’زلزلے نے فیصلہ کرنے کی طاقت پیدا کر دی‘

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں سنہ 2005 کے زلزلے سے قبل زیادہ تر لڑکیاں تعلیم حاصل کرنے کے بعد سکول میں استانی بن جاتیں یا پھر گھرداری کرتی تھیں۔ جب زلزلے نے ہزاروں کے کاروبار اور بہت سےگھروں کے کفیل تک چھین لیے تو اس موقع پر کشمیر کی خواتین آگے بڑھیں اور اپنی مشکلات کے حل کے لیے کسی دوسرے کی طرف دیکھنے کے بجائے خود ایسے ایسے شعبوں میں کام کیا جو پہلے شاید ممکن نہ ہوتا۔ ان میں سے کچھ خواتین نے بی بی سی اردو کو اپنی کہانیاں سنائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ tabinda kokab
Image caption ساجدہ کو آج بھی شوہر کے زندہ نہ ہونے کا یقین نہیں ہے

ساجدہ تنویر

ساجدہ کے شوہر ایک سرکاری ملازم تھے۔ وہ مستقبل میں قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے ملک سے باہر جانا چاہتے تھے۔ ساجدہ کی شادی کو تین برس ہوئے تھے۔ ان کا ایک دو برس کا بیٹا تھا۔ ان کے شوہر زلزلے میں لاپتہ ہوگئے۔

ساجدہ اس وقت حاملہ تھیں اور انھوں نے اپنے شوہر کو پاکستان کے تمام شہروں میں تلاش کیا۔ انھیں آج بھی یقین نہیں کہ ان کے شوہر زندہ نہیں۔

وہ کہتی ہیں ’کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ شاید وہ ہوں کہیں پر، پھر یہ لگتا ہے کہ وہ پڑھا لکھا انسان تھا ، کافی ہوشیار تھا، شاید ان کی یادداشت چلی گئی ہو۔‘

ساجدہ کے بقول شروع میں زندگی کٹھن ہو گئی، لیکن ان کا خاندان تعلیم یافتہ تھا اس لیے انھیں کافی سہارا دیا اور شوہر کی جگہ سرکاری ملازمت کرنے کا مشورہ دیا۔

آج وہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے محکمے ادارۂ تحفظ ماحولیات میں سیکشن کلرک ہیں۔

ساجدہ کہتی ہیں ہر کام کرنے والی عورت کی طرح انھیں بھی باتیں سننا پڑیں لیکن انھوں نے اپنے بچوں کے مستقبل کو دھیان میں رکھا اور محنت کرتی رہیں تاکہ انھیں کوئی محرومی نہ رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Tabinda Kokab
Image caption سمیعہ ساجد نے زلزلے میں اپنا چھ سالہ بیٹا کھو دیا

سمیعہ ساجد

سمیعہ ساجد نے زلزلے میں نہ صرف اپنا چھ سالہ بیٹا کھویا بلکہ ان کا گھر بھی منہدم ہو گیا اور بے سرو سامانی کی حالت نے دماغی رسولی میں مبتلا ان کے شوہر کے علاج میں بھی خلل ڈالا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انھیں بیوگی کا دکھ اٹھانا پڑا۔

سمیعہ کے لیے آٹھ اکتوبر زندگی کا مشکل ترین دن تھا۔ زخمی شوہر کو گھر کے باہر کھلی جگہ بٹھا کر بچوں کے سکول تک جانے اور انھیں پا لینے تک کا منظر جیسے ان کی زندگی میں ٹھہر سا گیا ہے۔

اس وقت کو یاد کرتے آج بھی ان کے آنسو نہیں تھمتے۔

سات گھنٹے بعد سکول کے ملبے سے بیٹی تو زندہ نکل آئی لیکن چھ سالہ بیٹا طلحٰہ جب ان کی گود میں آیا تو آنکھیں کھلی تھیں لیکن ان میں زندگی نہیں تھی۔

قریبی سکول کے میدان میں جمع اردگرد کے لوگوں کے زخموں کی دیکھ بھال کرنا اگلے چند روز تک سمیعہ کا معمول بنا رہا اور یہیں سے سمیعہ کی ہمت کا سفر شروع ہوا۔

کچھ وقت کے بعد جب ان کے شوہر بھی اس دنیا میں نہیں رہے تو انھوں نے اپنے شوہر کا کیبل کا کاروبار سنبھال لیا جو نہ صرف اس وقت بلکہ آج بھی اس علاقے میں اچنبھے کی بات ہے۔

لیکن انھوں نے زلزلے کے باعث تباہ ہو جانے والے کام کو دوبارہ سے شروع کیا اور اسے معقول آمدن کا ذریعہ بنانے میں کامیاب رہیں۔

چونکہ کیبل نیٹ ورک اپنا تھا اس لیے سمیعہ نے شہر کے مسائل کو اجاگر کر کے انھیں حل کروانے کا بیڑا بھی اٹھا لیا اور ’کیپٹل نیوز‘ کے نام سے ایک چینل شروع کیا۔

ان کے والد ایک سیاسی کارکن تھے لہٰذا سیاست ان کے خون میں تھی۔ اس لیے انھوں نے مسائل پر محض شور نہ مچاتے ہوئے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا۔

وہ اس وقت مظفرآباد کی متحرک سیاسی شخصیت بھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ tabinda kokab
Image caption آسیہ خرم نے وکالت کی تعلیم حاصل کر کے اپنے خاندان اور علاقے کی حمایت کے ساتھ عملی سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا

آسیہ خرم

آسیہ خرم نے وکالت کی تعلیم حاصل کی۔ سنہ 2005 میں وہ پہلے بچے کی ماں بننے والی تھیں۔ زلزلے کے باعث ان کا مکان منہدم ہو گیا اور وہ اور ان کا خاندان اندر دب گئے۔

زخمی حالت میں انھیں نکالا گیا لیکن ان کا بچہ نہیں بچ پایا۔

وقتی طور پر صدمے کا شکار ہونے والی آسیہ نے اس وقت اردگرد آنے والے تباہی اور لوگوں کی بے سروسامانی کا اثر مثبت انداز میں لیا اور فیصلہ کیا کہ اب ان کی وکالت کا مقصد پیسہ اور نام کمانا نہیں بلکہ لوگوں کی مدد کرنا ہو گا۔

انھوں نے خاندان اور علاقے کی حمایت کے ساتھ عملی سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔

اس وقت وہ متحرک کارکن اور ایک سیاسی جماعت میں ایک اعلیٰ عہدے پر ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان سمیت کئی خواتین کا سیاست میں آنے کا مقصد سیاست کی روایتی شکل کو بدلنا تھا۔

آسیہ کا کہنا ہے کہ زلزلے کے بعد ان کی شخصیت میں آنے والے سب سے بڑی تبدیلی ان کے اندر فیصلہ کرنے کی طاقت پیدا ہونا ہے نہ صرف یہ بلکہ وہ ان فیصلوں پر عمل درآمد بھی کروا سکتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ tabinda kokab
Image caption اپنے شہر واپس آ کر فرحین نے مدد کرنے کا فیصلہ کیا اور امدادی تنظیموں سے وابستہ ہو گئیں

فرحین رفیق

فرحین سماجی کارکن ہیں۔ وہ 2005 میں یونیورسٹی کی طالبہ تھیں۔ گھر سے دور اسلام آباد کے ہاسٹل میں گزرا وہ زلزلے کا دن اور پہلی رات انھیں آج بھی آبدیدہ کر دیتی ہے جب انھیں اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے زندہ ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا۔

انھیں کسی رشتہ دار نے بتایا کہ مظفرآباد میں ان کا مکان گر گیا ہے۔ ان کی والدہ اور ایک بہن زخمی ہیں تاہم باقی تمام گھر والے محفوظ ہیں۔ تین دن بعد ان کی اپنی بہن سے فون پر بات ہوئی۔

فرحین کا خاندان کسی طرح راولپنڈی پہنچا۔ فرحین بتاتی ہیں کہ جس حال میں اور جن کپڑوں میں انھوں نے اپنے گھر والوں کو دیکھا وہ انتہائی تکلیف دہ منظر تھا۔

اپنے شہر واپس آ کر فرحین نے لوگوں کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اور امدادی تنظیموں سے وابستہ ہو گئیں۔

انھوں نے کہا: ’باہر سے آ کر امدادی کام کرنے والوں کو دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ اگر غیر ہماری مدد کر سکتے ہیں تو ہم خود کیوں نہیں۔‘

’تھوڑی سی روشنی‘ کے نام سے انھوں نے ایک تنظیم بنائی جس میں اس کے شرکا پہلے اپنا جیب خرچ یا کمائیوں کا ایک حصہ مختص کرتے ہیں، اور آج بھی ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں۔

فرحین کہتی ہیں کہ زلزلے سے پہلے کی فرحین میں اور اب کی فرحین میں فرق یہ ہے کہ اب دردمندی زیادہ ہے۔

اسی بارے میں