پی آئی اے کے پائلٹوں کی دو روز سے غیر اعلانیہ ہڑتال

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption چیئرمین پی ائی اے نصیر جعفر نے اس بحران کے پیش نظر آج اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کی جس میں انھوں نے بتایا کہ پرواز سے کچھ لمحوں پہلے پائلٹس کی جانب سے بیمار ہونے کی اطلاع پر پروزایں معطل کی گئیں

پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کے پائلٹس کی دو روز سے غیر اعلانیہ ہڑتال جاری ہے جس کے سبب سینکڑوں مسافروں خصوصا منیٰ حادثے کے بعد ملک واپسی کے منتظر مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پائلٹس کی ہڑتال کے سبب 51 پروازیں منسوخ کی گئیں جبکہ کئی دیگر پروازیں تاخیر کا شکار ہوئی ہیں۔

پی آئی اے کی انتظامیہ کی جانب سے اس صورت حال کا ذمہ دار پائلٹس کو ٹھہرایا جا رہا ہے جبکہ پاکستان ایئر لائنز پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) نے پی ائی اے انتظامیہ کی نااہلی اور بدانتظامی کو اس صورتحال کا قصور وار ٹھرایا ہے۔

چیئرمین پی آئی اے نصیر جعفر نے اس بحران کے پیش نظر آج اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کی جس میں انھوں نے بتایا کہ پرواز سے کچھ لمحوں پہلے پائلٹس کی جانب سے بیمار ہونے کی اطلاع پر پروزایں معطل کی گئیں۔

’پروازیں جانے سے پہلے چند پائلٹس بیمار ہوگئےجس کی وجہ سے ہمیں فلائٹیس منسوخ کرنی پڑیں۔ ہم نے کوشش کی ہے کہ حج کی فلائیٹس تاخیر کاشکار نہ ہوں تاکہ حاجیوں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ ان میں سے بعض ایسے ہیں جنھیں منیٰ حادثے کے بعد واپس لانا بھی ضروری ہے۔‘

دوسری جانب پاکستان پائلٹس کی ایسوسی ایشن پالپا کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ پی آئی اے کو پیشہ ورانہ انداز اور قوانین کے مطابق چلایا جائے۔ ادارے کے جوائنٹ سیکریٹری کیپٹن رفعت نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے اپنی طرف سے ان کو بارہا مطلع کیا۔ آخری تاریخ دو ہفتےپہلے دی گئی تھی۔ان کی نااہلی یا ناکامی سمجھیں کہ انھوں نے معمول کے مطابق اپنا شیڈیول بنایا ہے۔ پائلٹس اپنا آرام یا چھٹی لینا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا سارا آپریشن متاثر ہو رہا ہے۔‘

پائلٹس کے تحفظات پر بات چیت کے لیے پی آئی اے انتظامیہ اور پی آئی اے کے پائلٹس کی ایسوسی ایشن پالپا کے درمیان اتوار کے روز مذاکرات ہوں گے۔

پی آئی اے کے چیئرمین نے دعویٰ کیا کہ پالپا نے پائلٹس کی تنخواہوں میں سو فیصد اضافے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ادارہ تنخواہوں اور دیگر مراعات کی مد میں پائلٹس کو سالانہ 3.2 ارب روپے ادا کر رہا ہےتاہم ان سے مذاکرات جاری ہیں۔

پالپا کے ترجمان کیپٹن رفعت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کو مسترد کیا اور کہا کہ ’یہ بات سراسر غلط ہے۔ہمیں انکے ساتھ بیٹھ کے یہ دیکھنا ہے کہ انھوں نے جو سو فیصد اضافے کا اندازہ لگایا ہے وہ صحیح بھی ہے کہ نہیں۔ بات چیت کے لیے پیر کو ہماری پی آئی اے انتظامیہ سے ملاقات طے ہےـ‘

پالپا کے مطابق کل پالپا کی ایک ٹیم پی آئی اے انتظامیہ سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہی ہے لیکن انتظامیہ اپنے وعدوں سے نہ پھرے اس لیے پالپا کی طرف سے ان مذاکرات میں حکومت کے ایک نمائندے کو شامل کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ پائلٹس کی ہڑتال کے باعث ایک طرف سینکڑوں مسافروں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے جبکہ دوسری جانب سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق قومی ایئر لائن کو بھی لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔

اسی بارے میں