منیٰ میں ہلاکتوں کی تعداد 1100، 62 پاکستانی تاحال لاپتہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی حکام نے دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے 1100حاجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے

سعودی عرب میں حج کے دوران مچنے والی بھگدڑ میں ہلاک ہونے والے پاکستانی ہلاک شدگان کی کل تعداد 42 ہو گئی ہے۔

پیر کو سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار یوسف نے منیٰ واقعے میں 42 پاکستانیوں کی ہلاکت اور 62 کی تاحال لاپتہ ہونے کی تصدیق کی۔

وزارتِ مذہبی امور کی ویب سائٹ پر موجود فہرست

منیٰ میں ہلاکتوں پر ایران کی سعودی عرب پر شدید تنقید جاری

اس سے قبل حکومتِ پاکستان کی جانب سے مقرر کردہ خصوصی فوکل پرسن ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ سعودی حکام نے اب اس حادثے میں 1100 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور ان کی تصاویر بھی جاری کر دی گئی ہیں۔

طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین کے سلسلے میں سعودی حکام کا فیصلہ 29 ستمبر تک متوقع ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس کے بعد ہی اس بات کا تعین ہو پائے گا کہ ہلاک شدگان کی لاشیں سعودی سرزمین پر دفنائی جائیں گی یا انھیں ان کے آبائی وطن بھیجا جائے گا۔

طارق فضل چوہدری نے بتایا تھا کہ 60 لاپتہ پاکستانیوں میں سے 36 نجی حج آپریٹرز کے ہمراہ سعودی عرب گئے تھے جبکہ 27 سرکاری سکیم کے تحت فریضۂ حج ادا کر رہے تھے۔

پاکستانی حاجیوں سے متعلق معلومات کی فراہمی کے لیے دو ہیلپ لائنز بھی قائم کی ہیں۔

’زخمی ہونے والے 35 پاکستانیوں کی وطن واپسی کے بعد انھیں مفت علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی۔‘

اس کے علاوہ ہلاک ہونے والے حجاج کے لواحقین کے لیے پانچ، پانچ لاکھ جبکہ زخمیوں کے لیے دو، دو لاکھ روپے امداد فراہم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

ہلاک شدگان کے اہلِ خانہ میں سے دو یا تین افراد کو مفت عمرے کی سہولت بھی دی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں طارق فضل کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر کرین کے ذریعے حاجیوں کی لاشیں اٹھائے جانے کی تصاویر پرانی ہیں۔

اسی بارے میں