کل کا بالاکوٹ آج کا شہر نا پرساں

Image caption حکومت نے اس علاقے کو ریڈ زون قرار دیا ہے اس لیے یہاں نئی تعمیرات کی اجازت نہیں

آٹھ اکتوبر 2005 کے زلزلے سے، بالا کوٹ کا پورا شہر زمیں بوس ہوگیا تھا اور آج کے بالاکوٹ کو شہر نا پرساں کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔

لوگ ڈربوں کی طرح چادروں کے عارضی مکانات میں رہائش پذیر ہیں، علاقے میں بجلی اور پانی کی کمی ہے جبکہ صحت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

’بیٹے کبھی کچن میں تو کبھی باہر سوتے ہیں، یہ ہماری زندگی ہے‘

یونین کونسل گرلاٹ میں کچھ لوگوں سے بات کرنا چاہی تو ہر کوئی اپنے دل کا غبار نکالنے کو تیار دکھائی دیا۔

آوازیں کئی تھیں لیکن پیغام ایک ہی تھا کہ ’ہم لوگ دربدر ہیں ، ان چھوٹے عارضی مکانات میں ایک خاندان بھی مشکل سے گزارہ کرتا ہے۔‘

دس سال سے لوگ اس امید پر یہاں رہ رہے ہیں کہ ان کے مسائل حل ہوں گے، حکومت انھیں مکان بنا کر دے گی لیکن اب یہ امید ناامیدی میں بدل رہی ہے۔

یونین کونسل گرلاٹ میں زلزلے کی تباہی آثار اب بھی نمایاں ہیں۔ یہاں ایک بڑا بازار زلزلے سے تباہ ہوا تھا جسے اب تک دوبارہ تعمیر نہیں کیا گیا۔

مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ تباہ شدہ بازار زلزلے سے پہلے ایک بڑا کاروباری مرکز تھا جہاں ایک ایک دوکاندار روزانہ ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے کا کاروبار کرتا تھا۔

زلزلے نے ان کا سب کچھ تباہ کر دیا اور اب علاقے کے مکینوں کے مطابق وہ ایک دہائی بعد بھی انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

بالا کوٹ کے رہائشی 70 سالہ غلام علی کی پوتی اس زلزلے میں ہلاک ہوئی تھیں اور وہ زلزلے کے بعد سے اپنے خاندان کے 12 افراد کے ساتھ دو کمروں کے عارضی مکان میں رہائش پذیر ہیں جو انھیں سعودی حکومت کی جانب سے دی گئی امداد میں ملا تھا۔

Image caption غلام علی اپنے خاندان کے 12 افراد کے ساتھ دو کمروں کے عارضی مکان میں رہائش پذیر ہیں

انھوں نے کہا کہ ان کا اپنا کوئی مکان نہیں ہے اور ’آپ خود سوچیں کہ ہم ان دس دس فٹ کے دو کمروں میں کیسے زندگی گزارتے ہوں گے۔‘

غلام علی نے بتایا کہ نیو بالا کوٹ سٹی یا بکریال سٹی کا وعدہ پورا ہوتا نظر نہیں آ رہا اور ’وہاں اگر مکان یا پلاٹ دیے جائیں گے تو انھیں ملیں گی جن کے مکان یہاں تھے مگر انھیں تو کچھ نہیں ملے گا جو کرائے کے مکانوں میں رہتے تھے۔‘

رشید پیشے سے ڈرائیور ہیں اور ایسے ہی ایک عارضی مکان میں رہتے ہیں جہاں ان کے ساتھ خاندان کے 13 افراد بھی مقیم ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جن حالات میں وہ رہنے پر مجبور ہیں وہ کسی انسان کے لیے نہیں بلکہ جانور بھی اس سے بہتر حالات میں رکھے جاتے ہیں۔

رشید نے بتایا کہ گرمیوں میں دوپہر کسی درخت یا دیوار کے سائے میں بیٹھ کر گزارتے ہیں اور سردیوں میں موسم کی شدت سے بچنے کے لیے کیا کیا جتن کرنے پڑتے ہیں وہ وہی جانتے ہیں۔

’ہم میاں بیوی اور چھوٹے بچے ایک کمرے میں سوتے ہیں ، بیٹیاں الگ کمرے میں اور بڑے بیٹے کبھی کچن میں تو کبھی باہر سوتے ہیں۔ یہ ہماری زندگی ہے‘۔

بالاکوٹ میں اس طرح کے پانچ ہزار سے زیادہ شیلٹرز ہیں۔ یہ شیلٹرز دھاتی چادروں سے بنے ہوئے ہیں جن کے درمیان تھرموپول یا پیکنگ میٹریل بھرا گیا ہے۔

بالاکوٹ کی ایک بیکری کے مالک نسیم نے بتایا کہ حکومت نے اس علاقے کو ریڈ زون قرار دیا ہے اس لیے یہاں تعمیر کی اجازت نہیں۔

Image caption یونین کونسل گرلاٹ کے سب ہی مکین اپنے دل کا غبار نکالنے کو تیار دکھائی دیے

انھوں نے کہا کہ شہر میں کوئی ہسپتال نہیں ہے اور ایک کرائے کے مکان میں شہر کا بڑا ہسپتال ہے جہاں صرف ایک سے دو ڈاکٹر ہوتے ہیں اور لوگوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔

یونین کونسل کے ناظم ریاض احمد کا کہنا ہے کہ ان سے وعدے تو بہت کیے گئے لیکن کوئی کام نہیں کیا گیا۔

ان کے مطابق ’ہمیں بتایا گیا تھا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر یہ وعدہ کیا تھا کہ ان لوگوں کو نئے مکان بنا کر دیے جائیں گے کیوں کہ ادھر پرانا بالاکوٹ شہر فالٹ لائن پر واقع ہے مگر حکومت یہ وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔‘

پاکستان کی حکمراں جماعت مسلم لیگ نواز کے مقامی رہنما اور یونین کونسل کے منتخب رکن حبیب الرحمان بھی اپنی حکومت سے خوش نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’نواز شریف نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد یہاں لوگوں کے تمام مسائل حل کریں گے اور خود بھی اپنا مکان یہاں بنائیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ اپنے علاقے کے لوگوں کی جانب سے وزیرِ اعظم سے اپیل کرتے ہیں کہ اب تو انھیں اقتدار میں آنے کے بعد دو سال سے زیادہ وقت ہوگیا ہے اور انھوں نے جو وعدہ کیا تھا اس کی تکمیل پر ضرور غور کریں۔

اسی بارے میں