’کیچڑ سے چاول چنتے لوگ کیسے بھول سکتی ہوں‘

Image caption شبنم اور اُن کے پاکستانی کزن وادی وادی پھر کر ایسی متاثرہ آبادیوں کی نشاندہی کرتے رہے جن کا نام و نشان کاغذی نقشوں پر نہیں تھا

پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں سنہ 2005 میں آنے والے تباہ کن زلزلے میں نہ صرف ہزاروں افراد ہلاک ہوئے بلکہ بڑے پیمانے پر تباہی بھی ہوئی تھی۔ بی بی سی کی نامہ نگار شبنم محمود نے اپنی ایک ہم نام امدادی کارکن کے ساتھ متاثرہ علاقے کے سفر کی یادیں تازہ کیں۔

شبنم شفیع نے پاکستان میں آٹھ اکتوبر 2005 کے زلزلے کی یادیں تقریباً دس سال تک ایک ڈبے میں بند رکھنے کی کوشش کی اور جب اپنی ایک خاص دوست کے کہنے پر یہ ڈبہ کھولا تو یادوں کا فطری غلبہ حاوی ہوگیا۔

اس مشکل وقت کی مشترکہ یادیں کھنگالتے ہوئے سِسکیوں میں انھوں نے اپنی دوست شبنم محمود کو یاد دلایا کہ وہ وقت کیسے بھلایا جا سکتا ہے جب اُنھوں نے ’لوگوں کو کیچڑ میں سے چاول چنتے دیکھا تھا۔‘

شبنم اور شبنم کی مکمل یادیں سننے کے لیے کلِک کیجیے

شبنم شفیع کے 40 قریبی عزیز و اقارب زلزلے میں ہلاک ہوئے تھے لیکن پہلی یاد اُنھیں زلزلے کے ایسے متاثرین کی آئی جو ہیلی کاپٹر سے گرنے والی خوراک کے تھیلے پھٹ جانے کے باوجود اُسے کھانے پر مجبور تھے کیونکہ اُن حالات میں خوراک کو گندا سمجھ کر چھوڑ دینا ان کے لیے ممکن نہ تھا۔

شبنم شفیع آج کل برطانیہ کے شہر رادرہم میں رہتی ہیں۔ شادی کے بعد دو بچوں کی ماں ہیں جبکہ شبنم محمود 2005 میں بی بی سی کے ایشین نیٹ ورک کی نامہ نگار تھیں اور اب بھی ہیں۔

ان دونوں میں خاص دوستی اِس لیے ہے کہ زلزلے کے فوری بعد اُنہوں نے ہیتھرو ایئرپورٹ سے مظفر آباد تک کا سفر اکٹھے کیا۔

شبنم شفیع اپنے عزیزوں کی لاشیں ملبے میں سے ڈھونڈنے آئیں اور شبنم محمود اس تباہی کی رپورٹنگ کرنے اور یوں دونوں کو کچھ دن اکٹھے گزارنے کا موقع بھی ملا۔

مظفرآباد آنے کے بعد شبنم شفیع صرف اپنے خاندان تک محدود نہیں رہیں بلکہ متاثرین کی مدد کا الگ طریقہ اپنایا۔

Image caption شبنم شفیع کے جوتوں پر لگا ہوا کیچڑ خُشک تو ہو چکا ہے لیکن یادوں کی طرح چِپکا ہوا ہے

تباہ شدہ علاقے میں زیادہ تری امدادی سرگرمیاں نقشوں کو دیکھ کر طے کی جا رہی تھیں لیکن شبنم اور اُن کے پاکستانی کزن وادی وادی پھر کر ایسی متاثرہ آبادیوں کی نشاندہی کرتے رہے جن کا نام و نشان کاغذی نقشوں پر نہیں تھا اور پھر امدادی ٹیمیں وہاں پہنچتیں یا ہیلی کاپٹروں سے امداد پہنچائی جاتی رہی۔

گُمنام متاثرہ دیہات کی کھوج لگانے والی پیادہ ٹیم کو ایک ایسے مقام سے گزرنا پڑا جہاں لینڈ سلائیڈنگ کے بعد فوجیوں نے ایک شخص کے گزرنے کے لیے پہاڑ کی بغل میں پگڈنڈی بنا دی تھی جبکہ پہاڑ کی گود میں دریا بہہ رہا تھا۔

پگڈنڈی سے گزرتے ہوئے شبنم کے کالے بوٹ نرم پگڈنڈی میں دھنسنا شروع ہو گئے تو ان کے ساتھیوں نے ہاتھوں کی زنجیر بنا کر انھیں دریا میں گرنے سے بچایا۔

اُس دن پہنے ہوئے جوتے اور کپڑے شبنم نے برطانیہ واپس پہنچ کر ایک ڈبے میں بند کر دیے تھے جو تقریباً دس سال بعد اب کھلا ہے۔

جوتوں پر لگا ہوا کیچڑ خُشک تو ہو چکا ہے لیکن یادوں کی طرح چِپکا ہوا ہے اور کپڑوں سے سُرخ پہاڑی مٹی کے نشان بھی نہ جا سکے۔

لیکن موت کے مُنہ سے واپس آنے کی یاد سے زیادہ تکلیف دہ یاد وہ منظر ہے جب شبنم کو دریا میں ایک بس دکھائی دی تھی جو مسافروں کی لاشوں سے بھری ہوئی تھی۔

اسی بارے میں