’بول‘ کے سنہرے خواب، خواب رہ گئے؟

Image caption تقریبا ایک ماہ قبل ایک اور نیوز گروپ اے آر وائی نے اعلان کیا تھا کہ وہ بول ٹی وی کی باگ ڈور سنبھالے گا

پاکستان کے نیوز میڈیا کی دنیا میں گذشتہ چند برسوں کے دوران بول ٹی وی کا چرچا رہا ہے لیکن اب بول ٹی وی کا مستقبل بظاہر تاریک نظر آتا ہے کیونکہ اُس کے انتظامی اُمور سنبھالنے کا اعلان کرنے والے ایک اور میڈیا گروپ اے آر وائی نے انتظامی معاہدہ طے نہ ہو سکنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بول ٹی وی کی مالک کمپنی ایگزیکٹ کے جعلی ڈگری سکینڈل کے منظرِ عام پر آنے، اُس کے مالکان اور اعلی افسران کی گرفتاری کے بعد سے بول ٹی وی کا مستقبل بھی غیر یقینی ہو گیا تھا۔

آخری سہارے کے طور پر اے آر وائی گروپ نے بول ٹی وی خریدنے یا اُس کے انتظامات سنبھالنے کا وعدہ تو کیا تھا لیکن بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق یہ معاہدہ طے نہیں پا سکا جس کے بعد بول ٹی وی کے سینکڑوں ملازمین کی نوکریاں اور گذشتہ چھ ماہ کی تنخواہیں داؤ پر لگی ہیں۔

اچھے روزگار کی غرض سے بول ٹی وی میں ملازمت اختیار کرنے والے آصف ٹوبہ اور اُن کے اہل خانہ آج فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ اس کی وجہ بنی ایگزیکٹ کمپنی کا جعلی ڈگری سکینڈل جس کی وجہ سے صرف ایگزیکٹ بلکہ بول ٹی وی کے بھی اکاؤنٹ منجمد ہوگئے۔ آصف کا کہنا ہے کہ اب تو ان کے گھر کا چولہا بھی بجھ گیا ہے۔

’ابھی تھوری دیر پہلے میرا مالک مکان بل دے گیا ہے کہ جمع کرادو آج آخری تاریخ ہے۔ بل کیسے جمع ہوگا؟ آج دوپہر کا کھانا نہیں پکے گا بل چلا جائے گا بس اور بچوں کی دو تین مہینوں کی فیس نہیں گئی ہے اور مالک مکان نے کہہ دیا ہے کہ گھر خالی کردو۔ ایسے حالات میں بندہ کس کا سہارا لے اور کس کا نہیں یہ مجھے سمجھ نہیں آتی‘

بول کے ملازم آصف ٹوبہ نے بتایا کہ اُنہیں بڑے بڑے خواب دکھائے گئے کہ بول میں معیارِ زندگی ہوگی، چھ ماہ بعد تنـخواہ میں اضافہ ہوگا، بونس ملے گا اور پک اینڈ ڈراپ ملے گی اِس لیے اُنھوں نے اُس خواب کو خواب سمجھ کہ بول میں ملازمت کی تھی لیکن اُن کے بقول معیارِ زندگی بہتر ہونے کے بجائے جو پہلے تھا اُس سے بھی بد تر ہو گیا ہے۔

یہ کہانی بول ٹی وی سے وابستہ صرف ایک میڈیا کارکن کی نہیں بلکہ کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا اور ملکی اخبارات میں بڑے اشتہارات، پرکشش تنخواہیں اور کارکنوں کو دی جانے والی سہولتوں کا سن کر ملک بھر کی میڈیا انڈسٹری کے سینکڑوں افراد نے بول ٹی وی میں ملازمت اختیار کی تھی۔

ادارے کے سینئیر ایگزیکٹیو وائس پریزیڈنٹ خاور نعیم ہاشمی کہتے ہیں۔

’جو لوگ بول میں ملاز مت کر رہے ہیں اُنھوں نے آنکھوں میں خواب سجائے تھے اور اِس سے پہلے کہ وہ خواب پورے ہوتے اُنہیں چھیننے کی کوشش کی پاکستان کے روایتی میڈیا کے سیٹھوں نے۔‘

اُنھوں نے بتایا کہ دراصل ایک معیاری نیوز آرگنائزیشن کی طرز پر بول کو پروان چڑھانا تھا جس میں صحافی ہی صحافتی فیصلے کرتا نہ کہ کوئی سیٹھ۔

مالی مشکلات میں پوری طرح گھر جانے کے بعد صحافتی تنظیموں اور بول ٹی وی سے وابستہ ملازمین نے اپنے حق کے لیے ملک کے مختلف شہروں میں مظاہرے کیے مگر کسی سطح پر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ تقریبا ایک ماہ قبل ایک اور نیوز گروپ اے آر وائی نے اعلان کیا کہ وہ بول ٹی وی کی باگ ڈور سنبھالے گا نہ صرف ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کرے گا بلکہ تین ہفتوں کےاندر بول ٹی وی کا آغاز (آن ایئر) کرئے گا۔ اِس اعلان نے ملازمین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

لیکن بہت جلد ہی بول ٹی وی کے ملازمین کی یہ آخری اُمید بھی دم توڑ گئی جب بول اور اے آر وائی نے آپس میں کوئی بھی معاہدہ نہ ہو سکنے کا اعلان کر دیا۔اِس اعلان کے بعد سینکڑوں ملازمین کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے۔ پاکستان کی میڈیا انڈسٹری میں سینکڑوں ملازمین کو اچانک برطرف کردیا جانا اور کئی کئی مہینے ملازمین کو تنخواہیں نہ دینا کوئی نئی اور غیر معمولی بات نہیں۔

بول ٹی وی ا ور ایگزیکٹ کمپنی کے مالک شعیب شیخ اِس وقت جعلی ڈگریوں کے مقدمے میں زیرِحراست ہیں جبکہ آصف ٹوبہ اور اِن جیسے کئی ملازم اب یہ سوچ رہے ہیں کہ مستقبل اب انہیں کہاں لے جائے گا۔

اسی بارے میں