ایان علی کو یونیورسٹی مدعو کرنے پر طالب علم فارغ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ماڈل ایان علی کو 14 مارچ کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا

کراچی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ماڈل ایان علی کو مدعو کرنے والے طالب علم کو یونیورسٹی سے خارج کرتے ہوئے اسی معاملے میں ایک سابق طالبعلم کے یونیورسٹی میں داخلہ لینے پر پابندی لگا دی ہے۔

یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق طلبا کے خلاف کارروائی انضباطی کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں کی گئی ہے۔

’چارگھنٹوں کا سفر چار ماہ پر محیط‘

ایان علی کا آئینہ

ایان علی کیس، میڈیا کیا رپورٹ کر رہا ہے

ترجمان کے مطابق ڈپارٹمنٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن کے طالب علم اریب خان 20 اگست کو جاری کیے گئے اظہارِ وجوہ نوٹس کا اطمینان بخش جواب نہیں دے سکے۔

ان کا کہنا ہے کہ اریب کا یہ عمل(ایان علی کو دی گئی دعوت) یونیورسٹی کی ساکھ خراب کرنے کی بھی وجہ بنا، اس لیے انھیں یونیورسٹی سے نکال دیا گیا ہے۔

فیصلے کے مطابق آئندہ وہ کراچی یونیورسٹی کے کسی بھی شعبے میں داخلے کے بھی اہل نہیں ہوں گے۔

اریب کے علاوہ عبداللہ رضوان شیخ نامی جس شخص کو کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ بھی ڈپارٹمنٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن کے ہی سابق طالب علم تھے۔

انضباطی کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں ان کے یونیورسٹی میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے وہ آئندہ کسی شعبے میں داخلہ بھی نہیں لے سکیں گے۔

منی لانڈرنگ کے معاملے میں ضمانت پر رہائی پانے والی ایان علی نے رواں سال اگست میں کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ پبلک ایڈمنسٹریشن کے طلبا کی ایک تقریب میں شرکت کی تھی۔

بعض حلقوں کی جانب سے ایان علی کی آمد اور طالب علموں سے خطاب پر اعتراضات سامنے آئے، جس کے بعد انھیں مدعو کرنے والے طالب علم کو اظہارِ وجوہ نوٹس جاری کیے گئے۔

شعبہ پبلک ایڈمسنٹریشن کے چیئرمین ڈاکٹر شبیہ کا دعویٰ تھا کہ اریب خان اور عبداللہ رضوان بغیر اجازت ایان علی کو شعبہ میں لے کر آئے تھے جبکہ طلبا کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ ایان کی آمد سے باخبر تھی۔

یاد رہے کہ ماڈل ایان علی کو 14 مارچ کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، کسٹم نے ان سے چھ لاکھ امریکی ڈالر برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔ چار ماہ کی حراست کے بعد انھیں 16 جولائی کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں