ایبٹ آباد سے دیر بالا

کُلاچ سے کیلاش ایک قسط وار سفرنامہ ہے جو کراچی سے وادی کیلاش تک ہمارے ساتھی شرجیل بلوچ نے چند منچلے خواتین و حضرات کے ساتھ طے کیا ہے۔ راستہ تو خوبصورت ہے ہی، مگر راہی بھی کم نہیں۔یہ سفر نامہ ہر اتوار کو قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔ پیش ہے نویں قسط

بس کی چھت پر دوبارہ سامان باندھتے ہوئے ہمارے دل ابھی تک ایبٹ آباد میں اٹکے ہوئے تھے مگر آگے ابھی بہت سفر باقی تھا۔

ایبٹ آباد سے دیر بالا تک تقریباً 12 گھنٹے کی مسافت بنتی ہے۔ شہر سے نکلتے نکلتے سورج کی تپش بڑھنے لگی تھی۔

معلوم نہیں گذشتہ دنوں کی تھکاوٹ تھی یا باہر سے آتی ہوئی دھوپ کی ٹکور کہ میں سوتا رہا۔ اس دوران ہماری کوسٹر تیز تیز بھاگتے ہوئے حویلیاں، ہری پور، حسن ابدال سے ہوتی ہوئی اسلام آباد پشاور موٹر وے پر چڑہ گئی اور پھر مردان سے تخت بھائی، جلالہ اور سخا کوٹ سے ہوتے ہوتے دوپہر تک درگئی پہنچ گئی۔

کلاچ سے کیلاش تک: پہلی قسط

گنڈا پور والے دنگل: دوسری قسط

قصہ قصور کا: تیسری قسط

میں ہوں عادل لاہوڑی: چوتھی قسط

جھیل میں بیٹھی بوڑی دلہن: پانچویں قسط

کھیوڑہ کا نمک زاد: چھٹی قسط

کٹاس کا طلسم قدہ: ساتویں قسط

ایبٹ آباد کا جدون باغ: آٹھویں قسط

یہاں پر بنی بڑی سی فوجی چیک پوسٹ پہ باضابطہ طور پر ہمارے شناختی کارڈز کا اندراج کیا گیا اور آگے کی ہدایات بھی دی گئیں۔

صوبہ خیبر پختونخواہ میں دوڑتی ہوئی بس سے باہر ایک پشتون قبائلی مردانہ سماج پیچھے کی جانب بھاگتا ہوا نظر آیا۔

سفید شلوار قمیض، سفید رنگ کی گول ٹوپیاں اور کندھوں پر سفید رومال لیے باریش بزرگ اور جوان سڑک کے کنارے روزانہ کی مصروفیات میں مصروف تھے۔ کہیں کہیں خواتین شٹل کاک برقعوں میں پیدل، کاروں اور موٹر سائیکل کے پیچھے مردوں کی طرح بیٹھی ہوئی نظر آتیں تھیں۔

ہم بٹ خیلہ، چکدرہ سے ہوتے ہوتے ایک ٹرک ہوٹل پہنچ کر رکے۔ پٹھان حضرات چارپائیوں پر اکڑوں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔ ہم پتلون پہنے لوگوں کو کبھی کبھی وہ اچٹتی سی خشمگیں نگاہ ڈال کر دیکھتے اور پھر سے کھانے میں مصروف ہو جاتے۔

یہ پہاڑی علاقہ نیم زرعی سا تھا جہاں گندم کے کھیت بھی تھے اور پھلدار باغات بھی مگر مزاج سخت گیر قبائلی سا محسوس ہوا۔

ہماری ساتھی خواتین کو ہوٹل والے نے جلدی سے ایک کمرے میں داخل کر دیا جہاں بہت سی سفید شٹل کاک نکلے اور کوئی فالتو گفتگو کیے بغیر خواتین منی بسوں میں بیٹھ کر روانہ ہو گئیں۔ میں نے دیکھا کہ اچانک اس پٹھان لڑکے کا انداز آنٹی فراست کی بہن سے بہت مودبانہ ہو گیا جب اس نے ان کو پشاور والی پشتو میں بات کرتے سنا۔ ان کے چہرے میں ویسے بھی ایک خاندانی دبدبہ نظر آتا ہے اور پھر ہماری سب خواتین ان کے ساتھ ہی رہیں۔

پہاڑوں پر بل کھاتے ہوئے پر میٹل روڈ پر ہماری کوسٹر تیزی سے بھاگ رہی تھی۔ ان وادیوں میں فوجی چوکیاں تھیں۔ ان چوکیوں کے سوراخوں سے فوجی ہیلمٹ اور باھر نکلی ہوئی بندوقوں کی نالیں نظر آ رہی تھیں۔

چکدرہ سے تمرگرہ اور بیچ میں چھوٹے چھوٹے پہاڑی گاؤں کے کنارے دریائے پنج کوڑہ ہمیں مسلسل آوازیں دیتا رہا۔ کارودرہ پوسٹ کے قریب ہم نے زبردستی کوسٹر رکوائی اور چھلانگیں مارتے ہویے نیچے اتر آئے۔ چہروں پہ لگتی ہوئی تازہ ہوا، پتھریلا سا سبز میدان، نیچے بہتا ہوا دریا اور نیلے آسمان پر اٹھتے بادلوں نے سب کی تھکن پہلے پانچ منٹ میں ہی اتار دی۔

خوب منظر کشی ہوتی رہی۔ میں بھی اس منظر میں ایک جگہ جا کر جھوٹ موٹ کسی یاد میں کھو گیا۔ مجھے اندازہ تھا کہ یہاں سے میں سب کے کیمروں میں نظر آ رہا ہوں۔ یہاں وہ قبائیلی درشتگی محسوس نہیں ہوئی جو اب تک ہم محسوس کرتے آئے تھے۔

مغرب ہو چکی تھی جب ہم دیر بالا کے ایک دو منزلہ چھوٹے سے مقامی ہوٹل میں تھے۔

عرفان نے پہلے ہی سے اس میں کمروں کا معقول انتظام کر رکھا تھا۔ وہ کہتے ہیں نہ جس کا کام اسی کو ساجھے۔

ان ہوٹل والوں کا رویہ بھی دیہاتی مہمان نوازی والا تھا کہ جیسے یہ ہوٹل نہ ہو بلکہ ان کا حجرہ ہو۔ ہم سب کمروں میں اپنا سامان رکھ کر نیچے چھوٹے سے کھانے کے کمرے میں آئے تو جیسے ان جوان ہوتے ہوئے بچوں میں حرکت آ گئی۔

جب تک ہم نے ہاتھ دھوئے گرم کھانا میزوں پر لگ چکا تھا۔کھانے کے بعد سبز چائے کی وہ بڑی سی چینک ہمارے بیچ گھومتی رہی اور وہ ننھے ننھے ساقی ہمارے پیالے بھرتے رہے۔

ہمارے کمرے دوسری منزل پر ہیں۔ پیچھے بالکونی میں اندھیرا اور ٹھنڈ ہے۔ سامنے سیاہ پہاڑ پر لکڑی کے بنے ہوئے مکانوں میں کہیں کہیں کوئی دیا جل رہا ہے۔ اس کے اوپر پھر سیاہ آسمان میں ہزاروں قمقمے اور یہ شور پہاڑی درے میں مچلتے ہوئے دریا کا ہے جیسے کوئی دیوانہ پتھروں پر سر مارتا ہوا جا رہا ہو۔

اسی بارے میں