منیٰ حادثہ: لواحقین کا کرب جاری

تصویر کے کاپی رائٹ Saudi Civil Defence Directorate
Image caption پاکستان میں کئی خاندان ایسے بھی ہیں جن کو معلوم ہوچکا ہے کہ ان کے عزیز رشتہ دار منیٰ حادثے میں ہلاک ہو چکے ہیں

سعودی عرب میں حج کے دوران منیٰ کے مقام پر بھگدڑ کے واقعے کو دو ہفتے مکمل ہونے کو ہیں لیکن ابھی تک درجنوں پاکستانی حاجی اب تک لاپتہ ہیں جن کے خاندان والے آج کل انتہائی کرب اور تکلیف کی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔

بیشتر پاکستانی خاندانوں کو کچھ معلوم نہیں کہ سعودی عرب جانے والے ان کے عزیز رشتہ دار زندہ بھی ہیں یا مر چکے ہیں۔ یہ گومگو اور کشمکش کی کیفیت ہر اس گھر میں پائی جاتی ہے جن کا کوئی عزیز منیٰ حادثے میں لاپتہ ہوا ہے۔

منیٰ بھگدڑ میں 76 پاکستانی ہلاک، 60 اب بھی لاپتہ

لاپتہ حاجی کہاں گئے؟

ان لاپتہ حاجیوں میں بعض کا تعلق پشاور سے بھی ہے۔ ان میں سے ایک صالح محمد ہیں جو اپنی اہلیہ سمیت حج کرنے کے لیے سعودی عرب گئے تھے۔

پشاور شہر سے تعلق رکھنے والے صالح محمد کی اہلیہ تو بخیریت پشاور پہنچ گئی ہیں لیکن ان کے شوہر اب تک لاپتہ ہیں۔

صالح محمد کے بھتیجے تیمور خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے چچا کو لاپتہ ہوئے 13 دن گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک انھیں کسی ذریعے سے معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ زندہ ہیں، زخمی ہیں یا چل بسے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کا پورا خاندان آج کل انتہائی کرب اور اذیت سے گزر رہا ہے۔

’ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت سعودی عرب میں مختلف لوگوں کی مدد سے تمام ہسپتال، صحت کے مراکز اور یہاں تک کہ وہاں کی جیلوں میں بھی تلاش کیا لیکن ہمارے چچا کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔‘

تیمور خان کے مطابق: ’ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ ہم کریں تو کیا کریں۔ اپنے طور پر تو ہم نے تمام تر کوششیں کر لی ہیں اب ہم اور کیا کرسکتے ہیں؟‘

انھوں نے کہا کہ ان کے خاندان والوں نے فیصلہ کیا ہے کہ چچا کو ڈھونڈنے کے لیے جلد ہی کسی کو سعودی عرب بھیجا جائے تاکہ ان کے دلوں کو کچھ تو تسلی ملے، لیکن سعودی عرب جانے کا ویزا ملنے میں بھی دشواری کا سامنا ہے۔

تیمور خان نے مزید بتایا کہ ’ان کی چچی کی حالت انتہائی غیر ہو چکی ہے، وہ اپنے ہوش و حواس میں نظر نہیں آ رہیں، کبھی کچھ کہتی ہیں کبھی کچھ۔‘

ان کے بقول چونکہ ان کی چچی نے یہ واقعہ خود اپنے آنکھوں سے دیکھا ہے اس لیے وہ ٹراما کی حالت میں ہیں اور ان کی ذہنی حالت بھی ٹھیک نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ابھی تک پاکستان یا سعودی حکومت کی طرف سے ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے اور نہ ہی ان کو سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانے سے کسی قسم کی کوئی اطلاع دی گئی ہے۔

وزرات مذہبی امور کی ویب سائٹ پر جاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق منیٰ حادثے میں اب تک 76 پاکستانی حاجیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 60 افراد لاپتہ ہیں۔ اس کے علاوہ سات پاکستانی حجاج مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

پاکستان میں کئی خاندان ایسے بھی ہیں جن کو معلوم ہو چکا ہے کہ ان کے عزیز رشتہ دار منیٰ حادثے میں ہلاک ہو چکے ہیں لیکن وہ پھر بھی یہ آس لگائے ہوئے ہیں کہ شاید ان کو غلط اطلاع دی گئی ہو اور شاید ان کے رشتہ دار اب بھی زندہ ہوں۔

ایسا ایک خاندان یعقوب خان کا بھی ہے جو خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت سے تعلق رکھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وزرات مذہبی امور کی ویب سائٹ پر جاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق منیٰ حادثے میں اب تک 76 پاکستانی حاجیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے

یقعوب خان بھی دیگر عازمین حج کی طرح اپنی والدہ کے ہمراہ سعودی عرب حج کی سعادت حاصل کرنے کے لیےگئے تھے۔ تاہم منیٰ واقعے میں ان کے والدہ ہلاک ہوگئی ہیں جبکہ وہ خود وہاں ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

یقعوب خان کی ہمشیرہ کلثوم بی بی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی والدہ کی ہلاکت کی اطلاع تو ان کو دی گئی ہے لیکن انھیں یقین نہیں آ رہا۔ ان کے مطابق ہو سکتا ہے ان کی والدہ زندہ ہوں۔

انھوں نے کہا کہ منیٰ واقعے کے بعد دو ہفتے تک ان کا خاندان جس کرب سے گزرا ہے وہ اللہ ہی کو معلوم ہے۔

کلثوم کے مطابق وہ اس واقعے کے لیے سعودی عرب کی حکومت سے زیادہ پاکستانی حکومت کو ذمہ دار سمجھتی ہیں کیونکہ ابھی تک غم زدہ خاندانوں سے رابطہ تک نہیں کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ تمام لاپتہ حاجیوں کے خاندان خود اپنے طور پر مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کرتے رہے ہیں حکومت کی طرف سے کسی کی کوئی مدد نہیں کی گئی۔

کلثوم بی بی نے کہا کہ منیٰ کے مقام پر مناسک حج کی ادائیگی کے دوران لوگوں کی جانیں گئیں، ان کے مالی نقصانات بھی ہوئے لہٰذا اب حکومت کو اس کا ازالہ کرنا چاہیے اور اس واقعے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات بھی ہونی چاہییں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔

اسی بارے میں