آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے 10سال مکمل، دعائیہ تقریبات کا انعقاد

Image caption سب سے زیادہ متاثرہ عمارتوں میں مظفر آباد سٹی کی یونیورسٹی بھی شامل تھی

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقوں میں آنے والے تباہ کن زلزلے کو دس برس پورے ہوگئے ہیں۔

اس زلزلے سے 86 ہزار سے زائد افراد لقمۂ اجل بنے جبکہ اتنی ہی بڑی تعداد میں زخمی ہوئے تھے۔

’غم اب بھی زندہ ہے‘

زلزلے کی تباہی کی تصاویر

اس قدرتی سانحے کی ایک دہائی مکمل ہونے پر پاکستان میں تباہی سے متعلق آگاہی پیدا کرنے اور اس سے نمٹنے کے لیے تیاری سے متعلق عوامی شعور پھیلانے کے لیے آج قومی دن بھی منایا جا رہا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ان کا ملک قدرتی آفات سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

زلزلے سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کا دارالحکومت مظفر آباد اور وادی کاغان کا شہر بالا کوٹ سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔ ان کے علاوہ باغ، راولاکوٹ، وادی نیلم اور جہلم کے سینکڑوں دیہات تباہی اور بربادی کی تصویر بن گئے تھے۔

زلزلے کی 10 ویں برسی کی مرکزی تقریب مظفر آباد میں منعقد ہوئی جہاں جمعرات کو زلزلۃ آنے کے وقت یعنی صبح آٹھ بج کر 52 منٹ پر سائرن بجائے گئے، جس کے بعد ایک منٹ تک خاموشی اختیار کی گئی۔

Image caption پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں مختلف مقامات پر دعائیہ تقریبات معنقد ہو رہی ہیں

مظفر آباد میں یونیورسٹی گراؤنڈ میں ہلاک ہونے والوں کی یادگار کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم کے چوہدری عبدالمجید نے بھی تعزیتی تقریب میں شرکت کی۔اپنے خطاب میں وزیرِاعظم نے کہا کہ ’اگر کشمیر کے عوام زلزلے کے بعد ہمت نہ کرتے تو آج ہم اتنے کامیاب نہ ہوتے۔‘

وزیرِ اعظم چوہدری عبدالمجید نے یہ اعتراف بھی کیا کہ بحالی کا کام جس رفتار سے ہونا چاہیے تھا اس طرح ہوا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ایک لاکھ سے زائد بچے کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں۔‘

اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے قانون ساز اسمبلی کے وزیرِ خزانہ چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ گو کہ ہم اس سانحے میں سنبھلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں تاہم بین الاقوامی امداد کے وعدے مکمل نہیں ہوئے جن کی وجہ سے بحالی کے بعض منصوبے پوری طرح مکمل نہیں ہو پائے۔

انھوں نے بتایا کہ حکومت نے دو مقامات پر زلزلے کے متاثرین کے لیے سیٹلائٹ ٹاؤن بنائے ہیں اور ایک ٹاؤن لنگر پورہ کے مقام پر جبکہ دوسرا ٹھوٹھا کے مقام پر بنایا گیا۔

دس برس قبل زلزلے کے نتیجے میں پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی رہائشی عمارت مارگلہ ٹاور بھی زمین بوس ہوگئی تھی اور جمعرات کو اس جگہ بھی اس واقعے کے ہلاک شدگان کی یاد میں ایک دعائیہ تقریب منعقد کی گئی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اسی بارے میں