لودھراں میں ضمنی انتخابات کے خلاف حکم امتناعی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس عدالتی کارروائی کے بعد الیکشن کمیشن نے اس حلقے میں ہونے والی ضمنی انتخابات کا شیڈول موخر کردیا ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے صوبہ پنجاب کے شہر لودھراں میں قومی اسمبلی کے حلقہ 154 لودھراں کے انتخابات کو کالعدم قرار دینے کے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف حکم امتناعی جاری کر دیا ہے۔

اس حکم کے بعد حلقے میں 11 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخاب کا عمل بھی روک دیا گیا ہے۔

حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری اور ضمنی انتخاب کے امیدوار جہانگیر ترین نے اس فیصلے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انصاف حاصل کرنا صرف حکمران جماعت کا ہی استحقاق نہیں ہے۔

این اے 154 میں دوبارہ انتخاب کا حکم

’دھرنوں میں پی ٹی آئی سے کئی غلطیاں ہوئیں‘

’پنجاب حکومت ہمارے کارکنوں کو ہراساں کر رہی ہے‘

جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما صدیق بلوچ کی درخواست کی سماعت کی۔

اس درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ ٹربیونل نے اُن کی تعلیمی اسناد کو جعلی قرار دے کر اُنھیں عمر بھر کے لیے نااہل قرار دے دیا ہے جو کہ اُن کے بقول ٹربیونل کا فیصلہ انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔

اس درخواست کی سماعت شروع ہونے کے بعد عدالت نے جہانگیر ترین کے وکیل مخدوم علی خان سے کہا کہ وہ اس کے خلاف دلائل دیں جس پر اُنھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ انھیں تیاری کے لیے وقت فراہم کیا جائے۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم الیکشن ٹریبونل کے فیصلے پر عمل درآمد روک رہے ہیں۔ اُنھوں نے جہانگیر ترین کے وکیل سے استسفار کیا کہ آپ بتائیں کہ ہم آپ کو مقدمے کی آئندہ ہفتے کی کیا تاریخ دیں جس پر ایڈووکیٹ مخدوم علی خان نے کہا مقدمے کی تیاری کے لیے وقت چاہیے کیس کی کوئی تاریخ نہ دی جائے۔

عدالت نے اس درخواست کا فیصلہ ہونے تک صدیق بلوچ کی قومی اسمبلی کی رکنیت بحال کر دی۔ اس کے علاوہ فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے اس درخواست کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

اس عدالتی کارروائی کے بعد الیکشن کمیشن نے اس حلقے میں ہونے والی ضمنی انتخابات کا شیڈول موخر کر دیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری جہانگر ترین نے الزام عائد کیا کہ حکمراں جماعت عوامی عدالت کا سامنے کرنے کی بجائے قانون کے پیچھے چھپ رہی ہے۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کو اس حلقے میں اپنی شکست واضح نظر آ رہی تھی اس لیے اُنھوں نے عدالتوں سے رجوع کیا۔

ادھر پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد انتظامیہ کی طرف سے اجازت نہ ملنے پر الیکشن کمیشن کے سامنے چار اکتوبر کو ہونے والا جلسہ ملتوی کر دیا ہے جبکہ الیکشن کمیشن کے خلاف یہ جلسہ اب نو اکتوبر کو لاہور میں ہوگا۔

اس بات کا اعلان پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ گیارہ اکتوبر کو لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے پر ضمنی الیکشن کے بعد وہ اسلام آباد میں مظاہرے کی کال دیں گے۔

اسی بارے میں