نمز کے فوج کے زیر انتظام ہونے پر اعتراضات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیپلز پارٹی کے سینٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ یہ ہمارے لیے بدقسمتی کی بات ہو گی کہ اگر ہم سول اداروں کے اختیارات فوجی حکام کے حوالے کرتے چلے جائیں۔

پیر کو سینیٹ کی دفاع سے متعلق قائمہ کمیٹی نے حزبِ اختلاف کے اعتراضات کے باوجود فوج کے زیرِ انتظام چلنے والی نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے بل کے مسودے کی منظوری دی۔

نمز پر حاجی عدیل سے بات چیت

ایک اعتراض یہ ہے کہ یہ یونیورسٹی پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے زیرِ نگراں نہیں ہو گی۔ پیپلز پارٹی کے سینٹر اور سابق صدر آصف علی زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ سویلین اداروں کا کردار تشویش ناک حد تک کم کر دیا گیا ہے۔

اس سال جولائی میں قومی اسمبلی نے نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کا بل متفقہ طور پر منظور کیا تھا۔ نیشنل یونی ورسٹی آف میڈیکل سائنسز یعنی نمز فوج کے زیرِ انتظام ہوگی۔

قومی اسمبلی میں بل پیش کرتے وقت وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ کے فوج کے تمام میڈیکل کالج اس یونی ورسٹی کی نگرانی میں رہیں گے اور یہ پاکستان کے دیگر فوجی کالجوں کے معیارِ تعلیم کو بھی یکساں کرے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آرمی میڈیکل کور ملک بھر میں معیاری تعلیم فراہم کر رہا ہے اور بل کے ذریعے اس تعلیم کو قومی سطح پر مستحکم کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔

تاہم، جب یہ بل سینٹ کی دفاع سے متعلق قائمہ کمیٹی میں آ پہنچا، تو کمیٹی کے رکن اور پیپلز پارٹی کے سینٹر فرحت اللہ بابر نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا کہ ’یہ ہمارے لیے بدقسمتی کی بات ہوگی کہ اگر ہم سول اداروں کو تباہ ہونے سے نہ روک سکیں اور ان اداروں کے اختیارات فوجی حکام کے حوالے کرتے چلے جائیں۔‘

بل کے مطابق، نمز ایک خود مختار یونیورسٹی ہوگی جس کے چانسلر صدرِ پاکستان ہوں گے اور پرو چانسلر فوج کے سربراہ۔

جمعیتِ علماء اسلامی فضل الرحمان کے سینیٹر مولانا عطاالرحمان نے بھی بل کے خلاف اختلافی نوٹ دیا۔

انھوں نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس بل پر کئی بار کمیٹی کے اجلاس میں بحث ہوئی اور منظور ہونے سے قبل، حزبِ اختلاف کے سوالات کے ٹھیک جوابات نہیں ملے۔ ان میں سے ایک اعتراض یہ تھا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل یعنی پی ایم ڈی سی اس یونی ورسٹی کی نگرانی کیوں نہیں کرے گی۔

’جب ہم نے پوچھا کہ کیا پی ایم ڈی سی اس کی نگرانی کرے گا تو صحیح طرح سے دفاع نہیں کر سکے اور اسی پر ہم نے اختلافی نوٹ لکھا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ فرحت اللہ بابر نے بل کا تفصیل سے مطالعہ کیا تھا اور کمیٹی میں ان کی رائے کو بہت اہمیت دی گئی، اس حد تک کہا گیا کہ بل میں بعد میں ترمیم لائی جا سکتی ہے۔ ’ہمیں کہا گیا کہ اسے ابھی منظور کر لیتے ہیں، بعد میں اعتراضات کو ترمیم کے ذریعے بل میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ کہ اگر آئین میں ترمیم ہو سکتی ہے تو بل میں کیوں نہیں۔‘

تاہم، اسلام آباد کی شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے ساتھ رجسٹر ہونے کے لیے میڈیکل کالجوں کا جائزہ لیا جاتا ہے اور ان کو پھر پوائنٹ دیے جاتے ہیں جس کی بنیاد پر ڈاکٹروں کی رجسٹریشن ہوتی ہے۔

’اس عمل کی وجہ یہ ہے کہ پی ایم ڈی سی کے ساتھ ڈاکٹروں کے اندراج سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ جس کالج سے ڈگری ملی ہے، کیا وہ اس معیار پر اتر رہے ہیں جس پر پی ایم ڈی سی نے نظر رکھی ہوئی ہے؟ کیا وہی کتابیں، سہولیات اور وہی اساتذہ ہیں جن کو پی ایم ڈی سی نے منظور کیا؟‘

انھوں نے مزید بتایا کہ اس عمل کے بغیر ڈاکٹر نہ پاکستان میں اور نہ ہی باہر جا کر کام کر سکتے ہیں۔’ہم ایک لاکھ سے زیادہ ڈاکٹر جو پی ایم ڈی سی کے ساتھ رجسٹر ہوئے ہیں، اگر نہ ہوتے تو ہمیں پاکستان میں کام کرنے کی اجازت نہ ہوتی۔ اور اگر ہم ملک سے باہر کام کرنا چاہیں، تو سب سے پہلے یہی دیکھا جاتا ہے کہ کیا ہم کونسل کے ساتھ رجسٹر ہوئے ہیں یا نہیں۔‘

ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ پی ایم ڈی سی کو نظر انداز کرنا، موجودہ اداروں کو کمزور کرنا ہوگا۔’پاکستان میں انفرادی یونیورسٹی اور لوگوں کو اہمیت دی جاتی ہے جبکہ ہمیں موجودہ اداروں کو مضبوط کرنا چاہیے۔‘

فوج کے زیرِ انتظام یونی ورسٹی کو قائم کرنے سے پہلے اس بل کی سینٹ میں منظوری ہوگی جس کے بعد یہ کابینہ منظور ہونے کے لیے جائےگا۔

اسی بارے میں