’دل کو یقین ہے کہ وہ زندہ ہے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ایک وہ دن تھا جب محمد بشیر دفتر سے بھاگتے ہوئے گھر آئے تھے۔ اس صبح گھر میں قیامت کا سا سماں تھا۔ اور آج کا دن ہے کہ اس روز کے زخم بھرے نہیں۔

محمد بشیر کا گھر پہاڑی پر ہے اور جب زلزلے کے باعث چھتیں گریں، تو ان کی بیوی اور بیٹی تو بچ کر نکل آئے، لیکن ایک بیٹا سلیم اور بہو ملبے تلے دب کر مارے گئے تھے۔ چھوٹا بیٹا یاسر آٹھویں کا آخری پرچہ دینے سکول گیا تھا۔

’آج بھی لوگ اپنا قصور پوچھ رہے ہیں‘: آڈیو رپورٹ

’اس نے نماز کے بعد مجھے بتایا کہ اس کا آخری پرچہ ہے اور وہ سکول جا رہا ہے۔‘

بشیر نے اپنے ایک اور بیٹے ناصر کو یاسر کے ساتھ سکول بھیجا۔ ’ہم سلیم اور اس کی بیوی کو سمیٹنے لگے اور ناصر سکول گیا۔ دو تین گھنٹے بعد جب واپس آیا تو اس نے بتایا کہ وہاں کچھ نہیں ہے۔ سکول مکمل طور پر گر گیا ہے اور وہاں بہت لوگ ہیں۔ کچھ پتہ نہیں چل رہا۔‘

جب یاسر واپس نہیں آیا تو اسے ڈھونڈنے کے لیے ان دس برسوں میں محمد بشیر کہاں کہاں نہیں گئے۔ مظفر آباد سے لے کر لاہور، کھاریاں، گجرات اور کراچی تک کے کم ہی ہسپتال انھوں نے چھوڑے ہوں گے۔ ایک ہسپتال میں ایک بچے نے بتایا کہ یاسر کے سر پر چوٹ تھی اور ٹانگ ٹوٹ گئی تھی۔ ایسی معلومات کی آس پر وہ اپنے بیٹے کو ابھی تک تلاش کر رہے ہیں، بلکہ کچھ روز پہلے ہی وہ پھر یاسر کو ڈھونڈنے کے لیے کھاریاں گئے۔

’دونوں بیٹا اور بہو قریب قبرستان میں ہیں۔ ان کے لیے ہم دعا کرنے چلے جاتے ہیں۔ لیکن یاسر کے لیے تو انتظار ہی رہتا ہے۔ شروع شروع میں خواب آتا تھا کہ وہ سکول کی میز کے نیچے چھپا ہے اور مجھے پکار رہا ہے، نکالو مجھے نکالو۔‘

انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کے اعداد و شمار کے مطابق، مظفر آباد، باغ، پونچھ، کوٹلی، مانسہرہ، بٹگرام اور گجرات کے اضلاع سے 574 لوگ اپنے پیاروں کی تلاش میں ریڈ کراس کے پاس آئے۔

Image caption لاپتہ یاسر کے اہلِ خانہ

ریڈ کراس نے زلزلے میں لاپتہ افراد کو ڈھونڈنے کا بیڑا اٹھا رکھا تھا۔ تقریباً 350 افراد کا سراغ ریڈ کراس نے حکام اور دیگر غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ مل کر لگا لیا۔

ان میں 89 کی لاشیں مل گئی تھیں، تاہم 228 ایسے ہیں جو اب بھی لاپتہ ہیں۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف دا ریڈ کراس کے اہلکار نجم الثاقب کہتے ہیں کہ ایک مشکل یہ تھی کہ تلاش کا وقت غیر واضح تھا اور لوگ جب ہر ہفتے بعد پیش رفت کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے آتے تھے، لیکن ہم نہیں بتا سکتے تھے کہ ہمیں دو ہفتے لگیں گے یا دو ماہ۔ ’اس کا بھی لاپتہ افراد کے خاندان والوں پر بہت نفسیاتی دباؤ تھا۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ آٹھ اکتوبر کے بعد کئی دنوں تک لاشوں اور زخمیوں کو نکالنے کا عمل جاری رہا اور کئی زخمیوں کو تو پاکستان کے دیگر شہروں تک ہیلی کاپٹر کے ذریعے علاج کے لیے پہنچایا گیا۔

’یہ زلزلہ پاکستان کی تاریخ کی بدترین قدرتی آفات میں تھا لیکن اس وقت ہمارا نظام نہیں قائم کیے گئے تھے کہ اگر ایک مریض کو کسی ہسپتال میں پہنچایا جا رہا ہے تو اس کی نشاندہی کی جائے اور ریکارڈ رکھا جائے۔‘

Image caption آٹھ اکتوبر کے بعد کئی زخمیوں کو پاکستان کے دیگر شہروں تک ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی علاج کے لیے پہنچایا گیا: انجم ثاقب

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت موبائل فون اتنے عام نہیں تھے اور پھر کچھ رشتہ داروں کے پاس اپنے گمشدہ عزیزوں کی تصاویر بھی نہیں تھیں جس کی وجہ سے تلاشی کا عمل اور مشکل ہو گیا۔

اسی طرح سنہ 2007 کے بعد کئی لاپتہ افراد کی نشانیاں مدھم ہو گئی ہیں۔ ضلعی انتطامیہ کا کہنا ہے کہ اب ان کے پاس ان لوگوں کا کوئی ریکارڈ نہیں رہا۔

مظفرآباد کے ضلعی کمشنر چوہدری فرید نے بتایا کہ ان کے پاس ایسے بھی کیس تھے جہاں لوگوں نے گمشدہ بچوں کو اپنے گھروں میں دیکھ بھال کرنے کے لیے رکھ لیا اور جب ان کی نشاندہی کی گئی تو پھر ان کو ان کے خاندان والوں کو واپس کر دیا۔

’میرے پاس راولا کوٹ کا کیس تھا جہاں خاندان نے تو شہادت کا معاوضہ بھی لے لیا تھا۔ جب ان کا بچہ واپس دیا گیا تو ہم نے یہ معاوضہ واپس بھی نہیں لیا۔ اب ہمارے پاس تو لاپتہ افراد کے کوئی کیسز نہیں ہیں۔‘

لیکن مظفرآباد کے رہائشی محمد بشیر کو اب بھی امید ہے۔ ’دل کو یقین ہے کہ وہ زندہ ہے۔ وہ خوابوں میں ہے، خیالوں میں ہے۔ بس اس کے انتظار میں وقت گزر رہا ہے۔‘

Image caption اب ہمارے پاس تو لاپتہ افراد کے کوئی کیسز نہیں ہیں: ضلعی کمشنر چوہدری فرید

وہ کہتے ہیں کہ جب تک وہ یاسر کو خود دیکھ نہیں لیتے، ان کی تلاش جاری رہے گی۔

اسی بارے میں