’بلوچستان کے سکولوں میں تین لاکھ بچوں کا بوگس اندراج‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption 2013 کی ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں چھ سے 16 سال کی عمر کے چونتیس اعشاریہ ایک فیصد بچے سکول نہیں جاتے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سکولوں میں تین لاکھ بچوں کے بوگس اندراج کے ساتھ ساتھ نو سو گھوسٹ سکولوں کا انکشاف ہوا ہے۔

ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے یہ انکشاف محکمہ تعلیم اور یونیسیف کے اشتراک سے سکولوں کے نظام کی نگرانی کے پروگرام کی تعارفی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سمارٹ فونز کے ذریعے اساتذہ و طلبا کی نگرانی

’بلوچستان میں 34 فیصد بچے سکول نہیں جاتے‘

بلوچستان میں ’تعلیم کا مستقبل خطرے میں‘

اعلامیے مطابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تعلیم حاصل کرنا ہر بچے کا حق ہے اور یہ امر نہایت افسوس ناک ہے کہ سکولوں میں 3 لاکھ بچوں کا بوگس اندراج کیا گیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبے میں نو سو سکول ایسے ہیں جن کا کوئی وجود نہیں لیکن ان کے اخراجات کی مد میں صوبائی حکومت سے رقم حاصل کی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا کہ ’یہ صوبہ ہم سب کا ہے اور یہاں کے بچے ہم سب کے بچے ہیں اور اگر ہم اپنے بچوں کے لیے اب بھی کچھ نہیں کر سکے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلوچستان میں نو سو سکول ایسے ہیں جن کا کوئی وجود نہیں

ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں تعلیمی اور معاشی انقلاب لانے کے لیے سب سے پہلے ضرورت اس امر کی ہے ’ہم سب اپنے آپ کو ٹھیک کریں۔‘

انہوں نے کہا کہ شعبۂ تعلیم کی ترقی کے لیے تمام تر دستیاب وسائل مہیا کیے گئے ہیں اور میرٹ کے قیام، نقل کے خاتمے اور اہلیت پر اساتذہ کی تعیناتی اور تبادلوں کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ دو برس قبل بلوچستان میں تعلیم کی صورتحال پر مرتب کی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ صوبے میں چھ سے 16 سال کی عمر کے چونتیس اعشاریہ ایک فیصد بچے سکول نہیں جاتے۔

سکول نہ جانے والوں میں بچوں میں سے 21 فیصد لڑکیاں اور 13 فیصد لڑکے تھے۔

اسی بارے میں