اپنے ہی نمائندوں کے انتخاب سے محروم کیوں؟

Image caption پنجاب میں بلدیاتی انتخابات تین مرحلوں میں 31 اکتوبر، 19 نومبر اور تین دسمبر کو ہوں گے

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں بلدیاتی قانون میں ایک حالیہ ترمیم نے چند ہفتے بعد شروع ہونے والے مرحلے وار بلدیاتی انتخابات کو پہلے ہی متنازع بنا دیا ہے۔

اس متنازع ترمیم کے ذریعے غیرمسلموں کو یونین کونسلوں میں اپنی مخصوص نشستوں پر براہ راست انتخاب کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔

گورنر پنجاب کی جانب سے اس سال 17 جولائی کو نافذ کیے جانے والے ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے اب غیرمسلموں، خواتین، محنت کشوں اور نوجوانوں کے لیے مخصوص نشستوں پر بالواسطہ انتخاب ہو گا اور کونسل کے چیئرمین، وائس چیئرمین اور دیگر ارکان ان نشستوں پر انتخاب کریں گے۔

صوبے میں رہنے والے ہندو، مسیحی اور سکھ برادریوں نے اس ترمیم کو انھیں حق رائے دہی سے محروم کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

رحیم یار خان میں مقیم شیڈیول کاسٹ رائٹس موومنٹ پاکستان کے چیئرمین رمیش جے پال نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ الیکشن نہیں سلیکشن سسٹم ہے۔

’جمہوری عمل میں عوام اپنے نمائندے خود چنتے ہیں لیکن ترمیم شدہ قانون کے ذریعے ہمیں اپنے نمائندے چننے کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے اور ہمیں یہ کہا جا رہا ہے کہ عوامی نمائندے ہمارے نمائندے منتخب کریں گے جو جمہوری عمل کے منافی ہے۔‘

Image caption فیصل آباد میں مقیم سکھ برادری کی سرگرم کارکن صائقہ کور نے کہا کہ ترمیمی آرڈیننس کے نفاذ کے بعد پنجاب کی مذہبی اقلیتیوں کے لیے جمہوری نظام میں کوئی حصہ نہیں رہا

انھوں نے کہا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں پر بالواسطہ انتخاب کے طریقہ کار سے مذہبی اقلیتیں پہلے ہی ناخوش ہیں۔

’جب ہم قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتی ارکان کے پاس اپنے مسائل لے کر جاتے ہیں تو وہ بڑی آسانی سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے آپ سے ووٹ تو لیا ہی نہیں اور اکثریتی نمائندے ہمیں یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں کہ آپ اپنے اقلیتی نمائندوں کے پاس جائیں۔ اب یہی نظام بلدیاتی اداروں میں بھی لایا جارہا ہے۔‘

رمیش جے پال نے کہا کہ جو نمائندہ ووٹ لے کر آتا ہے وہ اپنے ووٹروں کو بھی پہچانتا ہے اور اپنے علاقے کے مسائل سے بھی واقف ہوتا ہے مگر سلیکشن سسٹم کے تحت آنے والے نمائندوں کا نہ تو ووٹروں سے براہ راست تعلق ہوتا ہے نہ وہ ان کے مسائل کے حل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔‘

مسٹر جے پال نے کہا کہ انھوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر اس معاملے کا ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ملتان کے بشپ لیو پال نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں بلدیات سے متعلق ترمیمی آڈیننس کے نفاذ پر اقلیتوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔

’2001 اور 2005 کے بلدیاتی انتخابات میں ہم نے ووٹ کا حق استعمال کیا اور اپنے نمائندوں کو منتخب بھی کیا تھا لیکن اب تو لگتا ہے کہ ہم قومی دھارے ہی سے نکل گئے ہیں اور سیاسی جماعتوں کے رحم و کرم پر ہیں کہ وہ جسے چاہیں ہماری نشستیں دے دیں۔‘

بشپ لیئو پال نے کہا کہ بشپ سیاسی لوگ نہیں ہوتے لیکن گرجا گھروں میں اس پر بات ضرور ہورہی ہے کہ یہ قانون غلط ہے اور اس کے لیے لوگوں کو منظم کیا جائے اور حکومت تک یہ بات پہنچائی جائے کہ یہ حقوق سلب کرنے والی بات ہے۔

انھوں نے کہا کہ ترمیم شدہ قانون نافذ کرنے سے پہلے اقلیتیوں سے کوئی رائے نہیں لی گئی۔ انوں نے کہا کہ اقلیتیوں کے جو نمائندے حکومت اور منتخب ایوانوں میں موجود ہیں وہ سیاسی جماعتوں کے نامزد کردہ ہیں اور وہ اپنی جماعتوں کی ہدایت پر ہی عمل کرتے ہیں۔

فیصل آباد میں مقیم سکھ برادری کی سرگرم کارکن صائقہ کور نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ترمیمی آرڈیننس کے نفاذ کے بعد پنجاب کی مذہبی اقلیتیوں کے لیے جمہوری نظام میں کوئی حصہ نہیں رہا۔

’ہم قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پہلے ہی سلیکشن پر ہیں اور اب تو بلدیاتی اداروں میں بھی جو لوگوں کے گلی محلوں کے مسائل کے حل کے لیے ہوتے ہیں، وہاں بھی ہم سے براہ راست ووٹ کا حق لے لیا گیا ہے تو ہمیں لگتا ہے کہ ہم سے حق رائے دہی بھی چھین لیا گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ہم کہیں پہ بھی جا کے اُس اعتماد سے بات نہیں کر سکتے جس اعتماد سے ہم اپنی برادری کے نمائندے سے بات کرسکتے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے جاری کردہ شیڈیول کے مطابق پنجاب میں بلدیاتی انتخابات تین مرحلوں میں 31 اکتوبر، 19 نومبر اور تین دسمبر کو ہوں گے۔

اسی بارے میں