اہلسنت والجماعت کے مقامی رہنما کو چھ ماہ قید کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت میں ملزم کی طرف سے پانچ ماہ قبل راولپنڈی کے علاقے ٹیکسلا میں مذہبی منافرت پھیلانے کے لیے جو تقریر کی گئی تھی اس کی آڈیو بھی پیش کی گئی

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سرکاری دستاویز کے مطابق کالعدم قرار دی جانے والی جماعت اہلسنت والجماعت کے مقامی رہنما کو نفرت انگیز تقریر کرنے کے مقدمے میں چھ ماہ کی قید اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج آصف مجید نے اس مقدمے کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران استغاثہ کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزم تنویر عالم فاروقی نے مذہبی منافرت پھیلانے کے لیے شر انگیز تقاریر کیں جس سے معاشرے میں اشتعال پھیلنے کا خدشہ تھا۔

عدالت میں ملزم کی طرف سے پانچ ماہ قبل راولپنڈی کے علاقے ٹیکسلا میں مذہبی منافرت پھیلانے کے لیے جو تقریر کی گئی تھی اس کی آڈیو بھی پیش کی گئی جبکہ ملزم کے وکیل نے اُن کے موکل کے اوپر لگایے گئے الزامات کی تردید کی تھی۔

اس تقریر کے بعد پنجاب کے انسداد دہشت گردی کے محکمے نے تنویر عالم فاروقی کے خلاف انسداد دہشت گردی کی فعہ نو کے تحت مقدمہ درج کرکے اُنھیں گرفتار کرلیا تھا تاہم متعلقہ عدالت نے اُنھیں ضمانت پر رہا کردیا۔

پیر کے روز انسداد دہشت کی عدالت نے اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے تنویر عالم فاروقی کو مجرم گردانتے ہوئے اُنھیں چھ ماہ قید اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ جر مانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں مذید دو ماہ کی قید بھگتنا ہوگی۔

مفتی تنویر عالم فاروقی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ اہلسنت والجماعت کے راولپنڈی کے صدر ہیں۔

فیصلہ سناتے وقت مجرم عدالت میں موجود تھے اور عدالتی فیصلے کے بعد پولیس نے تنویر عالم کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرکے اُنھیں اڈیالہ جیل بھجوا دیا۔

اس سے پہلے اسی جماعت کے سیکرٹری جنرل اورنگ زیب فاروقی کو بھی مذہبی منافرت پھیلانے کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

اہلسنت والجماعت کے رہنماوں کا موقف ہے کہ اُن کی جماعت کو کالعدم قرار نہیں دیا گیا جبکہ وزارت داخلہ کی دستاویزات کے مطابق اس جماعت کا نام کالعدم تنظیموں کی لسٹ میں شامل ہے۔