہیں لیکن کسی بھی نظریے آپ اسے دیکھیں، اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ پاکستانی فوج کی سیاسی قوت بڑھتی جا رہی ہے۔

اس کی ابتدا 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی سکول پر پاکستانی طالبان کے حملے سے ہوئي جس میں 140 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔

اس کے چند روز بعد ہی سویلین قیادت نے 20 نکات پر مبنی ایک ’نیشنل ایکشن پلان‘ تیار کیا، جس کا مقصد‎ شدت پسندوں سے نمٹنا، ان کے بیانات کو لگام ڈالنا، دینی مدارس کو کنٹرول کرنا اور ان کی مالی حالت کو کمزور کرنا ہے۔

اس بات سے واقفیت کی بنا پر کہ شہری عدالتیں جہادیوں کو سزا دینے میں غیر دلچسپی کا مظاہرہ کرتی ہیں، پارلیمان نے فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے آئین میں ترمیم کا بل منظور کیا۔

اس کے بعد فوج نے ایک ایسی ’اعلیٰ کمیٹی‘ کے قیام کا اعلان کیا جو سرکردہ سیاسی رہنماؤں، نوکر شاہی، خفیہ ایجنسیوں اور فوج کے حکام پر مشتمل ہے۔

حکومت نے اس سمت میں کارروائی کرتے ہوئے اب تک تقریباً 50 ہزار شدت پسندوں کو یا تو حراست میں لیا ہے یا پھر وہ گرفتار کیے گئے ہیں۔

کالعدم لشکر جھنگوی کے سربراہ ملک اسحاق کو پولیس نےگولی مار کر ہلاک کیا ہے جس کے متعلق عام خیال یہی ہے کہ یہ ماورائے عدالت قتل تھا۔

ان سخت کارروائیوں سے انتہا پسندوں کے تشدد کی سطح میں کمی بھی آئی ہے۔

اس سب کے لیے پاکستانی میڈیا نے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے کردار کو سراہا اور اب فوج عوام کی بڑھتی ہوئی اس حمایت سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی مقبولیت اور فوج کے لیے عوامی حمایت میں وقت کے ساتھ تیزی سے اضافہ ہورہا ہے

لیکن جن لوگوں کو توقعات تھیں کہ پشاور حملہ ایک اہم موڑ ثابت ہوگا ان میں سے بہت سوں کو اب نہیں لگتا کہ اس نیشنل ایکشن پلان سے دیرپا تبدیلیاں آئیں گی۔

اس سے قبل 2007 میں جنرل مشرف کے دور میں بھی دسیوں ہزار شدت پسندوں کو حراست میں لیا گیا تھا جنھیں بعد میں رہا کر دیا گیا تھا۔

چونکہ حکومت کے پاس ان سے تفتیش کرنے کی صلاحیت میں کمی ہے اس لیے دوبارہ پھر وہی ہو سکتا ہے جو ماضی میں ہوتا رہا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے جب اس قومی منصوبے کا اعلان کیا تو کہا تھا کہ اب پاکستان اچھے طالبان ( جو پاکستانی دشمنوں سے لڑتے ہیں) اور برے طالبان ( جو پاکستان کو ہی نشانہ بناتے ہیں) میں کوئی فرق نہیں کرے گا۔

لیکن حقیقت میں حکومت اب بھی اسی پالیسی پر آمادہ ہے اور کارروائی کرنے کے لیے اپنی پسند کا انتخاب کرتی ہے۔

ان جہادی دھڑوں کو نشانہ نہیں بنا تی جو متنازع کشمیر میں بھارتی فوج کو نشانہ بناتے ہیں۔ اسی طرح ان طالبان کو بھی آزاد چھوڑا ہوا ہے جو افغانستان میں حملے کرتے ہیں، جیسے حقّانی نیٹ ورک، جو کابل پر حملوں کے لیے مورد الزام ٹھہرائے جاتے رہے ہیں۔

اس میں سب سے زیادہ متنازع لشکر طیبہ کا گروپ (یا پھر اس کا دوسرا نام جماعت الدعوۃ) ہے، جس پر 2008 میں ممبئی پر حملوں کا الزام ہے لیکن اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

تنظیم کے سربراہ حافظ سعید کے بیانات پاکستانی میڈیا میں اکثر شا‏ئع ہوتے رہتے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption پشاور کے آرمی سکول پر حملے کے بعد تیار کیے گئے نیشنل ایکشن پلان سے بڑی توقعات وابستہ ہیں

عمر شیخ کے خلاف بھی مزید قانونی کارروائی کی توقع کم ہی ہے جنھیں 2002 میں وال سٹریٹ جرنل کے صحافی ڈینیئل پرل کی موت کے لیے قصوروار ٹھہرایا گيا تھا۔ ان کی اپیل ایک زمانے سے پڑی ہوئی ہے۔

ممتاز قادری، جنہوں نے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کا قتل کیا تھا، ان پر بھی خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ نہ تو فوج اور نہ ہی سویلین حکومت قادری کے مقدمے کو نیشنل ایکشن پلان میں شامل کرنے کا رسک نہیں لے سکتی کیونکہ اسے عوام کی حمایت حاصل ہے۔

نجی گفتگو میں حکام اس طرح کی باتیں کرتے ہیں کہ ان کی ترجیح وہ شدت پسند ہیں جو پاکستان کو نشانہ بناتے ہیں لیکن اس دعوے پر بھی سوال اٹھتے رہے ہیں۔

نیشنل ایکشن پلان کے اثرات پاکستانی فوج اور حکومت کے درمیان رشتوں پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے نمائندے شکایت کرتے ہیں کہ انہیں فیصلہ سازی کے عمل سے بالکل الگ کر دیا گیا ہے۔

شخصیت پرستی

بعض افراد فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی ابھرتی شخصیت کے حوالے سے بھی خوفزدہ ہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے تقریبا تمام علاقوں میں ان کے پوسٹرز بل بورڈز پر لگائے گئے۔ کئی پراسرار ویب سائٹ، جنہیں فوج کی تصاویر تک آسان رسائی حاصل ہے، ان کی تعریف کے پُل باندھے رہتے ہیں۔

فوج نے تعلقات عامہ کا اپنا شعبہ بھی پہلے سے بہتر کیا ہے اور جہادیوں کے خلاف وہ اپنی مہم کے لیے قومی جذبے سے سرشار نغمے بھی تیار کرتی ہے۔

پاکستان کا ایک آزاد خیال طبقہ ان تمام سرگرمیوں سے تشویش میں بھی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اس کا بھی اعتراف کرتے ہیں کہ جہادیوں سے نمٹنے کی ہر حکمت عملی پر فوج کی چھاپ اس لیے ہے کیونکہ سویلین حکومت اپنی طرف سے کوئی بھی متاثر کن حکمت عملی وضع کرنے میں ناکام رہی ہے۔

فوج کے لیے عوام کی بڑھتی حمایت کا اثر ذرائع ابلاغ پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ بہت سے تو فوج کو ناراض کرنے سے متعلق اتنے نروس ہیں کہ اپنی براہ راست نشریات میں تیس سیکنڈ کی تاخیر سے کام لیتے ہیں تاکہ ضرورت کے مطابق کسی خاص آواز یا بات کو دبایا جا سکے۔

یہ احکامات پہلے جہادیوں کے انٹرویوز کو روکنے کے لیے تھے لیکن اب انہیں فوج کی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا تا ہے۔

Image caption نہ تو فوج اور نہ ہی سویلین حکومت قادری کے مقدمے کو نیشنل ایکشن پلان میں شامل کرنے کا رسک نہیں لے سکتی کیونکہ اسے عوام کی حمایت حاصل ہے

فوج کے اس قدر اوپر اٹھنے کا مطلب یہ ہے کہ اتنے مضبوط مینڈیٹ کے باوجود وزیراعظم نواز شریف اپنی خود کی بعض پالیسیوں کو نافذ نہیں کر پا رہے ہیں۔ ان کی خواہش تھی کہ بھارت کے ساتھ پاکستا ن کے رشتے اچھے ہوں لیکن فوج نے بھارت کے ساتھ کسی بھی بات چیت میں مسئلہ کشمیر کو ترجیح دینے کی شرط لگا دی۔

نواز شریف کو پرویز مشرف کے خلاف کارروائی کرنے سے بھی باز رکھا گيا جنھوں نے انھیں اقتدار سے بے دخل کر دیا تھا کیونکہ فوج نہیں چاہتی تھی کہ ان کے سابق سربراہ پر بغاوت کا مقدمہ چلے۔

فی الوقت فوج اور حکومت پر احتیاط سے بس ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہیں۔ وہ ایک ساتھ کام تو کر رہے ہیں لیکن اس لیے کہ سیاست دانوں کو یہ خوف ستاتا رہتا ہے کہ اگر فوج کے ساتھ اختلافات رونما ہوئے تو پھر سے تختہ پلٹنے کی نوبت آ سکتی ہے۔

بعض لوگ تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ آخر کب تک یہ صورت حال برقرار رہ سکتی ہے۔

انسانی حقوق کی کارکن عاصمہ جہانگیر کہتی ہیں ’میں آپ کو بتا دوں کہ ہم نے تاریخ سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ ہماری فوج کو صرف طاقت نہیں چاہیے بلکہ وہ مکمل اور بلا شرکتِ غیرے طاقت کی خواہشمند ہے۔‘